خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا جا چکا، گورنر فیصل کریم کنڈی اختیارات سنبھال چکے، ان کی ایڈوائزری کونسل بن چکی، اس میں ''نیک نام ٹیکنو کریٹس‘‘ مناصب سنبھال چکے، سہیل آفریدی کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا چکا، ''حفاظتی نظر بندی‘‘ میں لیے جا چکے، صوبائی اسمبلی عضوِ معطل بن چکی، اس کے سپیکر کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی۔ یہ سب کچھ ہو چکا لیکن وہ کچھ نہیں ہوا جس کی پیشگوئی معزول وزیراعلیٰ اور ان کے مشیرِ اطلاعات شفیع جان کر رہے تھے۔ لاکھوں کیا ہزاروں کی تعداد میں بھی لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلے۔ ترکیہ کا منظر تو کیا دیکھنے کو ملتا، نئی دہلی میں ''کاکروچوں‘‘ کے اجتماع کا سا نظارہ بھی نظر نہیں آیا۔ ایک حکومت ختم ہوئی، دوسری نے اس کی جگہ لے لی۔ جس طرح دن سے رات اور رات سے دن برآمد ہوتا ہے، اسی طرح پرانی انتظامیہ کو نئی انتظامیہ نے بدل دیا ؎
وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد
سحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد
وہ سب لوگ جو گورنر راج لگانے کی خواہش رکھتے تھے یا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتے تھے یا حالات کو سنبھانے کیلئے اس انتہا کو آزمانے کے حق میں دلائل کے انبار لگا رہے تھے، ان سب کو دھڑکا لگا ہوا تھا، کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے۔ لوگ باہر نکل آئے، انتظامیہ پر چڑھ دوڑے، دفتروں اور افسروں کو نشانہ بنا لیا، تصادم کی نوبت آ گئی، خون خرابہ ہو گیا، لاشیں گریں اور زخموں سے چور چور ہونے والے تڑپتے دکھائی دیے تو کیا خبر حالات کیا رُخ اختیار کر لیں۔ تاریخ کے بدنما واقعات ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے لگے تو ہاتھ ملنے والے ہاتھ جوڑنے والوں سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ یہ سب دھڑکے، یہ سب اندیشے اپنی اپنی جگہ رہ گئے۔ گورنر کنڈی اور ان کے مشیرانِ کرام اطمینان سے اپنے اپنے ایوانوں میں اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ ضلع ضلع اور شہر شہر اپنا پرچم لہرانے کیلئے سرگرم ہیں۔ فائلیں پھرول رہے ہیں، ان میں دبے کرپشن کے ''انباروں‘‘ کو تلاش کر رہے ہیں، نیب کو متحرک کیا جا رہا ہے اور نوید سنائی جا رہی ہے کہ امن و امان بحال ہو گا۔ دہشت گردی کا سر کچلا جائے گا اور پی ٹی آئی کے گزشتہ تیرہ سالوں سے فیض یاب ہونے والوں سے وہ کچھ اگلوایا جائے گا جو وہ کب کا ہضم بھی کر چکے ہیں۔
دہائی دی جا رہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا الزام لگا کر جو حکومت گھر بھجوائی گئی ہے، ٹارگٹ اس کی خالق جماعت ہے۔ دہشت گردوں پر فوکس کرنے کے بجائے تحریک انصاف کی سیاست کو نشانہ بنانا مطلوب ہے، اس کے متعلقین و متوسلین پر زمین تنگ کی جا رہی ہے، ان کے پاؤں تلے سے زمین کھینچنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ کام جاری رہا، دہشت گردوں کے بجائے تحریک انصاف کی سیاست کو محدود کرنے یا اس کا راستہ مسدود کرنے پر توجہ لگا دی گئی تو پھر حالات کا رُخ بدل بھی سکتا ہے، لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ردِعمل شدید ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اسے دو تہائی سے زیادہ کی حمایت حاصل ہے، اس پوری جماعت یا اس کی ساری قیادت کو دہشت گردوں کے ساتھ جوڑنا احمقانہ ہی نہیں سفاکانہ عمل ہو گا، جس کا نتیجہ پورے پاکستان کو بھگتنا پڑ سکتا ہے جس سے جسدِ سیاست ہی نہیں جسدِ قومی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اسے شدید صدمہ پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف یا صدر آصف علی زرداری یا دوسرے شریکانِ اقتدار، ہر ایک کو آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ جو فرمان جاری کیا گیا ہے، اس کی آڑ میں کیے گئے اقدامات اور معاملات پر گہری نظر رکھنا ہو گی۔ گورنر راج کو محدود سے محدود کرنا ہو گا۔ کارروائی انہی کے خلاف ہونی چاہیے اور انہی تک رہنی چاہیے جو دہشت گردی کے خلاف مہم کے راستے میں رکاوٹ ہیں یا خوف یا لالچ کے باعث دبک کر رہ گئے تھے۔ تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کی حمایت اس کیلئے حاصل کی جانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے اور حافظ نعیم الرحمن کو بھی شریکِ مشورہ کر لینا چاہیے۔
اپوزیشن نے گورنر راج پر شدید احتجاج کیا ہے، مولانا فضل الرحمن آگ بگولہ ہیں، حافظ نعیم الرحمن نے بھی غصے کا اظہار کر دیا ہے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جا رہے ہیں، درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ جلد ان کی سماعت شروع ہو گی اور توجہ انصاف کے ایوانوں پر مرکوز ہو جائے گی۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے بجائے سب کو ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ہماری تاریخ ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی اداروں کے درمیان الجھاؤ اور تناؤ سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان تاریخ کو دہرانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے کی کمزوریاں ڈھونڈنے کے بجائے ایک دوسرے کی طاقت بن کر ہی سب طاقتور بن سکتے ہیں۔ آج اگر خیبرپختونخوا میں خاموشی ہے تو اس پر مطمئن ہو کر بیٹھ رہنا زہرِ قاتل ہو گا۔ حالات تو کسی وقت کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ دور تک دیکھنے کی کوشش کیجیے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ آئینی منصب داروں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ انہیں اپنے اپنے منصب کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر جہاں بھی معمولاتِ زندگی میں خلل پڑ رہا ہے وہاں تدبیر اور تدبر کو بروئے کار لانا ہو گا۔ انتظامی فیصلوں اور اقدامات کی اپنی اہمیت ہے، لیکن صرف ان پر اکتفا کر لینا اور سیاسی عمل کی توانائی کو نظرانداز کر دینا، اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ آج کا پاکستان آج کے اربابِ اختیار سے توقع ر کھتا ہے کہ جس کو بڑائی کا جو بھی زعم ہے، وہ اس ہی کے مطابق بڑا بن کر دکھائے۔
اقرار الحسن کی اونچی اڑان
عوام راج تحریک کے رہنما اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی معروف و محبوب شخصیت اقرار الحسن کو سائبر کرائم کی تفتیش کرنے والے ادارے نے لاہور سے گرفتار کر کے کراچی کی ایک عدالت میں پیش کر دیا۔ وہ ابھی تک حوالۂ زنداں ہیں۔ انہیں رات کے اندھیرے میں جس انداز میں دبوچا گیا، اس نے ہر قانون پسند شہری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان پر خیبرپختونخوا کے گورنر راج کے نفاذ کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ان کا مقدمہ قانون کی عدالت میں ہے، اور عوام کی عدالت بھی اس کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ وہ جلد ضمانت پر رہا ہوں گے اور اپنا مقدمہ پوری شدت سے لڑ سکیں گے۔ ان کے وکیل علی اشفاق ان کے حق میں دلائل کے انبار لگا رہے ہیں۔ اقرار الحسن سیاست کے میدان میں قدم رکھ چکے ہیں، بادِ مخالف انہیں اونچا ہی اڑائے گی کہ قید و بند کی صعوبتیں اہلِ سیاست کا بال بیکا نہیں کر پاتیں۔ برصغیر کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ اربابِ اختیار البتہ غور کر لیں کہ وہ کیا بو رہے ہیں، کس طرح بو رہے ہیں اور انہیں کس کس طرح کیا کیا کاٹنا پڑ سکتا ہے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments