پاکستان افغانستان کشیدگی کے تناظر میں یہاں بیٹھے کوس افغانستان کو رہے ہیں۔ ردِعمل ٹھیک ہے لیکن ساتھ ہی پرانی کوتاہیوں پر ایک نظر جائے تو کوئی حرج نہیں۔ بنیادی غلطی اس طرف سے یہ تھی کہ افغانستان کے اندرونی حالات بگڑے تو یہاں کے حاکموں نے استعمال کرنا شروع کیا مذہبی عناصر کو۔ سردار داؤد کی بغاوت کے بعد بھٹو صاحب کے زمانے میں افغانستان سے کچھ مذہبی جھکاؤ رکھنے والے عناصر یہاں پناہ لینے آئے تو پاکستانی حکومت نے اُن کی مدد امداد کرنا شروع کی۔ اپریل 1978ء میں سردار داؤد کا تختہ اُلٹا اور افغان کمیونسٹ اقتدار میں آئے تو افغانستان کی مذہبی جماعتیں ہی کمیونسٹ حکومت کے خلاف کھڑی ہوئیں اور یہاں سے امداد کا پیمانہ زیادہ ہو گیا۔ دسمبر 1979ء میں سوویت فوج افغانستان آئی تو کمیونسٹ مخالف بغاوت جو پہلے سے بھڑک رہی تھی اُس کو امریکہ اور سعودی عرب کی امداد بوساطت پاکستان ملنے لگی۔ اس امداد اور مداخلت کے بل بوتے پر جو ایک اندرونی افغان مسئلہ تھا اُس کی نوعیت بین الاقوامی ہو گئی۔ پاکستان کے حکمران جنرل ضیا الحق مذہبی رجحانات کے حامل تھے اور وہاں افغانستان میں جو نام نہاد سلسلۂ جہاد شروع ہوا اُس میں جو سات مزاہمتی جماعتیں جہاد کی کمان کر رہی تھیں وہ ساری کی ساری کٹر مذہبی سوچ رکھنے والی تھیں۔
حالات کا تقاضا بھی یہی تھا کہ پاکستان اُنہی جماعتوں کی حمایت کرے جو کہ میدان میں موجود تھیں۔ لیکن جوں جوں جہاد کی نوعیت بڑھتی گئی اُس کے اثرات پاکستان میں محسوس ہونے لگے۔ بہت بڑی تعداد میں افغان مہاجرین پناہ کی خاطر پاکستان آئے‘ جگہ جگہ افغانوں کیلئے بڑے کیمپ بنے‘ افغانوں کی نقل وحرکت ملک کے طول وعرض میں ہونے لگی۔ بہت سے افغان کاروبار میں گئے اور بہت سوں کا تعلق جہاد کے ساتھ ہوا۔ مدرسے کھڑے ہوئے‘ اُن میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد بڑھی‘ مولانا سمیع الحق کے اکوڑہ خٹک کا مدرسہ افغانوں کیلئے یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر گیا۔ یہاں کی حکومتِ وقت ویسے بھی مذہبی رجحانات اور مذہبی نعروں کے پرچار میں لگی ہوئی تھی۔ افغانستان اور یہاں کے عوامل کے مل جانے سے ان رجحانات کو تقویت ملی۔ یہاں کے حکمران خوش‘ امریکہ خوش‘ سعودی خوش۔ پیسے کی کمی نہ تھی‘ ہتھیار بھی آ رہے تھے۔ امریکہ کا مقصد سوویت یونین کی پسپائی تھا اور چونکہ پاکستان جہاد کا معاونِ خصوصی تھا تو جنرل ضیا کی بہت پذیرائی صدر رونلڈ ریگن کے وائٹ ہاؤس میں ہونے لگی۔
حال میں سب مست تھے مستقبل کا ادراک کسی کو نہ تھا۔ مختلف مسلم ممالک سے آئے جہادی جنہوں نے افغان جہاد کیلئے تربیت حاصل کی اور جنہیں تب امریکہ مجاہدین کا لقب دیتا تھا وہی بعد کے دہشت گرد ٹھہرے۔ انہی مجاہدین کے بیچ میں سے طالبان تنظیم اُٹھی۔ یہی طالبان پھر افغانستان کے حاکم بنے۔ القاعدہ کو پناہ طالبان نے دی۔ القاعدہ کا تعلق ستمبر 11 کے امریکہ پر حملوں سے بنا۔ اُسی افغان جہاد سے وہ عناصر اُٹھے جنہوں نے جنرل مشرف کے زمانے میں ریاستِ پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ مشرف کے ہی زمانے میں اسلام آباد میں ایک مسجد کے خلاف جو بڑا آپریشن ہوا وہ اسی تناظر میں تھا۔ اُس آپریشن کے بعد دہشت گردی کی سخت ترین لہر پاکستان میں اُبھری۔ اُنہی عناصر کے نظریاتی ہمنوا آج پھر سے افغانستان کے حکمران ہیں اور انہی سے نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والے تحریک طالبان پاکستان والے ریاست پاکستان سے برسرِ پیکار ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ٹی ٹی پی نظریاتی طور پر آج کی پیداوار نہیں۔ اس کی روحانی جڑیں تو اُس نام نہاد جہاد سے جا ملتی ہیں جس کا اعلان اڑتالیس سال پہلے افغان کمیونسٹوں کے خلاف ہوا تھا۔
