"AYA" (space) message & send to 7575

سافٹ ویئر کا اپڈیٹ ہونا

تہران سفارتکاری کے حوالے سے ہمارے لبوں سے کچھ تعریف کے جملے ادا کیے گئے تو یار لوگوں نے پھبتیاں کَسیں کہ سافٹ ویئر اپڈیٹ ہو گیا ہے۔ ایسی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہیے‘ بہتری اسی میں ہے کہ انہیں سہہ لیا جائے۔ اور اگر شرمندگی ہو تو اسے پی لیا جائے۔ یہ قصہ تو ہو گیا۔ پھبتیوں کے کچھ روز بعد اسلام آباد ایک سفارتی دعوت میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اچھی محفل رہی۔ ایسے موقعوں پر ہم سے بے اعتدالی ہو جاتی ہے‘ وہ بھی ہوئی۔ لیکن بلوچستان سے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے اور ان سے جو گفتگو ہوئی اس سے وہاں کی صورتحال کا سُن کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ تفصیل میں کیا جائیں کیونکہ ایسی باتوں کی تفصیل شجرۂ ممنوعہ کے زمرے میں آتی ہے۔ صورتحال جو ہے سو ہے لیکن اس کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے باقی تین صوبے بے خبر ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت کچھ آتا ہے لیکن وہاں پرابلم یہ پیدا ہوتی ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ خبریں کتنی صحیح اور کتنی ان میں مبالغے کی ملاوٹ ہے۔ سرکاری بیانیے پر جایئے تو وہ ایک الگ داستان ہے۔ یا یوں سمجھا جائے کہ سرکاری بیانیے کی الگ ہی دنیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بے خبری کی اس صورتحال سے حاصل کیا کرنا ہے؟ حقیقت اگر ایک روپ دھارے اور آپ اس سے انکاری ہوں تو کیا بدل جاتی ہے؟ ایک طرف سفارتکاری کے بڑے عزائم اور حال ہمارا ایسا کہ آنکھیں بند رکھنی ہیں اور لبوں پر حقیقت کو آنے نہیں دینا۔
یہ ایک اضطراب کی کیفیت ہے اور تکلیف دہ‘ اس لیے کہ اجتماعی طور پر ریاستِ پاکستان پہلے بھی ایسے حالات سے گزری ہے۔ 1970-71ء کا ذکر کیا کریں کیونکہ ان حالات اور بلوچستان کے حالات میں مماثلت کا کوئی نکتہ بیان کیا جائے تو وہ ناگوار ہو گا۔ اضطراب کا عالم پھر دیکھیے کہ پتا ہو کہ یہ کچھ ہو رہا ہے اور لب ہل نہ سکیں۔ سوشل میڈیا پر جائیں اور وہاں کچھ کہا جائے تو یہ راستہ بھی خطرے سے خالی نہیں۔ میں ابھی تک پوری طرح نہیں جان سکا کہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے کیا کیاکہ ردِعمل اتنا سخت اور بے لچک ہے۔ قید پہلے کاٹ رہے ہیں اور تازہ ترین عدالتی فیصلے کے مطابق ایک اور کیس میں ان کو قید سنا دی گئی ہے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ ہر چیز بند کر دی جائے اور سرکار پھر میڈیا چلائے اور ہم جیسے نکمے جو کسی اور کام کے قابل نہیں انہیں پھر اس سرکاری میڈیا میں کوئی نوکری مل جائے۔ پہلے ادوار میں پی ٹی وی ہوتا تھا اور بس وہی ہوتا تھا۔ نہ پرائیویٹ چینل نہ سوشل میڈیا۔ اس صورتحال میں اچھی بات یہ تھی کہ ہم جیسے پھر اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں میں پہنچ جاتے تھے۔ رپورٹنگ نہ بھی کرتے تو حال احوال دیکھ آتے۔ آج کل پوری بات جب کہنا مشکل ہے تو سوشل میڈیا پر جاتے ہیں‘ بہت کچھ کی جانکاری ہوتی ہے لیکن بہت بکواس بھی سننی اور دیکھنی پڑتی ہے۔ ایلگوریتھم کی حاکمیت ایسی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر گئے تو بے تکی باتیں سامنے آنے لگتی ہیں اور چونکہ ان میں کشش ہوتی ہے تو آپ دیکھتے ہی جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے جہاں جانکاری ہوتی ہے وہاں دماغ شل بھی ہو جاتے ہیں۔ دو گھنٹے آپ یہ بکواس دیکھتے رہیں تو ذہن کی عجیب سی کیفیت ہو جاتی ہے۔
