تصویر جعلی زخم اصلی

اگر ملک کے سب سے بڑے صوبے‘ پنجاب کی وزیر اطلاعات کو اپنی جعلی وڈیو کے خلاف انصاف کیلئے مہینوں انتظار کرنا پڑے تو ایک لمحے کیلئے سوچئے کہ اس ملک کی عام خاتون کہاں کھڑی ہے؟ عظمیٰ بخاری کے ساتھ جو ہوا ‘اسے کسی سیاسی حمایت یا مخالفت کا معاملہ نہیں بنانا چاہیے۔ جولائی2024ء میں وہ اپنی جعلی وڈیو کے خلاف لاہور ہائیکورٹ پہنچیں۔ اگست میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تحقیقات اور عدالتی کارروائی چلتی رہی اور مارچ 2025ء میں ادارے کی پیشرفت رپورٹ کے بعد ان کی درخواست نمٹائی گئی۔ سوال بہت سادہ ہے‘ اگر وزارت‘ حکومت‘ وکلا‘ ذرائع ابلاغ اور ریاستی اداروں تک براہِ راست رسائی رکھنے والی ایک خاتون کو اپنی جعلی وڈیو کے خلاف اتنی طویل جنگ لڑنا پڑے تو ایک چودہ سالہ بچی‘ جس کا باپ مزدور ہے‘کیا کرے گی؟
یہ سوال اس لیے زیادہ خوفناک ہے کہ تین ستمبر کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال‘ بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم اور انٹر پول نے پاکستان کے بارے میں ایک تحقیق جاری کی ہے۔ اس کا صرف ایک عدد پوری ریاست کی نیند اڑانے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔ پندرہ لاکھ بچے! بارہ سے سترہ سال کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر سولہ میں سے ایک بچے کو محض ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ شرح تقریباً چھ فیصد بنتی ہے جبکہ بچوں کی تعداد کا تخمینہ 15 لاکھ ہے۔ مگر مجال ہے کہ یہ 15لاکھ بچے ہماری قومی سیاست کا مرکزی موضوع بن جائیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی بات بہت ہوتی ہے۔ وزیراعظم کے نوجوانوں سے متعلق منصوبے ہوں یا چاروں صوبوں کے نوجوانوں کیلئے بنائے گئے پروگرام‘ تقریبات‘ سپورٹس ایونٹ‘ قرض‘ لیپ ٹاپ اور فنی تربیتی سکیمیں؛ ہر طرف یہی سنائی دیتا ہے کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ لیکن یہ ساری گفتگو الفاظ کا گورکھ دھندا محسوس ہوتی ہے۔ تقریب ہو گئی‘ تقریر ہو گئی‘ تصویر بن گئی‘ اعلامیہ جاری ہو گیا۔ یہ بھی امکان ہے کہ جہاں سے فنڈنگ آئی ہو ان کو ایک خوبصورت کتابچہ بھی بھجوا دیا گیا ہو‘ لیکن پھر نوجوانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ اگر نوجوان واقعی ملک کا مستقبل ہیں تو یہ مستقبل بلیک میل ہو رہا ہو۔ ریاست کہاں ہے؟ کسی کی جعلی نازیبا تصویر بنا دی جائے تو اس کے ساتھ کون کھڑا ہو گا؟
اس تازہ تحقیق کا دوسرا عدد اور بھی زیادہ خوفناک ہے۔ 85 فیصد واقعات میں مبینہ مجرم بچے کا جانا پہچانا شخص تھا۔ یعنی ہماری برسوں پرانی نصیحت کہ اجنبی سے بچو‘ اب کافی نہیں۔ خطرہ دوست‘ واقف کار‘ ہم عمر یا اعتماد والے شخص سے بھی ہو سکتا ہے۔ پھر ایک اور عدد آتا ہے‘ 57 فیصد متاثرہ بچوں نے کسی کو بتایا ہی نہیں۔ یہ ہمارے خاندانی اور معاشرتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ سوال یہ کہ بچہ کیوں نہیں بتاتا؟ کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اس سے موبائل چھین لیا جائے گا۔ بچی خوفزدہ ہے کہ سکول‘ کالج جانا بند ہو جائے گا۔ سوال مجرم سے پہلے اس سے ہو گا کہ تم نے اس سے بات کیوں کی؟ تصویر کیوں بھیجی؟ اسے دوست کیوں بنایا؟ مجرم جرم کرتا ہے اور ہمارا معاشرہ اس کیلئے خاموشی کا حفاظتی حصار کھڑا کر دیتا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت نے ایسے درندوں کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جس کیلئے کسی سکول کی تقریب‘ سالگرہ یا گھر میں کھینچی گئی ایک عام تصویر ہی کافی ہے۔ چند لمحوں میں بچے کو ایسی نازیبا حالت میں دکھایا جا سکتا ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ پاکستان میں ہونے والی تحقیق میں بچوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی نازیبا تصاویر اور وڈیوز بنائے جانے کے واقعات بھی بیان کیے۔
عالمی منظرنامہ اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ گیارہ ممالک کی تحقیق کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کا تخمینہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک سال میں کم از کم بارہ لاکھ بچوں کی تصاویر نازیبا جعلی تصاویر میں تبدیل کی گئیں۔ بعض ممالک میں یہ شرح ہر 25 بچوں میں ایک تک پہنچتی ہے۔ یہاں لفظ جعلی ہمیں دھوکا دیتا ہے۔ تصویر جعلی ہے‘ لیکن صدمہ اصلی ہے۔ جسم جعلی ہے‘ لیکن چہرہ اصلی ہے۔ منظر جھوٹا ہے لیکن بلیک میلنگ اصلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا اب تسلیم کر رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے کیا گیا جنسی استحصال بھی استحصال ہی ہے۔ یہ واقعہ حقیقت میں نہ بھی ہوا ہو‘ لیکن بچے‘ اس کی شناخت‘ عزت‘ ذہنی سکون اور زندگی کو حقیقی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہماری حکومت ہر جگہ بے بس نہیں۔ طاقتور کیلئے راستہ صاف کرنا ہو تو انتظامیہ فوراً حرکت میں آ جاتی ہے۔ اہم شخصیات کیلئے حفاظتی گاڑیاں درکار ہوں تو اربوں روپے نکل آتے ہیں۔ حکمرانوں کیلئے اربوں روپے کا جہاز‘ مہنگا ترین پروٹوکول‘ عالیشان دفاتر اور رہائش‘ بلٹ پروف گاڑیاں اور انتہائی تربیت یافتہ سکیورٹی اور سرکاری سہولت کا سوال ہو تو فائل رفتار پکڑ لیتی ہے۔ بڑے زمیندار‘ طاقتور کاروباری حلقے‘ سیاسی خاندان اور مختلف مفاداتی گروہ دہائیوں سے ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کس کیلئے کتنی جلدی حرکت میں آتی ہے۔ ہماری سیاست کا المیہ بھی عجیب ہے۔ عوام کے مسئلے پر قومی اتفاق پیدا کرنا مشکل ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم ہو تو اختلاف‘ نئے صوبے بنانے پر اختلاف‘ تعلیم پر اختلاف‘ صحت پر اختلاف‘ ٹیکس اصلاحات پر اختلاف‘ بلدیاتی نظام پر اختلاف۔ لیکن چودھراہٹ یا اقتدار کا حساب بگڑ جائے‘ حکومت بنانے یا بچانے کا سوال آجائے‘ اختیارات نچلی سطح پر تقسیم کرنے کی بات ہو‘ نئے صوبے بنانے کی بات ہو تو ان سب سیاستدانوں کے مشترکہ مفادات خطرے میں پڑ جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ برسوں سے ایک دوسرے کو چور‘ ڈاکو‘ غدار‘ کرپشن کا بادشاہ اور ملک کی تباہی کا ذمہ دار کہنے والے بھی ایک میز پر بیٹھنے کا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یعنی مفاد مشترک ہو تو دشمنی مستقل نہیں رہتی۔
تو کیا پندرہ لاکھ بچے ہمارا مشترکہ مفاد نہیں؟ کیا وزیراعظم‘ چاروں وزرائے اعلیٰ‘ حکومت اور حزبِ اختلاف ایک مرتبہ ان بچوں کیلئے ایک میز پر نہیں بیٹھ سکتے؟ کیا پارلیمان‘ تحقیقاتی ادارے‘ پولیس‘ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال‘ تعلیمی محکمے اور بچوں کے تحفظ کے ادارے مل کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کسی انسان کی مصنوعی ذہانت سے جعلی نازیبا تصویر بنانے والا خواہ کسی جماعت‘ خاندان‘ طبقے یا حیثیت سے تعلق رکھتا ہو‘ قانون اس کیلئے ایک ہو گا؟ یہاں عظمیٰ بخاری صاحبہ کا معاملہ پھر ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر ایک وزیر کی جعلی وڈیو بنانا گھٹیا‘ قابلِ مذمت اور قابلِ تعزیر حرکت ہے تو کسی سیاسی کارکن‘ صحافی‘ طالبہ‘ گھریلو خاتون‘ یا تیرہ سالہ بچی کیخلاف بھی یہ حرکت اتنی ہی گھٹیا اور قابلِ سزا ہونی چاہیے۔ جرم کی سنگینی متاثرہ شخص کے عہدے سے طے نہیں ہوتی۔ قانون کو چہرہ نہیں جرم دیکھنا چاہیے۔ اور سزا ایسی ہونی چاہیے کہ کسی عورت‘ مرد‘ بچے یا بچی کا چہرہ اٹھاکر اسے نازیبا منظر میں ڈھالنے والا اسے مذاق‘ سیاسی جنگ یا اظہارِ رائے کہہ کر بچ نہ سکے۔ اظہارِ رائے کی آزادی یا سیاسی اختلاف کسی عورت کی عزت اچھالنے کا اجازت نامہ نہیں۔ آن لائن جرائم سے بچانے کا نظام بھی ایمرجنسی ریسکیو سروس جیسا ہونا چاہیے۔ فوری ہیلپ لائن نمبر‘ چوبیس گھنٹے تربیت یافتہ عملہ‘ فوری ثبوت محفوظ کرنے کا طریقہ‘ جعلی تصاویر اور وڈیوز ہٹانے کا نظام‘ تربیت یافتہ تفتیش کار اور نفسیاتی مدد۔ بچے کو اپنی اذیت دس افسروں کے سامنے دس مرتبہ نہ سنانی پڑے۔ سکولوں میں بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ آن لائن بلیک میلنگ کا سامنا کیسے کرنا ہے‘ اور والدین بھی خود کو بری الذمہ نہ سمجھیں۔ بچے کا موبائل چھین لینا تحفظ نہیں‘ اسکا اعتماد حاصل کرنا تحفظ ہے۔ قومیں اپنے بچوں سے محبت تقریروں‘ تقریبات‘ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے اور تصویریں بنوانے سے ثابت نہیں کرتیں۔ وہ قانون‘ بجٹ‘ سزا‘ تحفظ اور عملی اقدامات سے ثابت کرتی ہیں۔ اگر طاقتوروں کے مفاد کیلئے برسوں کے دشمن ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں تو پندرہ لاکھ بچوں کیلئے پوری ریاست ایک میز پر کیوں نہیں بیٹھ سکتی؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...