"AYA" (space) message & send to 7575

کرپشن اب کوئی موضوع نہیں رہا

یہ روٹین کا کام بن چکا ہے۔ اس ریاست کا ہر باسی جانتا ہے کہ حضرت قائداعظم کی تصویر کے بغیر یہاں کوئی کام نہیں ہوتا۔ لیکن نشانہ کہیں صحیح بیٹھے تو حساسیت بھڑک اُٹھتی ہے۔ چوہدری سالک حسین نے اپنے چچا چوہدری پرویز الٰہی کی پنجاب حکومت کی کیا تعریف کی اور آج کل رائج بے ضابطگیوں کی طرف کیا اشارہ کیا کہ پنجاب سرکار سیخ پا ہو گئی۔ چوہدری سالک پر پانچ ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ ٹھوک دیا‘ یعنی جن کو معاملے کا نہیں پتا تھا ان کی بھی جانکاری ہو گئی۔ لیکن ایسی انوکھی بات کون سی کہی‘ کامن نالج ہے کہ پیسے کا لین دین اور کچھ دے کے کام کروانا یہی ہماری مملکت کا دستور ہے۔ ہم فون کہیں کریں تو سُن لیا جاتا ہے‘ آگے سے کچھ حیا بھی کرتے ہیں لیکن سائل بھی سمجھتا ہے کہ کام ہونا ہے تو کچھ دے کر۔ فون ہم کر دیتے ہیں آگے سے سودا سائل خود طے کر لیتا ہے۔
ہمارے دوست سابق سینئر پولیس افسر ذوالفقار چیمہ نے کیا خوب بات کہی کہ ہم سمجھتے تھے کہ اعلیٰ سروسوں میں خواتین آئیں گی تو بہتری ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں تو خواتین افسر مردوں سے بھی آگے نکل گئی ہیں۔ چکوال میں ایک سابقہ افسر کے میک اَپ کے چرچے اب تک مشہور ہیں۔ کوئی لیزر ٹریٹمنٹ کرواتی تھیں جس کا پتا نہیں ہر ہفتے کتنا خرچہ ہوتا۔ ایسی باتیں پہلے نہیں سنی جاتی تھیں۔ اب ذوالفقار چیمہ والی بات ہے کہ ایسی باتیں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر چیز بیان نہیں کی جا سکتی لیکن چکوال میں ہی لین دین کی ایسی داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک جاننے والے کے حوالے سے معلوم ہوا کہ ایک قبضے کے سلسلے میں ذرا تھوڑی سی شیرینی پیش ہوئی تو نوٹ جوتے والے ڈبے میں رکھے گئے۔ راوی سے پوچھا کہ لینے میں کوئی ہچکچاہٹ تو نہیں ہوئی؟ بالکل نہیں‘ اُنہوں نے کہا۔
کرپشن کی بات نہیں لیکن نالائقی کا نکتہ بنتا ہے کہ چکوال کے چھپڑ بازار کی جو تزئین و آرائش ہوئی ہے اور جس پر لاگت کوئی 25‘26 کروڑ آئی ہے اس ضمن میں بازار میں بھاری لوہے کے جنگلے یا دروازے لگائے گئے ہیں۔ لوہا اتنا ہے کہ واہ آرڈیننس فیکٹری میں بھیجیں تو کئی ٹینک بن جائیں۔ کوئی پوچھے نیسپاک سے‘ جس نے ڈیزائن کیا‘ اور چکوال کی ضلعی انتظامیہ سے جس نے کام کی نگرانی کی‘ کہ ان گیٹوں کی یوٹیلیٹی یا مصرف کیا ہے؟ اتنی بھاری رقم سے یہ جو کباڑ کھڑا کیا گیا ہے اس کا کوئی مقصد بھی تو ہو۔ خوامخواہ دکانوں کا فرنٹ چھپا دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ والے پڑھے لکھے لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ کوئی استھیٹک (Aesthetic) یا آرکیٹیکچرل (Architectural) سینس تو ہونی چاہیے۔ کفایت شعاری کی کوئی مہم چلے تو اس لوہے کو اکھاڑ کر بیچ دیا جائے‘ یہ بہتر ہو گا۔ لاہور سے کوئی افسر آئے‘ اس فضول کے کام کا جائزہ لے اور بتائے ان گیٹوں کا فائدہ کیا ہے۔
کھلے آٹے کا ریٹ پنجاب کے بازاروں میں 150روپے فی کلو تک پہنچا ہوا ہے۔ گندم کی خاطر خواہ پالیسی آپ سے نہ بنی۔ گندم کا ذخیرہ جو ہونا چاہیے آپ کے پاس نہیں ہے۔ اس اعلیٰ کارکردگی کے پیش نظر آپ کو گندم درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔ پنجاب جو ہندوستان میں گندم کا ذخیرہ سمجھا جاتا تھا‘ اس میں آٹے کے حصول کی یہ حالت ہو تو پیچھے آپ کی حکمرانی کیا رہ جاتی ہے؟ غریب آدمی آٹے کو ترسے یا لاہور میںمنعقدہ سرکاری میٹنگوںکی تصویروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ عجیب تماشا لگا ہوا ہے‘ پرانے محکموں سے کام چلا نہیں سکتے‘ نت نئے محکمے بنائے جا رہے ہیں۔ سی سی ڈی کے نرالے مقابلوںکے بعد تو جرائم کا پنجاب سے خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا کیا ہوا ہے؟
