دو چیزوں میں دلچسپی تھی ایک سیاست‘ وہ بھی پرانی طرز کی اور دوسری صحافت جس قسم کی ہم جوانی میں آئے تو دیکھا کرتے تھے۔ اس سنہری دور میں ان دونوں برکات کا وہ حشر ہوا ہے کہ پیچھے کچھ نہیں رہا۔ نہ مزہ اب سیاست میں‘ اور صحافت کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ اتنی زندگی گزارنے کے بعد کوئی نئے کرتب سیکھنے سے تو ہم رہے۔ اس لیے عادتاً ہر صبح اخبارات کا مطالعہ ضرور ہوتا ہے لیکن اُن میں کوئی انداز چٹ پٹا رہا نہیں۔ اور جہاں تک سیاست کا تعلق ہے جو چہرے نظر آتے ہیں اُنہیں دیکھ کر ذہن پر تھکاوٹ سی چھا جاتی ہے۔ پھر یہی سوچ آتی ہے کہ نکلا جائے‘ اچھے مقامات کی سیر ہو جائے‘ کچھ شغل میلے کا چسکا ہو جائے۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کے انگریزی اخبارات میں فلور شوز کے اشتہار چھپتے تھے کہ فلاں محترمہ فلیٹیز لاہور یا کراچی کے کسی ہوٹل میں پرفارم کرنے بیروت‘ بنکاک یا منیلا سے آ رہی ہیں۔ اب اشتہارات رہ گئے ہیں (ن) لیگ کی ترقی کے کاموں کے یا رہائشی سکیموں کے۔ ان میں شغل میلے کا نکتہ کون سا نکلتا ہے؟
مدت ہوئی کہ وعظ و نصیحت کی باتوں سے چڑ ہونے لگی۔ ملک کا مستقبل کیا ہو گا‘ آئندہ کیا ہونا چاہیے‘ ایسی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ اور تو کچھ سیکھا نہیں لیکن جو زندگی گزری ہے اُس سے یہ جانا کہ یہاں حالات ایسے ہی رہنے ہیں اور مسلمانوں کا مجموعی حال بھی وہی رہے گا جو کہ آج کل کی جنگوں کے تناظر میں نظر آتا ہے۔ جسے ترقی کہتے ہیں اُس کی تقسیم جب ہوئی تو لگتا یہی ہے کہ آسمانوں کا فیصلہ تھا کہ ترقی دوسری اقوام کے حصے میں آئے۔ برادر ممالک کو تیل اور گیس کے ذخائر ضرور عطا ہوئے لیکن حالیہ واقعات نے بتا دیا ہے کہ صرف تیل ہو‘ بغیر کسی دیگر ہنر کے تو خواری مقدر کا حصہ رہتی ہے۔ تیل اور گیس اتنے ہی بڑے ہتھیار ہوتے تو برادر ممالک کا حال یہ نہ ہوتا۔ جہاں تک ہم ہیں‘ حالت یہاں اور بھی پتلی ہے‘ نہ کوئی صلاحیت نہ کوئی تیل کے ذخائر۔ اس لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ گو اتنا اعزاز تو ہمارا ہے کہ کہیں دور کا نکتہ کھینچ کے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ اور کچھ نہیں ہمارا پروفائل تو اونچا ہو گیا ہے۔ حیرانی ہے کہ کسی چوراہے پر اس پروفائل کا ابھی تک کوئی مجسمہ تعمیر نہیں ہوا۔
سیر سپاٹے کے زمرے میں ایک خیال تو آتا ہے کہ جہاں ایرانی حملوں کے نتیجے میں دبئی کے ساتھ اچھا نہیں ہوا کیا پتا ثقافتی مشاغل کے نرخ نیچے آ گئے ہوں۔ بڑے ہوٹلوں کا تو معلوم ہے کہ ویرانی چھائی ہوئی ہے لیکن ان بڑے ہوٹلوں میں ثقافتی مشاغل تو عروج پر ہوا کرتے تھے۔ اُن کا کیا بنا‘ اہلِ ثقافت وہیں ہیں یا کوچ کر گئے؟ ثقافت کے میدان کے حوالے سے بہت بڑی ہجرت لاہور سے دبئی ہوئی تھی۔ کوئی واپس کی ہجرت بھی ہو رہی ہے یا ثقافت کے علمبرداروں نے اپنے خیمے وہیں لگا رکھے ہیں؟ لاہور کی معیشت کا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس میں بہتری تب ہی آئے جب ہندوستان کا بارڈر کھلے اور وہاں سے لوگ آنے لگیں اور پرانی رونقیں بحال ہوں‘ کچھ چہل پہل پھر سے شروع ہو جائے۔
اگلے روز نیٹ پھرولتے ہندوستانی پنجاب کی شادیوں کے بارے میں کچھ جاننا چاہا۔ کیا شغل اُن میں ہوتا ہے اور کیسا کیسا شغل کا سامان۔ ان نیک کاموں میں خواتین بھی برابر کی شریک۔ ظاہر ہے اونچی دیواروں کے پیچھے شادی بیاہ کی تقریبات میں ایسا شغل میلہ یہاں بھی چلتا ہو گا لیکن بھاری جیبوں والوں پر یہ بات صادق آتی ہے۔ عام شادیوں میں بے ہنگم خرچے کے باوجود ایک اُداسی چھائی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ہم چھوٹے شہر والوں کا حال تو کچھ رہتا ہی نہیں‘ ایک طرف مرد اور خواتین کہیں گہرے پردوں کے پیچھے۔ بس کھانے کا انتظار ہوتا ہے اور پھر سماں کچھ یوں بندھتا ہے جیسے کوئی تاتاری فوج کی اچانک آمد ہو۔ جا کے دیکھ لیجئے انٹرنیٹ پر کہ بارڈر کے اُس پار شادیاں کس انداز سے ہوتی ہیں۔ عام سے لوگ بھی خوب مستی میں ہوتے ہیں۔ ہم جو کم از کم سیدھی راہ پر چلنے کا شائبہ دیتے ہیں‘ ہمارے نصیبوں میں بوریت کچھ زیادہ ہی لکھی گئی ہے۔
