اسرائیل میں عام انتخابات مکمل ہو گئے اور ان کے نتائج بھی سامنے آ گئے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک بن کر ابھرا ہے‘ تاہم وہ حکومت سازی کے لیے درکار 61نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے 27نشستیں حاصل کیں‘ جبکہ پورے اتحاد کی نشستوں کی تعداد 53رہی‘ سادہ اکثریت سے آٹھ نشستیں کم۔ یہ نتیجہ 2022ء کے انتخابات کے مقابلے میں نیتن یاہو کے اتحاد کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے کیونکہ 2022ء کے انتخابات کے نتیجے میں اس اتحاد کے پاس 64نشستیں تھیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21نشستیں حاصل کیں جبکہ ان کے اتحادیوں سمیت اپوزیشن بلاک کے پاس 48نشستیں ہیں۔ اگر عرب اکثریتی آبادی کی نمائندہ جماعتیں تعاون پر آمادہ ہو جائیں تو آئزنکوٹ کے حکومت بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کو مجموعی طور پر 67نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
نیتن یاہو بھی عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اس راستے میں سیاسی اختلافات موجود ہیں۔ نیتن یاہو کی جانب سے عرب پارٹیوں پر قطر اور ترکیہ سے رقم لے کر انتخابات میں دھاندلی کر کے سیٹیں حاصل کرنے کے الزامات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے؛چنانچہ ایک قومی اتحاد کی حکومت کے قیام یا نئے انتخابات کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بات طے ہے کہ جو بھی ہو گا مشرقِ وسطی پر اس سیاسی تبدیلی کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میڈیا تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ اگر نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو غزہ‘ لبنان‘ ایران اور مغربی کنارے کے حوالے سے ان کی موجودہ سخت گیر پالیسیوں کا تسلسل دیکھنے کو مل سکتا ہے‘ لیکن اگر گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں نئی حکومت بنتی ہے تو فلسطین اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں سفارتی حکمتِ عملی کی تبدیلی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے‘ البتہ اسرائیل کی بنیادی سکیورٹی پالیسی میں فوری طور پر کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ اسرائیل میں حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو‘ یہ طے ہے کہ یہودیوں کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی۔ یہودیوں کی پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن (Protocols of the Elders of Zion) ایک معروف حکم نامہ یا تحریر ہے۔ یہ تحریر پہلی بار 1903ء میں روسی اخبار Znamyaمیں شائع ہوئی تھی اور 1905ء میں روسی مصنف سرگئی نیلس (Sergei Nilus) نے اسے اپنی کتاب میں شامل کیا تھا۔ اس کتاب میں 24پروٹوکولز یا نکات درج ہیں‘ جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہودی پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے اور حکومت کرنے کی خفیہ سازش میں مصروف ہیں۔ انہی پروٹوکولز کے تحت آج پوری دنیا کی کیا حالت ہے اور کس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل وزیراعظم کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں‘ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں‘ سبھی جانتے ہیں؛ چنانچہ یہ طے ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت تشکیل پانے کے بعد بھی گریٹر اسرائیل کے قیام کی تیاریوں کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ غزہ‘ مغربی کنارے اور فلسطینیوں پر ان کی اپنی سرزمین تنگ کرنے کا سلسلہ بھی دراز رہے گا۔ یہودیوں کی آباد کاری کے لیے فلسطینی علاقوں کی یہودی کٹنگ (چائنہ کٹنگ کے وزن پر) بھی رکے گی نہیں حالانکہ ترکیہ‘ مصر‘ پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کے مشترکہ اعلامیوں کے مطابق اسرائیلی قبضہ اور مغربی کنارے سمیت دیگر علاقوں میں یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع ہی خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ ایسے اعلامیوں سے اسرائیلی حکومت (نئی یا پرانی) کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی‘ نہ آئندہ رینگے گی۔ مغربی کنارے اور غزہ کی زمینوں پر قبضے‘ نئی یہودی بستیوں کی تعمیر اور اجتماعی سزاؤں پر مبنی اقدامات اسرائیلی ریاستی حکمت عملی کا حصہ رہے ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔ اسرائیل کے شام کو مزید برباد کرنے اور لبنان کو تاراج کرنے کا سلسلہ بھی نہیں تھمے گا۔ اسرائیل کی ایران‘ شام‘ لبنان اور خطے کے دیگر عسکری و سیاسی گروہوں کے خلاف پالیسی عسکری ٹکراؤ‘ فضائی حملوں اور سٹرٹیجک دباؤ پر مبنی ہے‘ جسے ایرانی حکام اور خطے کے بعض ممالک خطے کے امن کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اور عالمی برادری کے مطابق اسرائیلی حکومت کی موجودہ پالیسیاں آزاد فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے مکمل خاتمے کا سبب بن رہی ہیں۔ عالمی برادری کی یہ رائے اسرائیل کی دو ریاستی حل کو در خور اعتنا نہ سمجھنے کی روش کو نہ تبدیل کر پائی ہے نہ کر پائے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں قرار دیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیاں نسلی امتیاز اور جبر کے زمرے میں آتی ہیں‘ لیکن یہ رپورٹیں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف پالیسیوں کو تبدیل نہیں کر پائی ہیں‘ نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی نہیں کر پائیں گی۔
ایران کے ساتھ براہِ راست یا پراکسی جنگ اور خطے میں تہران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اسرائیل کی ترجیح رہی ہے‘ جبکہ سفارتی حل کے مواقع کو بارہا سیاسی اختلافات کی نذر کیا گیا‘ آئندہ بھی کیا جاتا رہے گا۔ اسرائیلی قیادت عسکری طاقت کے استعمال کو بنیادی ہتھکنڈا سمجھتی ہے اور قیادت کی تبدیلی اس سوچ میں تبدیلی کا سبب نہیں بن سکے گی۔ 2020ء کے ابراہیم معاہدوں (Abraham Accords) کے بعد سے اسرائیل کی خارجہ پالیسی خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو معمول پر لانے پر مرکوز رہی ہے۔ یہ جال آئندہ بھی بچھایا جاتا رہے گا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اسرائیلی حکام کی پالیسیوں کو غیر انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے‘ آئندہ بھی دیا جاتا رہے گا‘ لیکن جس طرح گزرے برسوں میں کچھ بھی نہیں ہوا‘ آئندہ برسوں میں بھی کچھ نہیں ہو گا‘ عالمی اداروں کے کوسنوں کے باوجود اسرائیل کے معاملات میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے والی۔
تو پھر اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر اتنا کیوں سر کھپانا؟ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ نظروں کے سامنے ہے‘ اسرائیلی قیادت کی پالیسیاں بھی یہودیوں کے منصوبے بھی۔ بی بی سی کی رپورٹ ہے کہ سابق امریکی صدور جارج ڈبلیو بش جونیئر اور باراک اوباما نے اپنے دورِ صدارت میں اسرائیل کے دباؤ کے باوجود ایران پر براہِ راست حملہ کرنے یا اسرائیل کو اس کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا‘ لیکن ٹرمپ اس جھانسے میں آ گئے اور ایران پر حملہ کر دیا اور ان کے اس فیصلے نے پوری دنیا کو اس وقت خلفشار میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اسرائیل اور عرب ممالک میں پائی جانے والی تلخیوں کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والے فلسطینیوں کے قتلِ عام کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ دنیا کو یہودیوں سے نہ ماضی میں خیر کی توقع تھی‘ نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔ ان پالیسیوں کے سامنے اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات اور ان کے نتائج ایک بے معنی اور ایک بودی سی سرگرمی کے سوا کچھ نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments