نیا بندوبست!

پاکستان کا مستقبل کسی آئینے میں دکھائی نہیں دیتا‘ اس پر سیاست‘ معیشت‘ احتجاج‘ اشرافیہ‘ احتساب اور اقتدار کی دھند جمی ہے۔ ایک طرف مہنگائی سے بلکتا شہری ہے‘ دوسری طرف مراعات یافتہ طبقے کیلئے کھلتے خزانے‘ تیسری جانب سیاسی تصادم اور چوتھی سمت ریاستی رِٹ کا سوال۔ ملک میں کئی محاذ بیک وقت کھلے ہیں اور ہر محاذ پر نقشہ بدلنے کی کوشش ہے۔ سوال ہے کہ یہ نقشہ استحکام دے گا یا نیا تجربہ؟ اس ہنگامے کے درمیان سب سے بڑی کہانی نئے صوبوں کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک سے زیادہ مرتبہ یہ واضح اعلان کرچکے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ محض گفتگو نہیں اس پر ہماری سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے کام جاری ہے اور صوبے بنیں گے۔ انکا اعتماد بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے فائلیں بہت تیزی سے چل رہی ہیں‘ نقشے بھی دیکھے جارہے ہیں اور سیاسی ردعمل بھی ناپا جارہا ہے۔ محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف نئے انتظامی مستقبل کا اعلان ہے۔ صوبے ہر صورت بنیں گے اور بننے بھی چاہئیں۔ آئینی مراحل طے کرکے اس قومی ضرورت کو حقیقت بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ نئے صوبے مضبوط اور عوام دوست پاکستان کی بنیاد بنیں گے۔تاہم نئے صوبوں کا نام آتے ہی کئی بڑے سیاسی گھرانوں کی نیند کیوں اڑ جاتی ہے؟ وجہ عوامی خدمت سے زیادہ اقتدار ہے۔ صوبہ تقسیم ہوگا تو حلقے بدلیں گے‘ اسمبلیاں بڑھیں گی‘ وزارت اعلیٰ کے نئے امیدوار پیدا ہوں گے‘ وسائل کی تقسیم کا فارمولا بدلے گا اور کئی دہائیوں سے قائم سیاسی جاگیریں چھوٹی ہوجائیں گی۔ اسی لیے پاکستانی نئے صوبے چاہتے ہیں کہ دارالحکومت‘ اختیار اور خزانہ انکی دہلیز کے قریب رہے۔ میں گزشتہ کالم میں اشارہ کرچکا ہوں کہ ایک سیاسی جماعت کے سینئر ترین بزرگ سیاستدان نے مخالفت کا ارادہ ظاہر کیا تو انکے اپنوں نے ہی واضح کردیا کہ ملکی فیصلے کن بنیادوں پر ہورہے ہیں اور نئے صوبوں کی گاڑی واپسی کیلئے نہیں نکلی۔ ممکن ہے ان صاحب کو صوبوں سے زیادہ اب آئندہ انتخابات کی تاریخ کی فکر ہو۔ اسلام آباد اور لندن کے حلقوں میں یہ سرگوشیاں بھی سنائی دیتی ہیں کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کی دو اہم شخصیات نے کسی بااثر شخصیت سے ملاقات کرکے یہ مؤقف پیش کیا کہ وہ نئے صوبوں کی حمایت کیلئے تیار ہیں مگر انتخابات کی واضح تاریخ بھی دی جائے۔ ممکن ہے انکی خواہش ہو کہ عام انتخابات 2027 ء میں کرادیے جائیں تاکہ انکی اگلی نسل یا انکی جماعت سیاسی میدان میں فعال رہے۔ اس ملاقات کی تصدیق تو فی الحال نہیں ہوئی اس لیے اسے اقتدار کی راہداریوں میں گردش کرتی افواہ سمجھنا چاہیے۔ موجودہ اسمبلی مدت پوری کرے تو انتخاب 2029ء میں بنتا ہے‘ 2027ء کا راستہ قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرنے یا کسی بڑے سیاسی سمجھوتے ہی سے نکل سکتا ہے۔ ایک فارمولا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہی جماعتوں کو نئے صوبے بنانے کے عمل میں شریک کیا جائے اور بدلے میں بتایا جائے کہ 2027 ء میں عام انتخابات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات بھی ہوں گے جبکہ نئی اکائیوں میں انہیں آزادانہ میدان ملے گا۔ مگر یہاں ایک دوسرا زاویہ بھی موجود ہے وہ یہ کہ انتخابات ہوجائیں لیکن کسی پرانی جماعت کو واضح برتری نہ ملے اور نئے چہرے سامنے آئیں۔ میرے ذرائع ایک نئی (ق) لیگ جیسے بندوبست کی تیاری کا ذکر کرتے ہیں‘ جس میں پرانی (ق) لیگ کے منجھے ہوئے سیاستدان‘ ٹیکنوکریٹ‘ الیکٹ ایبلز اور مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے آنے والے شامل کیے جاسکتے ہیں۔ یوں نئے صوبوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی نقشہ بھی ابھر سکتا ہے۔ اس امکان کو موجودہ جماعتوں کی اندرونی کیفیت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