پر زیادہ رونا نہیں چاہیے۔ فضول قدغنوں کے باوجود مملکتِ اسلامیہ کے اپنے مزے ہیں۔ اخبارات کے حوالے سے پڑھا کچھ زیادہ تو نہیں جاتا لیکن چند لیڈر اور وزیر ضرور ہیں جن کی تصویریں دیکھتے ہی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ نام کیا لینا پر کئی عدد ایسے فنکار وزرا ہیں۔ شاید کسی ایسے صاحب کے بارے میں ہی حضرت نعیم بخاری نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ میں میرٹ پر کام چلتا تو یہ وزیر لاہور ریلوے سٹیشن کے باہر سانڈے کا تیل بیچ رہے ہوتے۔ فارم 47 کا ذکر ایک تو کہانیوں کی زینت ہے لیکن ہم اُن کرشمات کے عینی شاہد ہیں۔ فارم 47کا ہم نے محض سنا نہیں‘ ہم پہ فارم 47 گزرا ہے۔ پھر جب اس کیفیت سے پیدا ہونے والے حکمرانی کے سپوتوں کو دیکھتے ہیں تو خدا کی بے نیازی کا یقین ہو جاتا ہے۔
اور پھر اَللے تللے‘ آنیاں جانیاں‘ نہ ختم ہونے والے بیرونی دورے۔ سیلوٹ کرنا پڑتا ہے محترم وزیراعظم کو‘ 14 ستمبر کو نیویارک کیلئے نکلے تھے اور اب کہیں واپس آئے ہیں۔ نیویارک سے پہلے دو تین روزہ لندن میں قیام‘ نیویارک سے واپسی پر لندن میں پھر اتنا ہی قیام۔ اتنی تھکاوٹ کے بعد آرام تو درکار ہوتا ہے۔ بس موجیں لگی ہوئی ہیں۔ اور اگر آگ کے دریا بہہ رہے ہیں مغربی صوبوں میں تو مملکتوں کے معاملات میں ایسا ہوتا ہے۔ زمینی حالات کیا ہیں اور اندازِ حکمرانی یہاں کیسے چل رہی ہے ان دونوں عوامل میں فرق نرالا ہے۔ لگتا ہے بیک وقت دو متضاد کیفیتیں وطنِ عزیز میں کارفرما ہیں۔ ایک جو گولیوں اور بارود کی گھن گرج میں مغربی صوبوں میں جو حالت ہے اور دوسری جو کیفیت یہاں اعلیٰ سیاست کی ہے۔ مولا کے رنگ ہیں۔
اس لیے کب سے کہہ رہے ہیں چھوڑیں ان جھمیلوں کو۔ یہاں ایسا ہی چلنا ہے۔ اپنی خیریت کو دیکھیں‘ بس جیب میں چند سکوں کی گنجائش ہو۔ دال ساگ کا بندوبست ہو جائے اس سے زیادہ نہیں۔ بھادوں کا مہینہ بیت چکا‘ اَسوج کے پہلے ایام ہیں‘ شامیں اچھی ہو رہی ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی ان حالات میں بھی لوازماتِ شب تک رسائی ممکن ہے۔ آسمان بھی کیسے مہربان ہے ایسے لوگوں پر کہ وحشت کا سماں ہر اطراف بندھا ہو اور تسکینِ قلب کا ذریعہ ہاتھ آئے۔ نہیں تو طالبان کے افغانستان کا حال یہاں ہوتا تو عاشقانِ نامراد کہاں جاتے۔ کس دیوار میں سر مارتے۔ لہٰذا جو ہے جتنا بھی ہے اُس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ناکوں اور پولیس کی کارستانیوں کے باوجود جو کچھ ہے غنیمت سمجھیں۔
اس دھرتی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیشہ ایسی نہ تھی جیسے اب نظر آتی ہے۔ مرحوم مولانا کوثر نیازی کہا کرتے تھے کہ یہ گناہگار مسلمانوں کی سرزمین ہے۔ مذہب سے لگاؤ آخری حدوں تک موجود ہے لیکن روزمرہ کی زندگی میں لغزش اور تھوڑی سی بے راہ روی کی گنجائش رکھنا‘ تاریخی طور پر اس معاشرے کا منفرد پہلو رہا ہے۔ ضیاالحق جیسے لوگوں نے اس خصوصیت کو مٹانا چاہا لیکن اس معاشرے کا اصل رنگ وہی ہے جو آٹھ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔ جو کلچر یہاں کا بنا مغلوں کے دور میں اپنے عروج کو پہنچا۔ ہم اُس کلچر کی پیداوار ہیں۔ کیا ہم پر زور زبردستی کے نظریات یہاں ٹھونسنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ یہاں کے تاریخی مزاج کو تو جانیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments