سفارتی آئینہ

قطر سے لندن اور لندن سے کینیڈا پہنچا تو ہزاروں میل کے سفر نے پاکستان کو مختلف فاصلے سے دیکھنے کا موقع دیا۔ بعض اوقات اپنے ملک سے دور بیٹھ کر وہ چیز صاف دکھائی دیتی ہے جو روز آنکھوں کے سامنے رہتے ہوئے معمول بن جاتی ہے۔ کینیڈا کی ایک حقیقت نے مجھے روک لیا۔ 1867ء میں کینیڈین کنفیڈریشن صرف چار صوبوں سے شروع ہوئی‘ وقت گزرا‘ ضروریات بدلیں اور آج کینیڈا دس صوبوں اور تین territories پر مشتمل ہے۔ ریاست نے نقشے کو انسانوں کی ضرورت کے تابع رکھا‘ انسانوں کو نقشے کا قیدی نہیں بنایا۔ میں اس وقت کینیڈا میں ہوں اور یہاں بیٹھ کر پاکستان کا نقشہ دیکھتا ہوں تو سوال ذہن میں آتا ہے کہ ہم پاکستانیوں نے انتظامی لکیروں کو انسانوں سے زیادہ مقدس کیوں سمجھنا شروع کردیا؟
چودہویں صدی کے عظیم مسلم مفکر ابن خلدون نے 'مقدمہ‘ میں ریاستوں کے عروج و زوال کو اقتدار‘ انصاف‘ معیشت اور اجتماعی قوت کے باہمی تعلق سے سمجھایا۔ اس فکر کا بنیادی سبق یہی ہے کہ ریاست صرف محل‘ خزانے اور طاقتور حکمران سے مضبوط نہیں ہوتی‘ اصل قوت اس رشتے میں ہوتی ہے جو حکومت اور عوام کو جوڑتا ہے۔ جب اقتدار عوام کی ضرورت سے دور اور حکمران طبقے کے مفاد کے قریب ہوتاہے تو ریاست اندر سے کمزور ہونے لگتی ہے۔ پاکستان کو اسی کسوٹی پر رکھ کر دیکھئے۔ یہاں کروڑوں انسانوں کو روزگار‘ تعلیم‘ علاج‘ صاف پانی‘ انصاف اور اپنے دروازے کے قریب ریاست چاہیے۔ سوال وسائل کی مقدار کا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ دستیاب وسائل اور اختیار عام پاکستانی تک پہنچتے کیوں نہیں؟ اس کا جواب لاہور‘ کراچی یا اسلام آباد کے اجلاسوں میں نہیں ملے گا۔ جنوبی پنجاب کے کسی گاؤں‘ اندرونِ سندھ کی کسی بستی‘ بلوچستان کے دور دراز ضلع یا خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں میں چلے جائیں‘ جواب سامنے ہوگا۔ پاکستان کا بحران صرف وسائل کی کمی نہیں‘ فاصلوں کی زیادتی ہے۔ عوام اور اختیار کا فاصلہ‘ ضلع اور دارالحکومت کا فاصلہ‘ ٹیکس دینے اور خرچ کرنے والے کا فاصلہ اور سب سے خطرناک ریاست اور شہری کا فاصلہ۔
گزشتہ چند روز میں پاکستان میں تعینات بعض اہم غیرملکی سفارتکاروں سے ہونے والی ملاقاتوں نے میرے سامنے ایسے بدترین نظام کی ایک ایسی خوفناک تصویر رکھی جو ہمارے حکمران شاید سننا پسند نہ کریں۔ ان سفارتکاروں کے مطابق ان کے متعلقہ مشنز نے پاکستان کی معیشت‘ غربت‘ گورننس‘ وسائل کی تقسیم اور انتظامی ساخت پر تحقیق‘ سرویز اور تجزیے کرائے‘ زمینی حالات دیکھے اور اپنے دارالحکومتوں کو جائزے بھجوائے۔ ان گفتگوئوں میں رائے نمایاں تھی کہ اختیار اور وسائل کا غیر معمولی ارتکاز عام شہری تک ریاستی ثمرات پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک طاقتور ملک کے اہم سفارتکار سے گفتگو ذہن میں نقش ہے۔پاکستان کے مختلف علاقوں کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایسی بستیاں اور لوگ‘ بچے اور قابل نوجوان دیکھے مگران کی حالت دیکھ کر کئی راتوں کو نیند نہیں آئی‘ سب سے مشکل سوال یہ تھا کہ ایک ہی ملک میں دو پاکستان کیسے آباد ہیں؟ ایک طرف حکمران اشرافیہ کا پروٹوکول‘ گاڑیاں‘ رہائشیں اور سرکاری اخراجات کا الگ پاکستان‘ اوردوسری طرف صاف پانی‘ علاج‘ سکول اور روزگار کیلئے ترستا پاکستان۔ پھر میرے سوال پر انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو ہمارے سیاسی نظام کو آئینہ دکھانے کیلئے کافی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے بعض اہم سیاستدان ان کے سامنے اپنے صوبوں اور عوام کی غربت کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوجاتے تھے۔ فنڈنگ‘ قرضوں اور مالی تعاون کیلئے بتایا جاتا کہ وسائل نہ ملے تو غریب عوام مزید مشکلات کا شکار ہوں گے۔ ان کے ملک اور متعلقہ اداروں نے حالت دیکھ کر تعاون بھی کیا لیکن بعد میں ہونے والے داخلی جائزوں کے نتائج نے انہیں پریشان کردیا۔ان کا سوال تھا‘ اگر امداد‘ قرض اور فنڈنگ عوام کے حالات بدلنے کیلئے تھے تو برسوں بعد بھی ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی کیوں نہیں بدلی؟ یہ ایک سفارتکار کا تاثر نہیں بلکہ بیشمار اہم افراد کی حکمرانوں کے خلاف چونکا دینے والی چارج شیٹ تھی۔ ایک دیگر سفارتی ذریعے کا سوال مزید سخت تھا کہ یہ کیسا نظام ہے جس میں ٹیکس عوام کا‘ پیسہ عوام کا‘ منصوبہ عوام کے خزانے سے اور تختی حکمران کے نام کی ہوتی ہے؟ سڑک عوام کے پیسے سے بنے تو حکمران کا تحفہ‘ ہسپتال بنے تو شخصیت کا نام‘ سکیم شروع ہو تو شخصیت کی تصویر دوسری طرف غربت اور بیروزگاری اپنی جگہ جبکہ حکومتی اشتہارات میں کامیابی کے شادیانے بجتے رہیں‘ جھوٹے دعوے ہوتے رہیں۔ ایک اہم سفارتکار کے الفاظ کا مفہوم تھا کہ یہی وقت ہے‘ جو کرنا ہے کرلیجئے! ممکن ہے ایسا موقع دوبارہ نہ ملے۔ اُن کے نزدیک موجودہ عسکری قیادت نے ہر محاذ پر کامیابیاں حاصل کی اور یہی قیادت ملک و عوام کی ترقی کیلئے نئے صوبائی یونٹس کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہمت کرے۔ عام پاکستانی کو اس کا حق دینے اور ملک کو پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کا یہ بہترین موقع ہے۔
