قدرت کا بھی ایک نظام ہے‘ ہٹلر اور نپولین کا علاج روس کی سردی نے کیا۔ دونوں یورپ کے بادشاہ بنے ہوئے تھے لیکن روسی سردی کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ امریکہ جو اس دور کا بادشاہ ہے‘ اس کا علاج خلیج فارس کے پانیوں میں ہو رہا ہے۔ امریکی تاریخ کا سب سے بڑبولا صدر جو من مانیاں کیے جا رہا تھا‘ پھنسا تو کیسے پھنسا۔ جسے چند ہفتوں کی جنگ سمجھا جا رہا تھا چھٹے ماہ میں پہنچ چکی ہے اورگو امریکی بے قراری انتہا پہ ہے کہ اس جنگ سے جان چھڑائی جائے‘ نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔
دیگر باتوں کو چھوڑیے جو امریکہ کے ایئرکرافٹ کیریئرز کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کہانی اپنا سبق رکھتی ہے۔ یہ دنیا کے طاقتور ترین بحری جہاز ہیں جو 70سے 80لڑاکا طیارے لیے پھرتے ہیں۔ نیوکلیئر پاور سے چلتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ سمندروں میں لمبا عرصہ گزار سکتے ہیں۔ ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کوئی نو ماہ سے سمندروں میں پھر رہا ہے اور اس پر جو پانچ ہزار ملاح تعینات ہیں ان کا حشر ہو رہا ہے۔ اتنے لوگوں کو ایک جہاز میں کھپانا چاہے وہ جتنا بڑا ہو معمولی کھیل نہیں۔ خوراک کا معیار ناقص ہو گیا ہے‘ ہائی جین کی اشیا جیسا کہ ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش ان کی کمی واقع ہو رہی ہے اور سب سے سنگین مسئلہ یہ کہ باتھ روموں کے آگے لائنیں لگی ہوتی ہیں اور کتنے ہی باتھ روم کام نہیں کر رہے۔ کسی باتھ روم کا پانی باہر نکل رہا ہو تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ استعمال کرنے والوں پر کیا بیت رہی ہو گی۔ اس سے پہلے ایئرکرافٹ کیریئر جیرالڈ آر فورڈ کے لانڈری روم میں آگ بڑھک اٹھی تھی۔ امریکیوں نے آگ کو حادثاتی کہا لیکن خبریں تھیں کہ کوئی ایرانی میزائل وغیرہ ایئرکرافٹ کیریئر کو لگا ہے۔ مرمت کے لیے جہاز کو واپس جانا پڑا۔
منظر تو دیکھا جائے کہ دنیا کی طاقتور ترین نیوی نے بحیرۂ عرب کے پانیوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور گو ایرانی بھی اپنا تیل وہاں سے نہیں نکال پا رہے کسی اور ملک کا تیل بھی وہاں سے نہیں جا رہا۔ کویت کی ایکسپورٹ بالکل بند ہو گئی ہے۔ یو اے ای کا تیل بند پڑا ہے۔ قطر کی گیس ایکسپورٹ سب رکی ہوئی ہے‘ اس کی گیس تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے برادر سعودیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز سے ان کا کوئی تیل باہر نہیں نکل رہا اور حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے بحیرۂ احمر کا راستہ بھی زیادہ تر بند پڑا ہے۔ ان سب برادر ملکوں کا رکھوالا اور گاڈ فادر امریکہ تھا اور امریکہ کا اپنا حشر ہو رہا ہے کہ اپنے عسکری اڈوں کی حفاظت نہیں کر سکا۔ اپنی مؤکل ریاستوں کی اس نے کیا حفاظت کرنی تھی۔ اس وقت مؤکل پریشان اور رکھوالے کے ہوش بھی اڑے ہوئے۔
ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ زبانی کلامی تسلیاں تو اپنی جگہ لیکن اگر تاریخ کا تھوڑا سا بھی مطالعہ کریں تو یمنی سر زمین سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔ مصر کے جمال عبدالناصر کی سرپرستی میں جب متحدہ عرب ریاست کی بنیاد ڈالی گئی تو اس میں تین ممالک شامل تھے: مصر‘ شام اور یمن۔ یمن میں ایک قبائلی بغاوت ہوئی اور جمال عبدالناصر کے برے دن آنے تھے کہ 1962ء میں انہوں نے مصری فوجی دستے یمن بھیجے۔ وہاں جا کے مصری فوج بری طرح پھنس گئی اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ابھی پچھلے سال مارچ میں ہی صدر ٹرمپ نے حوثیوں پر ہوائی حملوں کا آغاز کیا۔ دو ماہ شدید ترین ہوائی حملے ہوئے اور حوثی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ الٹا خبریں آنے لگیں کہ امریکہ کے میزائل اور بم خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔ وہی جو ایران کے ساتھ جنگ میں ہوا ہے کہ اتنے پیٹریاٹ اور ٹوما ہاک میزائل استعمال ہوئے ہیں اور امریکی خود سوچنے پر مجبور ہیں کہ کہیں اور ضرورت پڑی تو کیا کریں گے۔
جو دیرینہ دوستی ہماری ہے اس کی لاج تو رکھنی ہے۔ کچھ اپنے معاشی حالات کی بھی بات ہے۔ نازک معاشی حالت ہو تو ہر تھوڑے بہت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن زبانی یا کاغذی معاہدوں سے ہٹ کر کوئی ایسی لغزش نہ ہو جائے کہ جمال عبدالناصر کے تجربے کی یاد آنے لگے۔ ہم تو ویسے بھی بہت سے محاذوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ جو صورتحال کے پی کے میں ہے گرفت میں آ ہی نہیں رہی۔ جنوبی اضلاع خاص کر کے وہاں تو ہر مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ سرکار کی رِٹ تو بڑے نازک پیروں پر کھڑی ہے۔ ٹی ٹی پی والے‘ جن کے ہمدرد ایک زمانے میں یہاں بہت ہوا کرتے تھے‘ مرضی سے آتے جاتے ہیں۔ نشانہ اور وقت کا تعین وہ کرتے ہیں‘ ہمارے لوگ پھر جوابی کارروائیاں ہی کر سکتے ہیں۔ یعنی پہل جسے انگریزی میں Initiativeکہتے ہیں‘ ان کے پاس ہے۔ یہ ایک محاذ ہی کافی تھا‘ مشکل دن آنے تھے کہ بلوچستان ایک دوسرا محاذ بنا ہوا ہے۔ بھادوں کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ بھادوں کی گرمی اور بلوچستان کے پہاڑ۔
کوئی بھی ریگولر آرمی ‘ روس کی امریکہ کی یا کسی اور ملک کی‘ کسی گوریلا جنگ میں پھنسنا حماقت ہوتی ہے۔ سوویت یونین افغانستان میں آ کے پھنس گیا‘ اس کے بعد امریکی آئے سترہ برس تک اسلحہ پھونکتے رہے اور آخرکار انہیں ہار ماننا پڑی۔ جدید تاریخ میں شاذ و نادر ہی کوئی مثال ملتی ہے کہ ریگولر فوج کسی گوریلا جنگ میں کامیاب ہوئی ہو۔ ویتنام کی مثال ہمارے سامنے ہے‘ پانچ لاکھ امریکی فوجی وہاں دھونسے گئے تھے‘ اور دنیا کی طاقتور ترین فوج کو ویتنام کے جنگلوں اور چاول کے کھیتوں میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تو وینزویلا جیسے کمزور ملک ہوتے ہیں جو تھوڑا سا ملٹری پریشر سہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس کیوبا کو دیکھیں‘ تیل کہیں سے نہیں آ رہا‘ معاشی مشکلات عروج پر ہیں لیکن پھر بھی حکومت ڈٹی ہوئی ہے۔ وینزویلا پر امریکہ نے حملہ کر دیا اور وہاں کے صدر کو اس کے محل سے اٹھا کر امریکی فورسز لے گئیں۔ لیکن کیوبا پر ڈائریکٹ حملے کی ہمت امریکہ کو نہیں ہو گی کیونکہ پتا ہے کہ فیڈل کاسترو کا ملک مزاحمت کرے گا۔ معاشی مشکلات میں کیوبا ڈوبا ہوا ہے لیکن ہمت تو ہے‘ امریکہ کی ریاست فلوریڈا کیوبا سے 90میل کے فاصلے پر ہے۔ لیکن ہر مشکل کے باوجود کیوبا کا حوصلہ تو دیکھا جائے۔
بہرحال آسمانوں سے ہمیں نیک ہدایت ہی ملے۔ جہاں محاذ بہت کھلے ہوئے ہیں انہیں سمیٹنے کی ضرورت ہے۔ اور جہاں گوریلا جنگوں کا تعلق ہے تو ہمیں ویتنام اور افغانستان کی جنگوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ہماری ریگولر فوج ہے‘ شروع دن سے حریف ہندوستان کو سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہماری ساری ٹریننگ‘ ہماری فورسز کی ساری ہیئت ہندوستان کو بطورِ دشمن سامنے رکھتے ہوئے تیار ہوئی ہے۔ گزرے وقتوں میں افغانستان سے بارڈر پر معمولی نوعیت کی مشکلات ہوا کرتی تھیں۔ یہ تو ہمارے سرخیلوں نے حالات کو نہ سمجھتے ہوئے افغانستان میں جہاد کے نام پر دخل اندازی شروع کی کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اب ہم پر حملہ آور افغان سرحد کے اُس پار سے آ رہے ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں سرکاری دعوے جو بھی ہوں اتنا تو سب پر عیاں ہو رہا ہے کہ حالات وہاں کے ٹھیک نہیں۔ گولا بارود کا استعمال تو اپنی جگہ رہا لیکن ساتھ ہی کسی سیاسی سوچ کی بھی ضرورت ہے۔ امریکہ نے ایران میں اسلحہ بارود کوئی کم استعمال کیا ہے لیکن حاصل کیا ہوا ہے؟
نئے صوبے بھی بنتے رہیں گے کوئی نئی سوچ بھی تو کہیں سے آئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments