"MSC" (space) message & send to 7575

اپنے ہاتھوں پر اپنا ہی لہو

ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک بڑی بیٹھک‘ جس کی سربراہی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کر رہے تھے‘ کے نتیجے میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ ان کا نتیجہ جو بھی نکلے فی الحال تو اہلِ پاکستان کی بھاری تعداد نے سکھ کا سانس لیا ہے‘ ان کے ہاتھ اس دعا کیلئے اٹھے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فریقین کو ایک دوسرے کی بات سننے‘ سمجھنے اور آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دونوں اپنے اپنے دائرے میں اپنا اپنا کام کرنے پر تیار ہو جائیں۔ پارلیمانی نظام میں اپوزیشن کو محوِ انتظار حکومت (گورنمنٹ اِن ویٹنگ) کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان کسی بھی وقت بینچوں کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔ عام انتخابات کے بغیر بھی کسی وزیراعظم کو اپنی جماعت یا (اگر مخلوط حکومت ہو تو) اتحادی جماعتوں کے اعتماد سے محروم ہو کر کرسیٔ اقتدار خالی کرنا پڑ سکتی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کی امّاں جان برطانیہ کو دیکھ لیجیے کہ گزشتہ پانچ سال میں پانچ وزرائے اعظم وہاں دیکھنے کو ملے ہیں۔ بورس جانسن نے ایک سال تین ماہ حکومت کی‘ لِزٹرس نے صرف 49دن‘ رشی سوناک نے ایک سال اور آٹھ ماہ جبکہ کیئر سٹارمر کا ستارہ دو سال بعد ڈوب گیا۔ 20 جولائی سے اینڈی برنہم اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ بادشاہت یا آمریت میں حکومت کا ہاتھ سے نکل جانا‘ تباہی اور بربادی کہلا سکتا ہے لیکن جمہوریت اور وہ بھی پارلیمانی جمہوریت میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے جب منصب سنبھالا تھا تو تحریک انصاف کو بلاشرکتِ غیرے قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی‘ انہیں مخلوط حکومت بنانا پڑی۔ کولیشن بکھرا تو انہیں اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ اس کو انہوں نے اپنے دل کا روگ بنا لیا۔ اگر وہ یہ سوچ لیتے کہ اقتدار میں لانے والے ہی انہیں رخصت کرنے کا سبب بن گئے ہیں تو صبر کا پانی پی لیتے‘ لیکن ان کی ''مافوق الفطرت‘‘ شخصیت یہ صدمہ برداشت نہ کر پائی۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے‘ نہ ان کو چین ہے‘ نہ ان کے حامیوں کو۔ وہ گزشتہ تین سال سے حوالۂ زنداں ہیں‘ ان کی اہلیہ محترمہ بھی اسی مشکل سے دوچار ہیں۔ ان کے کئی رفقا اور کارکن بھی کئی کئی سال کی سزا بھگت رہے ہیں۔ مقتدرہ کو اپنا حریف قرار دے کر اس پر چڑھائی کا نتیجہ سامنے ہے۔ اگر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا جاتا تو وہ دوبارہ کرکٹ کے میدان میں کرکٹ کھیلنے لگ جاتے لیکن انہوں نے ہاکی کھیلنا شروع کر دی‘ نتیجتاً ان کے حریفوں نے بھی ''سٹکس‘‘ ہاتھ میں لے لیں۔ ان پر جو اُفتاد پڑی ہے اسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ ایک بڑی سیاسی جماعت کی درگت بننا جمہوری عمل کیلئے کسی طور نیک فال نہیں لیکن جمہوریت کے نام پر ہر طرح کی دھینگا مشتی کی داد بھی نہیں دی جا سکتی۔ جگہ جگہ بکھرے ہوئے ان کے 'پجاری‘ ہر شے کو تاراج اور مسمار کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سوشل میڈیا برگیڈ الزام اور دشنام کی حدیں پار کر گیا۔ نتیجتاً وہ ہو رہا ہے جو نہ پاکستان کیلئے اچھا ہے‘ نہ اہلِ اقتدار کیلئے۔
خیبرپختونخوا میں نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شعلے اُگلتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی طرف ''پُرامن‘‘ لانگ مارچ کا اعلان کیا اور دھمکایا کہ ہم چالیس لاکھ افراد ساتھ لائیں گے۔ بعدازاں تاریخ بدل لی۔ معاملہ ستمبر سے اکتوبر تک جا پہنچا۔ حکومت کو یہ کسی طور منظور نہیں۔ فریقین کے درمیان اب مذاکرات شروع ہو چکے ہیں‘ امید بھری نگاہیں ان کی طرف لگی ہیں۔ پاکستان میں کئی بار اس طرح کے ہنگامے (یا ڈرامے) ہو چکے ہیں۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیجیے نام بدل جائیں گے کردار نہیں بدلیں گے۔ اہلِ اقتدار اور اہلِ اختلاف بار بار ایک دوسرے سے ٹکرائے ہیں۔ بار بار ایک دوسرے کا جینا حرام کیا ہے۔ بار بار ایک دوسرے کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان وہاں کھڑا ہے جہاں کھڑے ہونے کی کبھی آرزو نہیں کی گئی تھی۔ دفاعی لحاظ سے اپنے آپ کو منوانے کے باوجود‘ اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کے دانت کھٹے کرنے‘ دنیا بھر سے اپنی سفارتی صلاحیتوں کی داد پانے کے باوجود ہمارا بال بال قرضوں میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری فی کس آمدنی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کم ہو چکی ہے۔ ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق 2024ء میں بھارت کی فی کس آمدنی 2694 ڈالر‘ بنگلہ دیش کی 2593ڈالر جبکہ پاکستان کی 1478ڈالر سالانہ تھی۔ ہمارے اڑھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ بنگلہ دیش اور بھارت میں اُن کی آبادی کے تناسب سے ایسے بچوں کی تعداد کہیں کم ہے۔ جہالت کے کوہ ہمالیہ کے نیچے ہم دبتے چلے جا رہے ہیں۔ چین نے ابھی اپنا قومی دن منایا ہے‘ عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد یکم اکتوبر 1949ء کو رکھی گئی تھی‘ قیام پاکستان سے دو سال بعد۔ 1950ء میں چین کی فی کس آمدنی 799ڈالر تھی جبکہ پاکستان کی 1025 ڈالر۔ 1990ء تک پاکستان آگے رہا۔ 2000ء میں دونوں کی فی کس آمدنی علی الترتیب 3800 اور 3700 ڈالر تھی‘ قریباً برابر برابر۔ اس کے بعد چین کو گویا پَر لگ گئے۔ 2022ء میں اس کی فی کس آمدنی پاکستان کے مقابلے میں ساڑھے تین گنا ہوئی‘ اب یہ نو گنا ہو چکی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق چین کی فی کس آمدنی 13 ہزار 862 ڈالر ہے جبکہ پاکستان ابھی پندرہ سو ڈالر کے قریب لڑھکنیاں کھا رہا ہے۔
بجلی کے بل بچھوؤں کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ہمارے معتبر اور مقتدر حلقے ایک دوسرے کو نوچنے میں لگے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کو انہوں نے اپنی معراج سمجھ رکھا ہے۔ پاکستان اوپر اُٹھ کر نیچے آیا ہے۔ اگر ہم آزادی کے بعد سے اب تک لڑھکنیاں کھا رہے ہوتے تو سمجھا جاتا کہ ہمارے اندر کوئی جوہر ہی نہیں ہے‘ ہم پستیوں میں دھنسنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں لیکن حقائق بالکل مختلف کہانی سناتے ہیں۔ پاکستان کے ابتدائی 25سال بلندیوں کی طرف اڑان بھر رہے تھے جبکہ گزشتہ پچیس سال کی روداد الگ ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم سر جوڑ کر بیٹھنا اور اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ ہم ان حالوں میں کیوں پہنچے ہیں۔ آگے بڑھنے اور اونچا اڑنے کی جو تڑپ اور توانائی ہمارے پیکر خاکی میں موجود ہے‘ اسے بروئے کار آنے کا موقع کیوں نہیں مل رہا۔ ہمارا مجرم کون ہے؟ ہم کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں؟ ایک دوسرے کا تعاقب کرنے اور ایک دوسرے کے ہاتھوں کی تلاشی لینے کے بجائے ہر شخص اور ہر ادارہ اپنے اپنے گریبان میں منہ ڈالے‘ اپنے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھے تو کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اپنے ہاتھوں پر اپنا ہی لہو صاف نظر آ جائے گا۔
(یہ کالم روزنامہ ''دنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...