امریکی انتخابات، عالمی سیاست کا نیا موڑ

امریکہ کے مڈٹرم انتخابات محض ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں کیلئے سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت‘ حکومتی پالیسیوں اور آئندہ دو برس کے سیاسی مستقبل کا امتحان ہیں۔ 2026ء کے مڈ ٹرم انتخابات‘ جن کی گزشتہ روز ووٹنگ ہو چکی ہے‘ کے نتائج یہ طے کریں گے کہ ٹرمپ کا اقتدار مضبوط ہوگا یا انہیں اپنی صدارتی مدت کے باقی دو برس ایسی کانگریس کے ساتھ گزارنا پڑیں گے جو اُن کے فیصلوں کو چیلنج کرے گی۔ امریکہ میں ایک حیران کن انتخابی روایت موجود ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران تقریباً ہر وسط مدتی انتخاب میں اقتدار میں موجود صدر کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکی عوام اپنے منتخب کردہ صدر کی جماعت کے خلاف ووٹ کیوں دیتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا امریکی جمہوری نظام میں اقتدار کو محدود رکھنے کا ایک مستقل سیاسی رجحان موجود ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ اس مرتبہ تاریخ کا رخ تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ حالیہ مڈ ٹرم انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہے۔ اگر صدر کی جماعت دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھے تو قانون سازی نسبتاً آسان رہتی ہے‘ لیکن اپوزیشن کسی ایک ایوان کا کنٹرول حاصل کر لے تو صدر کو اپنے منصوبوں کی منظوری کیلئے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم امریکی سیاسی تاریخ کے اعداد و شمار ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتے ہیں۔ 1946ء سے 2022ء تک ہونے والے 20 وسط مدتی انتخابات میں سے 18 مرتبہ صدر کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان کی نشستوں کا نقصان ہوا۔ دوسرے الفاظ میں‘ گزشتہ 80 برس کے دوران 90 فیصد وسط مدتی انتخابات حکمران جماعت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ صرف دو مرتبہ حکمران جماعت یہ روایت توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ 1998ء میں صدر بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک پارٹی نے نشستیں بڑھائیں اور 2002ء میں صدر جارج ڈبلیو بش کی ریپبلکن پارٹی نے ایسا کیا۔ باقی انتخابات میں وائٹ ہاؤس پر قابض جماعت کو کم یا زیادہ نشستیں گنوانا پڑیں۔ سیاسیات کے ماہرین اس رجحان کو مڈٹرم پینلٹی یا صدارتی اقتدار کی انتخابی قیمت قرار دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد عوام کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ انتخابی مہم میں معاشی خوشحالی‘ روزگار‘ مہنگائی میں کمی‘ قومی سلامتی اور بہتر حکمرانی کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن ابتدائی دو برس میں ان تمام وعدوں کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا نتیجتاً بعض ووٹرز مایوسی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ مخالف جماعت کے حامی حکومت کو محدود کرنے کیلئے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ یوں وسط مدتی انتخابات صدر کی کارکردگی پر عوامی ردعمل کا اظہار بن جاتے ہیں۔ گزشتہ تقریباً 20 وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں اوسطاً 26 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ڈیموکریٹک صدور کے ادوار میں ان کی جماعت کو اوسطاً 29 نشستیں جبکہ ریپبلکن صدور کے ادوار میں تقریباً 23 نشستیں گنوانا پڑیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار آئندہ انتخاب کے نتائج کی پیشگوئی نہیں کرتے۔ ہر انتخاب میں معیشت‘ امیدواروں کی مقبولیت‘ مقامی مسائل‘ انتخابی حلقوں کی ساخت اور سیاسی حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود 80 سال پر محیط یہ رجحان حکمران جماعت کیلئے ایک مستقل چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔
امریکی تاریخ میں وسط مدتی انتخابات کی سب سے بڑی شکست 2010ء میں دیکھنے میں آئی۔ باراک اوباما 2008ء میں تاریخی کامیابی حاصل کرکے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے تھے لیکن صرف دو سال بعد ان کی ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان کی 64 نشستیں ہار گئی۔ یہ 1946ء کے بعد کسی حکمران جماعت کو ہونے والا سب سے بڑا وسط مدتی نقصان تھا۔ اسی طرح 1946ء میں صدر ہیری ٹرومین کی ڈیموکریٹک پارٹی کو 56 نشستوں کا نقصان ہوا جبکہ 1994ء میں صدر بل کلنٹن کے دور میں ڈیموکریٹس 54 نشستیں ہار گئے۔ دونوں مواقع پر ایوانِ نمائندگان کی اکثریت حکمران جماعت کے ہاتھ سے نکل گئی۔ ریپبلکن صدور بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں رہے۔ 1958ء میں صدر ڈیوائٹ آئزن ہاور کی جماعت کو 50 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ 1974ء میں صدر جیرالڈ فورڈ کے دور میں ریپبلکنز 48 نشستیں گنوا بیٹھے۔ ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں نقصان کا تعلق کسی ایک جماعت یا سیاسی نظریے سے نہیں بلکہ اقتدار میں موجود ہونے سے بھی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے یہ تاریخی ریکارڈ اس لیے اہم ہے کہ وہ پہلے بھی اس صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2018ء میں ان کی پہلی صدارت کے دوران ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان کی 42 نشستیں ہار گئی تھی۔ یہ انتخابات دنیا نیوز کی جانب سے بطور رپورٹر‘ فیلڈ میں باقاعدہ تحقیق اور سروے کے ذریعے کور کیے گئے تھے۔ ریپبلکنز کی شکست کے نتیجے میں ڈیموکریٹس نے ایوان کا کنٹرول حاصل کر لیا جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے معاملات میں سخت سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے محض تین نشستوں کا اضافہ درکار ہے۔ 435 رکنی ایوان کے مقابلے میں یہ تعداد معمولی دکھائی دیتی ہے‘ لیکن امریکی پارلیمانی نظام میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ چند انتخابی حلقوں کے نتائج پوری کانگریس کی قیادت تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایوان کی کمیٹیوں‘ قانون سازی کے ایجنڈے اور حکومتی تحقیقات کا اختیار ایک جماعت سے دوسری جماعت کو منتقل ہو سکتا ہے۔ تاہم نشستوں میں کمی اور ایوان کی اکثریت کھو دینا دو مختلف معاملات ہیں۔ مثال کے طور پر 1966ء میں صدر لنڈن جانسن کی ڈیموکریٹک پارٹی 47نشستیں ہار گئی تھی لیکن اس کے باوجود ایوانِ نمائندگان میں اس کی اکثریت برقرار رہی۔
سینیٹ کی تاریخ قدرے مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ گزشتہ 20 وسط مدتی انتخابات میں 13 مرتبہ صدر کی جماعت کو سینیٹ میں نشستوں کا نقصان ہوا‘ یعنی تقریباً 65 فیصد مواقع پر حکمران جماعت کو اس ایوان میں بھی انتخابی دھچکا لگا۔ سینیٹرز چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں اور ہر انتخاب میں صرف تقریباً ایک تہائی نشستیں ووٹنگ کیلئے پیش کی جاتی ہیں؛ چنانچہ قومی سطح پر کسی جماعت کے خلاف سیاسی لہر کے باوجود مخصوص ریاستوں کے انتخابی حالات اسے سینیٹ میں بڑی شکست سے بچا سکتے ہیں۔ 2026ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے چار نشستوں کا اضافہ درکار ہے۔ اگر دونوں جماعتیں 50‘ 50 نشستوں پر برابر ہو جائیں تو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس ہوگا جس کے باعث ریپبلکنز سینیٹ کا عملی کنٹرول برقرار رکھ سکیں گے۔ امریکی قانون سازی کے نظام میں کسی بل کی منظوری کیلئے دونوں ایوانوں کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اپوزیشن کسی ایک ایوان کا کنٹرول حاصل کرکے صدر کے کئی منصوبے روک سکتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کو حکومتی معاملات کی تحقیقات شروع کرنے اور صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اختیار حاصل ہے تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کیلئے سینیٹ میں الگ سماعت اور دو تہائی اکثریت سے سزا کا فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔
امریکی انتخابات پر پوری دنیا کی نظر ہے اور پاکستان میں بھی انہیں بڑی توجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سپر پاور میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کے بارے میں ریمارکس تو اچھے رہے ہیں مگر مجموعی طور پر ان کی پالیسیوں سے لوگ نالاں ہیں۔ ٹرمپ کے مستقبل کے بارے میں جاننے کا تجسس سب کو ہے کیونکہ اس انتخاب کے بعد بہت سی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...