یہی کمپنی چلے گی!

''اب یہی کمپنی چلے گی‘ پلان پر عملدآمد شروع ہوچکا ہے‘‘۔ اقتدار کے بازار میں یہ جملہ سن کر کچھ چہرے کھل اٹھتے ہیں اور کچھ اُتر جاتے ہیں مگر سڑک کنارے بیٹھے شہری کا سوال مختلف ہے کہ اگر یہی کمپنی چلے گی تو میرا گھر بھی چلے گا؟ بچے کو سکول‘ بیمار کو دوا‘ نوجوان کو روزگار اور خاندان کو تحفظ ملے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب پر نئے سیٹ اَپ کی حمایت کی بنیاد کھڑی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عملی نتائج دینے والے سیٹ اَپ کو موقع ملنا چاہیے کیونکہ عوام نے سیاسی دکانوں سے وعدے‘ دعوے‘ اعلانات اور بیانات بہت خریدے لیکن سہولتیں نہ مل سکیں۔ اب کمپنی چلانے والوں کا امتحان ہے کہ منصوبہ کاغذ سے نکل کر عام شہری کی دہلیز تک پہنچے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی 'گڈ گورننس‘ کی تصویر ملاحظہ کیجیے۔ تحریک انصاف نے 31 مئی 2013ء کو پہلی حکومت بنائی‘ اکتوبر 2026ء تک 13 سال 4 ماہ کے دوران نگران ادوار نکال کر تقریباً 12 سال کی حکمرانی بنتی ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ 2010ء سے 2026ء تک‘ جس میں تحریک انصاف سے پہلے کا دور بھی شامل ہے‘ انسدادِ دہشت گردی کیلئے 800 ارب روپے دیے گئے۔ وزیر دفاع کے بیان کے مطابق دو برس میں دہشتگردی کے 6200 واقعات‘ 1200 اموات‘ رواں سال تادم تحریر 14 خودکش حملے ہوئے۔ اسی طرح پانچ سے 16 سال عمر کے 49 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اَپر و لوئر کوہستان میں محرومی کی شرح 79 فیصد۔ پشاور میں پانچ لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم۔ 28 اضلاع کے 10 ہزار سے زیادہ سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی۔ جون 2025ء کی ہسپتال مانیٹرنگ میں 174 ضروری ادویات کی دستیابی 45 فیصد تھی۔ 4 لاکھ 22 ہزار 947 افراد کیلئے ایک ضلعی ہسپتال ہے۔ 2025ء میں پولیو کے31 کیسز میں 20 کیسز کے پی اور ان میں 17 جنوبی اضلاع سے رپورٹ ہوئے۔ 2026ء میں اب تک چھ میں سے پانچ کیسز کے پی سے رپورٹ ہوئے۔ جون 2026ء کی ترقیاتی سکیموں کی تفصیلات میں 547 ارب کے تخمینے کے مقابلے میں 169 ارب یعنی تقریباً 31 فیصد خرچ ہوا۔ بجٹ 2026-27ء میں 2170 ارب کا حجم‘ 48 ارب خسارہ‘ 524 ارب ترقیاتی تخصیص۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کی زندگی ہے۔ تحریک انصاف نظام میں تبدیلی لانے میں ناکام رہی۔ کبھی بلین ٹری‘ کبھی صحت کارڈ اور تعلیم کے منصوبوں میں خورد برد کے سوالات اٹھے مگر عوام کے حالات بالکل نہ بدلے۔ امن کیلئے ملنے والے خطیر فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟ کرائے کے مکانات والے بعض سیاستدان عالیشان گھروں‘ زمینوں اور جائیدادوں کے مالک کیسے بنے؟ چند ماہ میں رہن سہن بدل گیا‘ اشرافیہ میں شمار ہونے لگے مگر عوام کا کچھ نہ بنا۔ دولت بڑھنا جرم نہیں لیکن آمدن‘ اثاثوں اور ٹیکس کا حساب ضروری ہے۔
تحریک انصاف نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری اور صوبائی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ سہیل آفریدی کی حکمت عملی دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ شاید جماعت کا سب سے بڑا مخالف اس کا اپنا وزیراعلیٰ تھا۔ محسن نقوی نے مذاکرات اور طے شدہ نکات کے بارے میں حقائق بیان کر دیے کہ کیسے مذاکرات پر آمادہ ہوئے‘ پھر کیسے اور کیونکر پیچھے ہٹے۔ اگر صوبائی حکومت کام کرتی اور وفاق کیساتھ مل کر چلتی تو آج حالات مختلف ہو سکتے تھے۔ ایک معروف صحافی سے منسوب روایت میں بتایا گیا کہ انہوں نے افغانستان سے واپس آکر کسی شخصیت سے جماعت سے وابستہ افراد بشمول نوجوانوں کی بڑی تعداد وہاں موجود ہونے کا ذکر کیا۔ اگر ریاست مخالف سرگرمیوں کے شواہد ملیں تو سوال تو ہو گا۔ سہیل آفریدی سے پوچھنا چاہیے کہ دہشت گردی اور افغانستان سے حملوں کی مذمت میں تذبذب کیوں دکھائی دیا؟ صوبے کے عوام کی ضروریات احتجاج پر کیوں قربان ہوئیں؟ اب ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت وفاقی کردار بڑھا ہے۔ محسن نقوی پشاور پہنچے‘ اجلاس کی صدارت کی اور معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اطلاعات کے مطابق نفاذِ امن کی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔ مائنز کے ٹھیکے ہوں‘ سمگلنگ یا منشیات کا مسئلہ‘ ہر ملوث شخص کے گرد گھیرا تنگ ہو گا۔ بتایا جارہا ہے کہ 'محسن سپیڈ‘ فارمولے کے تحت گورنر اور ٹیکنوکریٹس کو متعلقہ محکموں کی ذمہ داریاں اور ٹاسک دیے گئے ہیں‘ آنیوالے دنوں میں مزید تیزی دیکھنے کو ملے گی۔ امن وامان کی صورتحال پر کنٹرول کیساتھ ترقیاتی کاموں کا جال‘ تعلیم‘ صحت اور دوسرے شعبوں میں تیزی‘ کم وقت میں زیادہ عملی کام۔ یہی نئے سیٹ اَپ کا ہدف ہے۔ ہمیشہ اسی سسٹم نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ کے پی میں یہ سسٹم کامیاب ہوا تو دوسرے صوبوں میں اس ماڈل کے آئینی نفاذ کی دلیل مضبوط ہو گی۔ملک چلانے کے طریقے پر بھی بحث بڑھے گی۔
پنجاب میں نسبتاً بہتری نظر آتی ہے مگر دعوؤں سے زیادہ مسائل اور مبینہ طور پر لوٹ مار کی فیکٹریاں چلنے کی شکایات عام ہیں۔ لاہور اور چند اضلاع پر توجہ‘ منصوبوں میں اربوں کی مبینہ بے ضابطگیاں‘ کارروائی کے بعد معاملہ دبانے کی شکایات‘ دکھاوا بہت زیادہ جبکہ سوالات کا جواب دینے میں مکمل ناکامی۔ سندھ کے بدترین حالات اور بلوچستان کی محرومیاں بھی جواب چاہتی ہیں۔ ملکی خزانے سے بیرونی دورے اور مہنگے سفر تب بہت چبھتے ہیں جب غریبوں کے بچے سڑکوں پر رُلتے ہیں۔ مجھے ان عالمی تنظیموں پر دکھ ہوتا ہے جو رنگ برنگی بریفنگز پر اعزاز دیتی ہیں اور زمینی حقائق نہیں دیکھتیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عملی اقدامات والی قیادت پر اعتماد بڑھانے کی گنجائش ہے۔ عالمی سطح پر صلاحیت دکھانے والوں کو اب داخلی خدمت کا موقع ملا ہے۔ میں نے ذرائع کے سامنے چار سوالات رکھے۔ ایک‘ عالمی سطح پر ہر محاذ پر بہترین کامیابی مگر اندرونی مسائل کے انبار کیوں؟ جواب ملا: اندرونی مسائل حل کرنے کی ذمہ داری جب سیاستدانوں پر ہوتی ہے تو مسائل ایسے ہی بڑھتے رہتے ہیں اور جب پوچھا جائے تو آئیں بائیں شائیں کی جاتی ہے۔ سوال پوچھا: نئے صوبے بنیں گے؟ جواب ملا: ہر صورت! اکتوبر کے فیصلے چند روز آگے ہو سکتے ہیں‘ جلد سرکاری سطح پر کمیشن یا کمیٹی کا اعلان متوقع ہے۔ چار وفاقی وزرا‘ دو سابق سینئر بیورو کریٹس جو چیف سیکرٹریز بھی رہے‘ دو دیگر ریٹائرڈ افسران‘ جن میں سے ایک آئی ایم ایف کے بورڈ میں رہے‘ چار وفاقی سیکرٹریز اور صوبائی چیف سیکرٹریز اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سوال کیا کہ کارکردگی سے متعلق وفاق یا صوبائی حکومتیں سب اچھا کا دعویٰ کرتی ہیں؟ جواب ملا: سب اچھا کہاں؟ پھر میری طرف ایسے دیکھا جیسے کہا ہو کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ہوکیا رہا ہے۔ کہا: جس معاملے کو دیکھیں مبینہ لوٹ مار کی کہانی۔ بعض طرم خانوں کے اپنے کاروبار اور خزانے بڑھتے چلے گئے مگر عوام مزید برے حالات میں پھنستے چلے گئے‘ ایسا کیوں؟ پوچھا: آپ تو بڑے ایوانوں میں آتے جاتے ہیں‘ رپورٹس بھی سب آپ کے پاس آتی رہتی ہیں‘ سیاستدان اب کیا سوچتے ہیں؟ جواب ملا: جانے والا یہی چاہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ مل جائے۔ ایک عہدیدار کا شکوہ سنایا کہ ہم نے سب داؤ پر لگایا‘ سیاست بھی مگر اب سزا کس بات کی؟ جب سب کچھ سامنے رکھا گیا تو پھر معذرت کی اور کہا کہ ہم تو پہلے ہی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کمپنی چلانے والوں نے دنیا کو صلاحیت اور امن کا پیغام دیا‘ اب عوامی اعتماد کو عملی نتائج سے مضبوط کرنا ہے۔ کمپنی اب پاکستان میں پیسے لانے کیلئے بھی پوری کوشش کر رہی ہے‘ جس کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق فی الحال یہی کمپنی لمبا اور بھرپور چلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بعض طرم خان سیاستدانوں سے شراکت داری جلد ختم ہوسکتی ہے اور اگر وہ اسی تنخواہ پر رہنا چاہیں تو شراکت داری جاری بھی رہ سکتی ہے‘ مگر یہ مشکل‘ بہت مشکل لگ رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ باری سب کی آنی ہے‘ کسی کی جلدی تو کسی کی کچھ تاخیر سے۔ اب تک کا پلان تو یہی نظر آ رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...