پاکستانی سوچ کوزے میں بند رہی‘ جب امریکیوں اور طالبان کی طویل جنگ جاری تھی۔ ظاہری طور پر پاکستان امریکہ کا حمایتی تھا لیکن اندرونِ خانہ کچھ نہ کچھ امداد طالبان کی بھی ہو رہی تھی۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی یہی گلہ کرتے تھے کہ پاکستان دوغلی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہاں کے حکمران سمجھتے تھے کہ وہ بہت ہوشیاری دکھا رہے ہیں کیونکہ امریکہ نے ایک دن چلے جانا ہے اور پیچھے طالبان رہ جائیں گے۔ اُن سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں گے اور پاکستان افغانستان دوستی ایسے ہو گی کہ ہندوستان کو کوئی جگہ افغانستان میں نہ ملے گی۔ پاکستان کی افغان پالیسی کے پیچھے ایک بڑی سوچ یہ رہی کہ جو دخل اندازی یہاں سے افغانستان میں ہو رہی ہے اُس سے اور کچھ ہو نہ ہو ہندوستان کی دائمی بے دخلی افغانستان سے ہو جائے گی۔امریکی افغانستان سے چلے گئے۔ رسوا ہو کر گئے۔ طالبان براجمانِ اقتدار ہیں اور پاکستان کو چین نصیب ہونے کے بجائے مصیبتوں کے نئے پہاڑوں کا سامنا ہے۔ اڑتالیس سال کا قضیہ‘ ملکی مفادات کو خطرے میں ڈال کر افغان جہادوں کی امداد اور نتیجہ کیا نکلا۔ آج ہمارے دو ممالک کے درمیان ایک جنگ کی کیفیت ہے۔ بارڈر بند ہے اور پہلے بھی بندشیں ہوتی رہیں لیکن اتنی طویل دورانیے کی نہیں۔ کراس بارڈر تجارت بند ہے اور کوئی صورت نظر نہیں آ رہی کہ ان حالات میں کوئی بہتری آئے۔
پاکستان کو سمجھنے میں دیر ہوئی کہ افغانستان میں حکمران کمیونسٹ ہوں یا اسلام پسند‘ کسی افغان کو ڈیورنڈ لائن کا ہونا قبول نہیں۔ جس مکتب فکر کا بھی کوئی افغان ہو ڈیورنڈ لائن کو نوآبادیاتی تسلط کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ تعلقات میں بہتری بھی ہو جائے ڈیورنڈ لائن کا کھٹکا رہے گا۔ اس حقیقت کو پاکستانی سوچ کا حصہ بننا چاہیے۔ لیکن اس کھٹکے کے ہوتے ہوئے بھی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں۔ ظاہر شاہ کے زمانے میں بھی افغانستان اس بارڈر کو تسلیم نہیں کرتا تھا لیکن تعلقات کبھی کبھار کی معمولی جھڑپوںکے باوجود اچھے تھے۔ سیر سپاٹے کیلئے پاکستانی کابل جایا کرتے تھے۔ جی ٹی ایس کی ایک بس پشاور سے کابل جاتی تھی۔ میں نے اُس پر خود سفر کیا ہے‘ بتیس روپے کرایہ 1978ء میں تھا۔ ظاہر شاہ کے زمانے میں جشنِ کابل منعقد ہوتا تو اقبال بانو وہاں اپنی غزلیں پیش کیا کرتیں۔ یقینا اور بھی فنکار جاتے ہوں گے۔ یہ تو کوئی نظرِ بد افغانستان کو لگی کہ پہلے ظاہر شاہ کے خلاف بغاوت ہوئی اور پھر سردار داؤد کے خلاف کمیونسٹوں نے بغاوت کی۔ اُس وقت سے افغانستان کی بدقسمتی کی داستان رقم ہو رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سردار داؤد سے تعلقات استوار کر رہے تھے لیکن بدقسمتی کہ بھٹو کے خلاف ایکشن ہوا اور جنرل ضیا الحق یہاں پر قابضِ اقتدار ہو گئے۔ پھر بس کیا تھا آنکھیں بند کرکے پاکستان افغانستان کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔
بیشتر پاکستانیوں کو بات اچھی نہیں لگے گی لیکن پاکستان کے مفاد میں یہ تھا کہ افغانستان کے آخری کمیونسٹ سربراہ نجیب اللہ سے تعلقات استوار کیے جاتے۔ کٹر انتہا پسند سوچ کی روک تھام ہوتی۔ لیکن ایسا پاکستان میں کون سوچتا کیونکہ یہاں کے حکمران طبقات کی سوچ میں کبھی ایسی وسعت نہیں رہی۔ یعنی یہاں کے حکمران طبقات کا اتحاد کٹر سوچ والوںسے ہی ہو سکتا تھا۔ کوئی اور متبادل ناممکن تھا۔ برطانیہ دوستی‘ امریکہ نوازی اور سیاسی رجعت پسندی یہ رویے تو اس دھرتی کو ورثے میں ملے۔ سارے حکمران ہمارے سوائے کسی حد تک ذوالفقار علی بھٹو کے اسی آٹے میں گندھے ہوئے تھے۔ ضیا الحق توکٹر سوچ کا علمبردار تھا۔ وہ کمیونسٹوں سے اتحاد کا کیسے سوچ سکتا تھا؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments