آگ، ماچس اور کرسی

جرمن ادیب فرانز کافکا کی لکھی ایک کہانی میں ایک آدمی قانون کے دروازے پر عمر بھر کھڑا رہتا ہے۔ دروازہ کھلا ہوتا ہے مگر دربان اسے اندر نہیں جانے دیتا۔ ہمارے ہاں صورتحال کچھ الٹ ہے۔ آئین میں شہری کیلئے راستہ کھلا ہے مگر سڑک پر کنٹینر کھڑا ہے۔ دربان بھی موجود ہے‘ احتجاجی قافلہ بھی آنے والا ہے اور ان دونوں کے بیچ وہ شخص پھنس گیا ہے جس نے کسی کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا۔ اسے صرف دفتر‘ ہسپتال یا اپنے گھر پہنچنا ہے۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد کی طرف مارچ چار اکتوبر تک مؤخر کیا مگر دارالحکومت کے شہریوں کی آزمائش مؤخر نہیں ہوئی۔احتجاج ابھی دور تھا کہ راستوں پر رکاوٹیں پہلے پہنچ گئیں۔ یوں ہمارے سیاسی نظام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہاں جلسے کی تاریخ بدل سکتی ہے‘ شہری کی مشکلات نہیں۔ حکومت کہتی ہے امن قائم رکھنا ہے‘ تحریک انصاف کہتی ہے احتجاج ہمارا حق ہے۔ دونوں اپنی جگہ سوال پوچھ سکتے ہیں مگر جواب اس شخص کو کون دے گا جس کی گاڑی بند راستے پر کھڑی ہے؟ یہ سوال صرف وفاقی حکومت سے نہیں‘ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی ہے۔ آپ عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں‘ ضرور کیجیے مگر صوبے کے لوگ آپ کو پارٹی کا جلوس منظم کرنے کیلئے نہیں حکومت چلانے کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی کرسی کے ساتھ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت‘ بچوں کی تعلیم‘ مریضوں کے علاج اور سرحدی اضلاع میں رہنے والے خاندانوں کے امن کی ذمہ داری بھی بندھی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات نے اس ذمہ داری کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔ کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ پر حملہ ہوا‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جانیں گئیں ایسے وقت میں وزیراعلیٰ کی کارکردگی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ شہری خود کو اپنے صوبے میں کتنا محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ پشاور سے اسلام آباد تک احتجاجی قافلہ پہنچانے کی صلاحیت سیاسی کامیابی ہو سکتی ہے مگر گھر سے بازار تک شہریوں کو بحفاظت پہنچانا حکمرانی کی کامیابی ہے۔ کیا پی ٹی آئی کے پاس وزیر اعلیٰ کے علاوہ ایک بھی لیڈر اس قابل نہیں کہ وہ احتجاج کو لیڈکرسکے ؟ عمران خان کی قید اس جماعت کیلئے بلا شبہ بڑا سیاسی مسئلہ ہے لیکن سیاسی قیادت کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر مسئلے کا آخری حل سڑک پر اترنا نہیں ہوتا۔ عمران خان ماضی میں اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے‘ ان کے حامی اسے استقامت کہتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ بھی قیادت نے کرنا ہے کہ کیا کسی باوقار سیاسی مفاہمت‘ قانونی پیشرفت اور قابلِ عمل گفتگو کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ کوئی باہر سے ان کیلئے یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ البتہ ان کے نام پر حکومت کرنے والوں سے یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ جب تک فیصلہ نہیں ہوتا‘ صوبے کے عوام کی زندگیاں یونہی متاثر ہوتی رہیں گی ؟
ادھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اطمینان سے دوسروں کی ناکامیاں نہیں گن سکتیں۔ وفاق میں اقتدار ان کے پاس ہے۔ اگر احتجاج کے اعلان کا جواب ہفتوں تک بند راستے‘ معطل کاروبار اور خوفزدہ شہری ہوں تو اسے اچھی حکمرانی نہیں کہا جا سکتا۔ ریاست کا کام خطرے کا اندازہ لگانا اور اس سے نمٹنا ہے‘ ہر آنے والے شہری کو پہلے سے مشتبہ سمجھ کر شہر بند کرنا نہیں۔ طاقت کا سب سے آسان مظاہرہ کنٹینر اٹھا کر سڑک پر رکھ دینا ہے۔ مشکل کام یہ ہے کہ امن بھی رہے اور آئینی حق کیلئے جگہ بھی۔ اسی کشیدگی کے دوران خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ اس لفظ کو بعض لوگ ایسے بولتے ہیں جیسے الماری سے فائل نکال کر صوبے کی منتخب حکومت بند کی جا سکتی ہو۔ آئین اتنا بھی سادہ نہیں۔ جنگ‘ بیرونی جارحیت یا صوبائی حکومت کے قابو سے باہر اندرونی بدامنی والی ایمرجنسی کا معاملہ آرٹیکل 232 میں ہے۔ صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی بنیاد پر اعلان کا الگ راستہ آرٹیکل 234 میں درج ہے۔ دونوں کو ایک ہی سیاسی نعرے میں گڈمڈ کرنا خطرناک ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے ‘اگر صدر خود اعلان کریں تو دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ منظوری کا مرحلہ آتا ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کی رپورٹ پر صدر کو مطمئن ہونا ہوگا کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اس اعلان میں صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات صدر یا ان کی طرف سے گورنر سنبھال سکتے ہیں۔صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان کے تحت استعمال کرنے کا اعلان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ اسمبلی کی خودکار تحلیل نہیں‘ اور ہائیکورٹ کے اختیارات اس طریقے سے نہیں لیے جا سکتے۔ اعلان مشترکہ اجلاس سے سامنے آتا ہے؛ منظوری نہ ملے تو دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے‘ جبکہ اس کی مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد صوبہ چلے گا کیسے؟ انتظامی فیصلے گورنر کے ذریعے وفاقی اختیار کے تحت کیے جا سکتے ہیں۔ اگر اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمان کو منتقل کیے گئے ہوں تو صوبائی امور پر قانون اور اخراجات کی منظوری کیلئے بھی آئین میں طریقہ موجود ہے۔ لیکن آئینی اختیار مل جانا اور صوبے کو بہتر انداز سے چلانا دو الگ سوال ہیں۔ کیا اسلام آباد میں بیٹھا فیصلہ ساز دور دراز ضلع کے تھانے‘ ہسپتال اور سکول کی جوابدہی بہتر کر سکے گا؟ اگر اس سوال کا ٹھوس جواب نہیں تو گورنر راج کو انتظامی مسائل کا حل کہنا قبل از وقت ہوگا۔ سیاسی تاریخ کا ماضی بھی اس حوالے سے کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کرتا۔ فروری 2009 ء میں پنجاب میں شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد گورنر راج نافذ ہوا اور 30 مارچ کو واپس لے لیا گیا۔ جنوری 2013 ء میں کوئٹہ کے المناک حملوں کے بعد بلوچستان میں گورنر راج آیا مگر اس کے خاتمے پر سابق صوبائی حکومت بحال ہوگئی۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ غیر معمولی اختیار سیاسی اور انتظامی بحران کو فوری طور پر ختم کرنے کا جادوئی نسخہ نہیں۔تاہم سہیل آفریدی کو یہ غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ گورنر راج کی بحث انہیں اپنے صوبے کی کارکردگی کے سوال سے آزاد کر دے گی۔ وفاق کو بھی یہ خیال دل سے نکال دینا چاہیے کہ ایک اعلان صوبے کے عوام کا اعتماد حاصل کر لے گا۔ امن و امان‘ پولیس کی کارکردگی ‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور وفاق سے وسائل کی تقسیم کے معاملات روزانہ کی بنیاد پر توجہ مانگتے ہیں۔ جو حکومت ان فیصلوں کواحتجاج کے بعد تک مؤخر کر دے‘ وہ اپنے ہی حقِ حکمرانی کے مقدمے کو کمزور کرتی ہے۔ چار اکتوبر کو قافلہ نکلے یا مذاکرات شروع ہو جائیں‘ اصل امتحان برقرار رہے گا۔ تحریک انصاف بتائے کہ اس کی جدوجہد کا سیاسی راستہ کیا ہے اور صوبے کی حکومت اس دوران عوام کو کیا دے رہی ہے؟ وفاق بتائے کہ وہ امن و امان قائم رکھنے کیلئے شہریوں کی زندگیوں کو مفلوج کیے بغیر کیا کر سکتا ہے؟ دونوں کے پاس تقریریں بہت ہیں لیکن ملک کو اب جواب چاہیے۔ کنٹینر سڑک کا راستہ روک سکتا ہے‘ سوال کا نہیں۔ اور اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے جب سیاستدان ایک دوسرے کو گھیرنے میں مصروف ہیں تو عوام کو اس محاصرے سے کون نکالے گا؟
خیبر پختونخوا حکومت اب فیصلہ کر لے کہ احتجاج یا گورننس ‘ اس کی ترجیح کیا ہے ؟ دوسری جانب وفاقی حکومت بھی یہ کلیئر کر لے کہ انہوں نے کے پی کو وفاق کی ایک اکائی سمجھ کر ڈیل کرنا ہے یا اپنی مخالف سیاسی جماعت کا گڑھ سمجھ کر ؟ ''اگلے 48گھنٹوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ‘‘ یہ جملہ دباؤ بڑھانے کیلئے ہے یا و اقعی کے پی میں کچھ ہونے جا رہاہے ؟ تادم تحریر اس کی وضاحت درکار ہے۔ا س مشکل وقت میں آئین ہی وہ رسی ہے جس کو تھامے رکھنا سب کے مفادمیں ہوگا۔ کسی بھی غلط اقدام سے اگر صوبے میں آگ بھڑک اٹھی تو ہاتھ میں ماچس پکڑے کرسی کا کھیل کھیلنے والوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...