مسلم لیگ (ن) دو طاقتور حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے ‘ ایک طرف اہم ترین عہدیدار اور چیف آرگنائزر اور پنجاب کا حکومتی مرکز ہے‘ دوسری طرف سابق وزیراعلیٰ پنجاب ہیں جو وفاق میں بیٹھ کر پنجاب کے سیاستدانوں سے رابطے میں ہیں۔ ان کے سامنے ناانصافیوں کے انبار لگائے جارہے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی میں بھی دو گروپ سرگرم ہیں‘ ممکن ہے ایم کیو ایم کو مزید فعال کردار ملے اور بعض حلقوں میں جمعیت علمائے اسلام کیلئے جگہ بنائی جائے تاکہ تحریک انصاف کی مقبولیت تقسیم ہو۔ یہی چہرے اپنے بیانیے کو ری سیٹ کرکے عوام کے سامنے نئے سیاسی بندوبست کی صورت میں پیش کرسکتے ہیں۔ نئے چہرے پہلے نیا بیانیہ لاسکتے ہیں لیکن اسکی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کونسی جماعت اقتدار میں آئی اور کونسی منظر سے ہٹ گئی۔ اصل سوال ہوگا کہ تبدیلی سے عام شہری کو کیا ملا؟ نئے صوبوں کی بحث کا مرکز سیاسی خاندان نہیں بلکہ وہ شہری ہونا چاہیے جو سرکاری کام‘ علاج‘ تعلیم‘ روزگار اور انصاف کیلئے سینکڑوں کلو میٹر سفر کرنے پر مجبور ہے۔ نیا صوبہ اس شہری کیلئے نقشے پر کھنچی لکیر نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو اسکے دروازے تک لانے کا راستہ ہوگا۔ یہی دلیل نئے صوبوں کے قیام کو بالآخر ناگزیر بناتی ہے۔نئے صوبے نئے انتظامی مراکز‘ نئی اسمبلیاں اور نئی قیادت ہی پیدا نہیں کریں گے بلکہ وسائل‘ ملازمتوں اور ترقی کے مواقع کو چند بڑے شہروں کی گرفت سے آزاد کریں گے‘ اختیارات ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل تک جائیں گے‘ مالی وسائل منصفانہ تقسیم ہوں گے اور شہریوں کو روزگار کیلئے لاہور‘ کراچی‘ پشاور یا کوئٹہ حاضری نہیں دینا پڑے گی۔ اس پورے بندوبست میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو لاعلم سمجھنا سیاسی سادگی ہو گی۔ دونوں نے اقتدار بنتے‘ ٹوٹتے اور دوبارہ بنتے دیکھا ہے۔ انہیں اندازہ ہوگا کہ احتساب کی سوئی ہمیشہ ایک ہی مقام پر نہیں رکتی۔ پی ٹی آئی کے بعد اگلی باری مسلم لیگ (ن)‘ پی پی یا خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے والے سیاستدانوں کی بھی آسکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یکم اکتوبر کے بعد نیب اور اینٹی کرپشن کی بڑی فعالیت کی بات ہورہی ہے۔ اسکی بھی سرکاری تصدیق موجود نہیں مگر کارروائی ہوئی تو اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا بڑے نام قانون کی گرفت میں آتے ہیں یا ہمیشہ کی طرح چند پٹواری‘ کلرک اور نچلے ملازمین کامیابی کی فہرست بن جائیں گے؟ احتساب اگر نقشہ بدلنے‘ وفاداریاں تبدیل کرانے یا نئی جماعت کیلئے امیدوار فراہم کرنے کا اوزار بنا تو اس سے اصلاح نہیں ایک اور سیاسی انجینئرنگ جنم لے گی۔ پاکستان کا المیہ کرپشن سے زیادہ من پسند احتساب ہے‘ یہاں فائل جرم کے وقت نہیں سیاسی ضرورت کے وقت کھلتی ہے۔ اکتوبر واقعی اہم پیشرفت کا مہینہ بنتا ہے تو نئے صوبوں کا آئینی سفر کسی شخصیت یا جماعت کی خواہش کے تابع نہیں رہنا چاہیے۔ یہ اب قومی ضرورت ہے اور پارلیمان کو عوامی مفاد میں اسے بلا تاخیر حقیقت بنانا ہوگا۔ مستقبل کے آئینے میں تین تصویریں ابھرتی ہیں‘ نئے صوبے‘ پرانی جماعتوں کی اندرونی تقسیم اور نئے سیاسی بندوبست کی طرف پیشرفت۔ ممکن ہے انتخابات جلد کرانے کی یقین دہانی پر آئینی تبدیلی کا راستہ مزید ہموار ہوجائے۔ ممکن ہے نئی جماعت بنے اور پرانے چہرے نئی ٹوپیاں پہن کر قومی مفاہمت کا دعویٰ کریں۔ سیاسی مزاحمت اس سفر کی رفتار کچھ کم کرسکتی ہے مگر اسے روک نہیں سکتی۔ محسن نقوی کا اعلان اسی حقیقت کی گواہی ہے کہ صوبے اب بنیں گے۔ پاکستان اپنے فرسودہ انتظامی سانچے میں قید نہیں رہ سکتا؛ نئی اکائیاں قومی وحدت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کریں گی۔ میری اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں نئے صوبوں کے باب میں بڑی پیشرفت متوقع ہے۔ یہ پیشرفت ملک کو زیادہ متوازن‘ مضبوط اور قابلِ انتظام وفاق بنانے کی ابتدا ہوسکتی ہے۔ حکومت کو نقشے‘ مالی تخمینے‘ دارالحکومت‘ پانی‘ ملازمتوں‘ قرضوں‘ اثاثوں‘ نئی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کا مکمل خاکہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ مخالفین ابہام کی آڑ نہ لے سکیں۔ اپوزیشن کو بھی سیاسی جاگیریں بچانے کے بجائے اس قومی ضرورت کا ساتھ دینا ہوگا۔ محسن نقوی نے درست کہا کہ صوبے ہر صورت بنیں گے؛ اب یہ وعدہ آئینی اقدام میں ڈھلنا چاہیے۔ نئے صوبے کوئی سیاسی تجربہ نہیں‘ کروڑوں محروم شہریوں کا حق اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ناگزیر ضمانت ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...