بہرحال پوچھنے والی بات ہے کہ چوہدری سالک نے بات تو ٹھیک کی لیکن انہیں کیا ہوا کہ چچا جان‘ جن سے ان کے تعلقات اتنے اچھے نہ تھے‘ ان کی یاد انہیں اس وقت آئی۔ ساتھ ہی موجودہ پنجاب حکومت کے بارے میں کچھ کہہ گئے۔ پنجاب سرکار کو ان کا یہ تبصرہ اچھا نہیں لگا۔ سالک کو اکیلا نہ دیکھا جائے‘ ان کے تعلقات ادھر اُدھر ہیں‘ وزیر داخلہ سے بھی کچھ ناطہ بنتا ہے۔ ہونا میرے خیال میں کچھ نہیں لیکن جہاں فارم 47کی مہر لگی ہو یعنی جو کچھ آپ اس وقت ہیں وہ اوروں کی مرہونِ منت ہو تو چھوٹی سی بات سے بھی دھڑکا لگ جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ پھر وہ جہاز والی کہانی‘ کمبخت ایسی کہانی کہ کہیں جاتی نہیں۔ کچھ اور بات بھی کی جائے تو بیچ میں آ جاتی ہے۔ ویسے جہاں لوٹ مار کا معیار اتنا سکہ بند ہو وہاں 10‘ 11ارب روپوں کا جہاز پر لگ جانا کوئی اتنا بڑا واقعہ نہیں۔ مسئلہ البتہ اتنا ہے کہ جہاز کی تصویر سامنے آئے تو پھر اخلاقیات کا کوئی درس آپ دے نہیں سکتے۔ کفایت شعاری کی کوئی نصیحت آپ کے لبوں پر جچتی نہیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے ہم سا کوئی بادہ خواری کے نقصانات پر نصیحت کرے۔ سننے والے کی ہنسی چھوٹ جائے گی۔
یہاں کے معاملات تو چلتے رہیں گے‘ ہمارے فیورٹ صدر کے ساتھ اچھی نہیں ہوئی۔ وہ پھینٹی پڑی مڈ ٹرم انتخابات میں کہ کئی سیاسی ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ نتائج اپنے گاؤں بھگوال میں سنے اور جھومنے کی کیفیت ایسی بنی کہ پاک چین دوستی کی عظیم نشانی کو ایک طرف رکھ کر سکاٹ لینڈ کی یاد آئی۔ نیویارک ٹائمز میں بڑی عمدہ رپورٹنگ ہوئی ہے‘ صدر ٹرمپ کی حالت پر جب نتائج آنے لگے۔ یہ پوچھا کہ اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو کیا ہوتا۔ لیکن حملہ آپ نے کیا اور جنگ سے نکل نہ سکے۔ موقع جب امریکی عوام کو ملا تو آپ کی دھلائی ہو گئی۔ بات موقعے کی ہوتی ہے۔ حکمرانی کے جو دعوے یہاں کیے جاتے ہیں کوئی موقع تو آئے پھر دیکھا جائے کون کتنے پانی میں ہے۔
کرپشن پر دو تین جملے ہی ادا ہوئے اور پنجاب سرکار سہہ نہ سکی۔ مولانا فضل الرحمن تو بہت آگے کو جا رہے ہیں۔ ماننا پڑے گا الفاظ کی ادائیگی پر کمال رکھتے ہیں۔ اظہار میں وہ کاٹ کہ باتیں ان کی چبھ رہی ہیں اور برداشت نہیں ہو رہیں۔ اور مولانا ہیں کہ یہ نیا بیانیہ بیان کیے جا رہے ہیں۔ وقت کی بھی بات ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف بولتے تھے تو بلا کے مقرر تب بھی تھے لیکن بات میں اتنا اثر نہ ہوتا۔ آج کے ماحول میں جب اور کوئی اس اندا ز سے نہیں بول رہا تو مولانا کی بات میں عجیب سا اثر پیدا ہو گیا ہے۔ سرکاری ہتھکنڈے البتہ وہی پرانے ہیں۔ سی ڈی اے سے کوئی نوٹس آ گئے ہیں۔ واللہ‘ فلم کی سکرپٹ میں تھوڑی سی تبدیلی تو لے آئیں۔ مولانا کو جواب دینا ہے تو دلائل سے دیں۔ لیکن اپنے پلے کچھ بات ہو تو دلائل بنیں۔ جواب دینے والے وزرا صاحبان کا معیار کچھ ایسا کہ بات کچھ بنتی نہیں۔
اوپر سے بلاول بھٹو نے جو کہا‘ اور میں پڑھ کر تھوڑا حیران سا ہو گیا‘ کہ حکومت ہر ایک سے نہ لڑے۔ امریکہ کا حوالہ دیا کہ ایران پر حملہ کیا اور وہیں پھنسا ہوا ہے۔ یہاں کے حالات سے بات جوڑی کہ ہر محاذ پر الجھے رہنا ہے تو اسی میں پھنسے رہیں گے۔ عمر دیکھیں اور بات کیسی کر دی۔ لیکن جہاں ٹر مپ اور اس کی انتظامیہ نہ سمجھی‘ امریکہ میں دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے جید عالم اور دانشور نہ سمجھے‘ یہاں کس نے سمجھنا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...