میری معلومات کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی حلقوں میں بھی اس سوچ کے حامی بڑھے ہیں۔ ایک وقت میں اراکین کی جو تعداد تقریباً 150 بتائی جارہی تھی‘ اب 250 سے بھی زیادہ ہونے کے دعوے سامنے آرہے ہیں۔ ممکن ہے یہی لوگ ایک منظم پارلیمانی قوت کی شکل میں سامنے آجائیں۔ حتمی تعداد صف بندی کے بعد واضح ہوگی۔ اصل سوال صوبے کے نام کا نہیں یہ ہے کہ جہاں غربت ہے‘ بیروزگاری ہے‘ محرومی ہے ریاست کا پیسہ اور اختیار وہاں کیوں نہیں پہنچ رہا؟ المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں قیادت کا قحط نہیں‘ سیاسی دروازوں کا قحط ہے۔ کہیں باپ کے بعد بیٹا‘ بھائی کے بعد بھائی‘ شوہر کے بعد بیوی اور والد کے بعد بیٹی۔انتخابات ہوتے ہیں مگر طاقت کا دائرہ مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتا رہتا ہے۔پھر یہی نظام ہمیں بتاتا ہے کہ انتظامی اصلاح مہنگی پڑے گی۔عوام کو اصلاحات مہنگی نہیں پڑ رہیں‘ آپ کا موجودہ نظام مہنگا پڑ رہا ہے! اتھارٹیاں‘ سرکاری کمپنیاں‘ بورڈ‘ ٹاسک فورسز‘ مشیر‘ معاونین‘ پروٹوکول‘ جہاز اور گاڑیاں مہنگی ہیں۔ ناکام منصوبہ بندی مہنگی ہے اور سب سے بڑھ کر اختیار کا ارتکاز مہنگا ہے۔
کینیڈا ہو یا دیگر ترقی یافتہ ممالک ان کا ماڈل پاکستان پر نقل نہیں ہوسکتا‘ ہماری تاریخ اور حساسیات مختلف ہیں مگر ایک اصول ضرور سمجھ آتا ہے کہ ریاست کا انتظام انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے‘ انسان فرسودہ انتظام کا قیدی نہیں ہونا چاہیے۔ شاید اسی لیے اُس سفارتکار کی بات بار بار ذہن میں آتی ہے کہ یہی وقت ہے۔ بعض اوقات تاریخ ایک نسل کے سامنے صرف ایک مرتبہ دروازہ کھولتی ہے۔ اگر طاقت کے اہم مراکز بنیادی انتظامی اصلاح پر متفق ہیں تو اسے اگلے الیکشن یا کسی خاندان کے اقتدار کے ترازو میں نہیں تولنا چاہیے۔ غربت میں پیدا ہونے والا بچہ‘ روزگار کیلئے جوتے گھساتا نوجوان‘ علاج سے محروم خاندان اور دہائیوں سے وسائل کا انتظار کرتے علاقے اصل پیمانہ ہونے چاہئیں۔ جو قیادت مزید سمیٹنے کے بجائے عوام میں تقسیم کرنے کا حوصلہ دکھائے گی‘ تاریخ اسے ہی یاد کرے گی۔
ابن خلدون کی فکر کی طرف واپس آئیں تو ریاست کی اصل قوت تخت‘ پروٹوکول یا خزانے میں نہیں‘ اس تعلق میں ہے جو ریاست اور معاشرے کو جوڑتا ہے۔ نام کچھ بھی رکھ لیجئے‘ نقشہ جیسے بھی بنائیے‘ آئینی راستہ جو بھی اختیار کیجئے‘ منطق صرف ایک ہونی چاہیے حکومت وہاں پہنچے جہاں محرومی ہے‘ وسائل وہاں پہنچیں جہاں ضرورت ہے اور اختیار وہاں پہنچے جہاں شہری کھڑا ہے۔ ورنہ تختیاں بدلتی رہیں گی‘ تصویریں بدلتی رہیں گی اور عام پاکستانی وہیں کھڑا رہے گا جہاں اسے دہائیوں سے کھڑا رکھا گیا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اختیار تقسیم کرنے کا طریقہ معلوم نہیں‘اصل مسئلہ یہ ہے کہ جن کے ہاتھ میں اختیار ہے‘ وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کیلئے ایک معرکہ پاکستانی عوام کو کامیابی سے سر کرنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...