"AYA" (space) message & send to 7575

بھارتی سرپرستی میں اتنا کچھ

سچ پوچھیں تو بھارت کا ذکر سن سن کر ناگواری سی ہوتی ہے۔ کیادشمن کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ ہر طرف سے ہم پر حملے کر ے ؟ ان حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہو رہا تو یہی سمجھا جائے گا کہ ابھی تک جو کارروائیاں ہورہی ہیں ناکافی یا نامکمل ہیں۔ خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج‘ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان ‘ دونوں شورشوں کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے۔ جیسا کہ حالیہ دنوں میں دیکھاگیا‘ آزاد کشمیر کے حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں اور وہاں بھی اشارے کنائیوں میں یہی بات کہی جاتی ہے کہ اس شورش کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔ ظاہر ہے چین کا ہاتھ تو ہو نہیں سکتا کیونکہ ہمارا دوست ہے‘ دوستی بھی ایسی کہ پہاڑوں سے اونچی اور سمندروں سے گہری۔ پھر رہ جاتا ہے بھارت۔ یہ صورت حال تو پھر بہت پیچیدہ بنتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تو گڑ بڑ ہے ہی اس کے ساتھ بھارت ہمارے کشمیر میں بھی گڑبڑ کروا رہاہے۔
تو سوال پھر پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ سرکاری بریفنگز ہوتی ہیں تو کچھ حوصلے قائم ہو تے ہیں کہ بھارتی دہشت گردی کے خلاف ہزاروں آپریشن ہورہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں کوئی بڑی کمی نہیں آ رہی۔ آئے روز کچھ نہ کچھ خیبرپختونخوا میں ہو جاتا ہے اور یہی سلسلہ بلوچستان میں بھی جاری ہے۔ دو تین روز پہلے گوادر میں جو کچھ ہوا‘ تشویش ناک صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کرا رہا ہے تو اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ دشمن کی ریشہ دوانیاں کتنی پھیل چکی ہیں۔خیال تھا کہ معرکۂ حق کے زخموں کو چاٹ کر بھارت کے ہوش ٹھکانے آ گئے ہوں گے لیکن دہشت گردی کی داستان سے یہی نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ بھارت نے ابھی سبق کچھ ٹھیک نہیں سیکھا۔
سوال یہ بھی ہے کہ بھارت کی ریشہ دوانیاں اگر اس حد کو پہنچ چکی ہیں تو ہم ان کا توڑ کیوں نہیں کر سکے؟ہمیںاس پر نازہے اور دنیا بھی مانتی ہے کہ ہماری دفاعی صلاحیتیں بھرپور ہیں۔ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی ہمارے پاس ہے۔ہمارے میزائلوں کی پہنچ ہندوستان کے اگلے کونے تک جاتی ہے۔ معرکۂ حق میں ایئرفورس اور ہوابازوں نے ثابت کر دیا کہ ہماری فضائیں محفوظ ہیں اور ہر اعتبار سے بھارت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ایٹمی قوت بھی ہم ہیں اور یہ صلاحیت دنیا کے سامنے آشکار ہے کہ اگر بھارت کے پاس ایٹمی قوت ہے تو ہمارے پاس بھی ایٹمی صلاحیت اتنی ہے کہ آدھے سے زیادہ ہندوستان کو دو چار بار تباہ کر سکتے ہیں۔ جہاں اس قسم کی ڈیٹرنس (Deterrence) موجود ہو تو پھر غیر روایتی حملے کا خطرہ نہیں رہتا۔ تو پھر جہاں ہندوستان پاکستان سرحد پر ایک قسم کا توازن موجود ہے ‘ ہندوستان ایسے چانکیا (Chanakaya) کی چال چل رہا ہے کہ خیبر پختونخوا پر براستہ افغانستان حملے ہو رہے ہیں اور بلوچستان میں براستہ افغانستان یا شاید ایران بھی ‘حملے جاری ہیں اور تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔
دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے‘ ٹانک میں یا وزیرستان کے کسی مقام پر‘ یا بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں تو اس میں بھارتی کردار کا ذکرآتا ہے۔مگر اس سے کیا یہ تاثر نہیں ملتا کہ ہمارا دشمن بہت کچھ کر سکتا ہے جبکہ ہماری جوابی صلاحیتیں وہ نہیں جو ہونی چاہئیں؟ یہ کوئی اچھا تاثر تو نہیں ہے جس کا پرچار کیا جائے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے ضمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کے عوامل بیرونی تو یقینا ہوں گے لیکن کسی حد تک اندرونی بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دونوں مغربی صوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے کہ یہاں ہو کیا رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سے فیکٹر ہیں۔بھارت کا اتنا ذکر پاکستانی ذہنوں میں کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں کرتا۔ ایک عام پاکستانی سے بات کی جائے تو وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ پاکستان اتنا بے بس ہے کہ اُس کے اتنے وسیع علاقوں میں بھارت جو چاہے شورش برپا کر سکتاہے۔ یہ ایساہی ہے کہ بھارتی حکومت آج کہہ اُٹھے کہ دلی اور دیگر شہروں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔ اگرا یسا کوئی کہے تو ہندوستان میں لوگ کہیں گے کہ باہر والے اگر یہاں تک پہنچ سکتے ہیں تو آپ کیا جھک مار رہے ہیں۔
ایک طرف ہم سعودی عرب کے دفاع کے لیے تیار ہیںاور دوسری طرف ہر بات پر سرحد پار دشمن کا چرچا ۔ہو سکتا ہے کہ کوئی اس رائے سے اتفاق نہ کرے مگریہ نکتہ جس پر بات ہو رہی ہے اپنی نوعیت کا ہے۔ یعنی بھارت کا ذکر جتناہوگا بھارت والے اسے اپنی تعریف سمجھیں گے۔ یہ کہنا مقصود نہیں کہ ہندوستان معصوم ہے اور دہشت گردی کی آگ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے نہیں بھڑکا رہا۔ ہمارے تعلقات کچھ ایسے رہے ہیں کہ مداخلت کے مواقع ڈھونڈے جاتے ہیں۔ لیکن ایسی بات ہرگز نہیں کہ را ہیڈکوارٹر دلی میں بیٹھے لوگ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہر پرزے کو ہلا سکتے ہیں۔ اگر یہاں سوچ یہ ہے کہ بھارت ایسا کر سکتا ہے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیا یہ تاثر ہم دینا چاہتے ہیں؟
پھر ہم کیا مکہ دفاعی معاہدے کو حرکت میں لائیں گے کہ بھارت کی طرف سے یہ کچھ پاکستان کے خلاف ہو رہا ہے؟ واضح بات سامنے ہے کہ بہت سے محاذ کھلے ہوئے ہیں اور باامر مجبوری ہماری صلاحیتیں یکجا ہونے کی بجائے پھیلی ہوئی ہیں۔ دونوں مغربی صوبوں میں صورتحال سنگین ہے۔ کشمیر کے حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں تھے۔ اندرونی سیاسی حالات بھی قابلِ رشک نہیں۔ معاشی تنگ دستی علیحدہ داستان ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کمزور ریاست ہے۔ بالکل نہیں ہے۔ لیکن زیادہ محاذ کھلے ہوں تو امریکہ جیسی طاقت کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ امریکہ دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوت ہے لیکن امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے کہاں اپنے آپ کو پھنسا لیا ہے۔ اگر امریکہ کو سوچ بچار کی ضرورت ہے تو ایسی مجبوری ہماری بھی بنتی ہے۔ قومی سوچ میں ٹھہراؤ کی ضرورت ہے۔ بیٹھ کر ان سب معاملات پر غور کرنا چاہیے۔ نصیحت تو ہو گئی لیکن ایسا کرے گا کون؟سیاسی حکومت جس قسم کی ہے ہمارے سامنے ہے۔ سوچ کے دروازے پھر کہیں اور سے ہی کھلیں۔ یہی ایک امید ہے جو لاچار کر سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...