اس وقت جو صورتحال ہے اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ بہتری کا پہلو کوئی نظر نہیں آتا۔ سرکاری کنٹرول تو ہے لیکن رویے بے لچک ہیں۔ ہر جگہ پالیسی یہی ہے کہ زور سے کام لینا ہے کسی سیاسی زاویے کو نہیں دیکھنا۔ یہ رویہ بلوچستان میں ہے یہی اپروچ سیاسی میدان میں ہے۔ اس صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے؟ آثار تو نظر نہیں آتے۔ رویہ بے لچک اور صورتحال ہر جگہ دیکھیں خراب سے کہیں اور جا رہی ہے۔ دیکھیں میں نے خراب سے خراب تر نہیں کہا کیونکہ سمجھا کہ خراب تر کہیں زیادہ بھاری نہ ہو جائے۔
پھر بتائیں کیا کریں۔ قصیدے پڑھیں؟ واہ واہ کرتے رہیں؟ گورنر راج خیبرپختونخوا میں لگے تو تعریف کے ڈونگرے برسائیں۔ بلوچستان کے بارے میں لب کشائی کا اصول اپناتے رہیں۔ سرکاری بیانیے پر تالیاں بجائیں۔ پھر ہم جو پنجاب کے رہنے والے ہیں ہماری نفسیات ہی الگ ہے۔ یہاں کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ جو چورن سرکار بیچتی ہے‘ سرکار جیسی بھی ہو‘ اُسی کو یہاں کے باسی سچ سمجھتے ہیں۔ بلوچستان میں کوئی دوسری بات سننے کے لیے یہاں کے لوگ تیار نہیں ہوتے۔ جو لیبل بھی بلوچستان کی بدامنی پر چسپاں کیا جائے پنجاب کے باسیوں کے لیے وہی قابلِ قبول ہو گا۔ باقی پاکستان کو چھوڑیں‘ جو لوگ اسمبلیوں اور سینیٹ میں بیٹھے ہیں وہ بھی کبھی سچ کا ساتھ دے دیا کریں۔ بلوچستان کے بارے میں وہ ہی کچھ بتا دیا کریں۔ لیکن کوئی ایسا حوالہ دیا جا سکتا ہے کہ وہاں کی اصل صورتحال کو قوم کے سامنے پیش کیا گیا؟
پھر یہی رہ جاتا ہے کہ شامیں کچھ اس انداز سے گزریں کہ سلطنتِ مغلیہ ہر چیز سے بے خبر ہو جائے۔ نادر شاہ کی فوج آ رہی ہو اور اس کا احساس نہ ہو۔ بنگال سے انگریز آہستہ سے بڑھ رہے ہوں اور ان کی عیاری کی سمجھ نہ ہو۔ لیکن شاموں کا ذکر کریں تو اہلِ نصیحت کا پارا چڑھنے لگتا ہے کہ یہ کیا بکواس ہے۔ خیبرپختونخوا کے بہت سے اضلاع میں اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور یہی لگتا ہے کہ اہلِ پنجاب مزے کی نیند سو رہے ہیں۔
یہ تماشا البتہ قومی اسمبلی میں خوب رہا کہ مولانا فضل الرحمن نے چند جملے ہی ادا کیے اور کیا وزیر دفاع اور کیا وزیر داخلہ دونوں ہی سیخ پا ہو گئے۔ مولانا نے یہی کہا تھا کہ دفاعی بیٹھک تہران میں منعقد ہو رہی ہو اور وزیر دفاع یہاں بیٹھے ہوں۔ اور پھر کہا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ ہنس کے کہا‘ تلخی سے نہیں لیکن الفاظ کا تیر کچھ ایسے لگا کہ اگلے روز وزیر دفاع تاویلیں دینے کھڑے ہو گئے۔ مولانا پر حملے بھی کیے لیکن سچ پوچھیے بات نہ بنی۔ مولانا کا ایک اپنا انداز ہے‘ الفاظ اور ان کی ادائیگی کے بادشاہ ہیں۔ چند جملے کہے اور آگے سے لمبی تقریریں لیکن جیسے عرض کیا کچھ بات نہ بنی۔ حالت اربابِ سیاست کی یہ ہے کہ چند جملوں کو سہہ نہیں سکتے اور چلے ہیں قوم کی تقدیر بدلنے۔ کیسے الیکشن ہوا کیسے نہ ہوا‘ فارم 47کے کرشمات کیا تھے‘ یہ بحث پرانی ہو چکی۔ فکر کریں بلوچستان اور کے پی کے کی۔ عام لوگوں پر مقدمات قائم کرنا آسان ہے۔ ان شورش زدہ علاقوں میں مقدمات کس پر قائم ہوں گے؟وہاں کی حالت یہ کہ ڈپٹی کمشنر نقل و حمل میں آزاد نہیں۔ کمشنر اغوا ہو جاتے ہیں۔ اور تو اور خان قلات کا بیٹا محافظوں سمیت اغوا ہو گیا۔ حضور‘ کچھ بات سمجھ آ رہی ہے؟ بلوچستان میں سرداروں والا زمانہ گیا۔ اب پڑھے لکھے لوگ یہ کر رہے ہیں۔شورش کی نوعیت اور ہو گئی ہے۔ حالات بدلے ہوئے ہیں‘ رویے وہی پرانے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...