پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں نظام موجود نہیں‘ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ایسا نظام موجود ہے جو خود کو زندہ رکھنے میں غیر معمولی طور پر کامیاب مگر عام آدمی کی زندگی بدلنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں‘چیف سیکرٹری بدلتے ہیں‘ بجٹ بڑھتے ہیں‘ نئی اتھارٹیاں بنتی ہیں‘ نئی گاڑیاں آتی ہیں‘ نئے منصوبے بنتے ہیں اور ہر چند سال بعد ایک نئی نسل اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچ جاتی ہے‘ صرف ایک شخص وہیں کھڑا رہتا ہے جہاں کئی دہائیاں پہلے تھا‘وہ ہے عام پاکستانی۔ اسی لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا 30 جولائی کا جملہ معمولی سیاسی بیان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس نظام کے تحت ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ منہدم ہوچکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک نئے یونٹ ذمہ داری نہیں لیں گے اور نئی قیادت سامنے نہیں آئے گی‘ حالات بدلنا مشکل ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نظام تباہ ہوچکا ہے؟ اس سوال کا جواب کسی سیاستدان سے نہ لیجیے‘ اعدادوشمار دیکھتے ہیں وہ بھی مستند عالمی اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے۔ ورلڈ بینک کی جون 2026 ء کی پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق تحقیق بتاتی ہے کہ 2005 ء میں ملک کے مجموعی سرکاری اخراجات کا تقریباً 10 فیصد مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ ہوتا تھا۔ 2024 ء میں یہ حصہ کم ہو کر صرف 4.7 فیصد رہ گیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے بعد صوبوں کو زیادہ وسائل ملنے کے باوجود مالی سال 2023ء میں صوبائی اخراجات کا 80 فیصد سے زیادہ جاری اخراجات میں چلا گیا جبکہ اضلاع میں وسائل کی تقسیم کئی مقامات پر غربت یا عوامی خدمات کی حقیقی ضرورت کے بجائے تاریخی طریقِ کار کی پیروی کرتی رہی۔ یعنی ہم نے اسے اختیارات کی منتقلی کہا مگر حقیقت میں اختیار کا صرف پتا تبدیل ہوا۔ اسلام آباد سے اختیار نکلا اور لاہور‘ کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ میں آکر رک گیا۔ عوام تک نہیں پہنچا۔ اور میرے نزدیک نئے صوبوں کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے۔ بہاولپور‘ ڈی جی خان‘ لیہ کا شہری لاہور کیوں دیکھے؟ ہزارہ کا شہری ہر بڑے انتظامی معاملے کیلئے پشاور کیوں جائے؟ مکران کے شہری کیلئے کوئٹہ اتنا دور کیوں ہو کہ صوبائی حکومت خود وفاقی حکومت جیسی محسوس ہونے لگے؟ نیا صوبہ دراصل فاصلے کی اصلاح ہے۔ شہری اور حکومت کے درمیان فاصلہ‘ ٹیکس اور خدمت کے درمیان فاصلہ‘ ووٹ اور جواب دہی کے درمیان فاصلہ۔
اس وقت اصل اختلاف صرف جماعتوں کا نہیں دو بڑے سیاسی گھرانوں کی آئندہ منزلوں کا بھی ہے۔ ابھی اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ جب حقیقی معنوں میں عوامی مسائل کے حل پر بات شروع ہوتی ہے تو ہمیشہ بڑے خاندانوں کیلئے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں‘ سیاسی حلقوں میں ایک گھرانے کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ خاندان کے سربراہ‘ جو بزرگ رہنما ہیں‘ ایک مرتبہ پھر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنا چاہتے ہیں‘ اور اگر حالات اس راستے کو ممکن نہ بنائیں تو اگلی نسل سے آنے والی شخصیت کیلئے راستہ کھلا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ خواہشات سرکاری فیصلے نہیں اہم ترین سیاسی حلقوں میں زیر گردش تصورات ہیں‘ مگر پاکستان کی سیاست میں خواہش اور حکمت عملی کے درمیان فاصلہ ہمیشہ بہت زیادہ نہیں رہا۔ دلچسپ تبدیلی یہ ہے کہ ایک اہم صوبے کی اہم ترین شخصیت ان دنوں وفاقی قیادت کیساتھ نمایاں اور مکمل ہم آہنگی دکھاتی ہے۔ سرکاری سطح پر بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور رابطے پر زور دیا جارہا ہے۔ سیاسی معنی نکالنے والے اسے یوں دیکھتے ہیں کہ موجودہ بندوبست کو چیلنج کرنے کے بجائے پہلے اسے کامیاب ہونے دیا جائے اور پھر اپنی باری کا انتظار کیا جائے۔دوسری طرف ایک اور بڑا گھرانہ ہے۔ وہاں بھی اگلی نسل موجود ہے‘ قومی سطح کا تجربہ موجود ہے اور وزیراعظم ہاؤس تک پہنچنے کی خواہش کوئی راز نہیں‘ مگر خواہش ایک چیز ہے اور ملک کا اگلا سیاسی بندوبست دوسری۔ سب نے اپنی اپنی خواہشات شاید پہنچا دی ہیں‘ کوئی اپنی باری مانگ رہا ہے کوئی اپنی اولاد کی‘ کوئی مستقبل کی ضمانت‘ اس سب میں عوام کہاں ہیں‘ یہ آپ خود تلاش کریں۔
کسی صوبائی حکومت یا جماعت کے خلاف مستقبل کے احتساب سے متعلق بہت سی سیاسی سرگوشیاں موجود ہوسکتی ہیں لیکن جب تک کوئی باقاعدہ کارروائی یا سرکاری ریکارڈ سامنے نہ آئے اسے حقیقت لکھنا مناسب نہیں۔ البتہ یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں احتسابی اور انتظامی اداروں کی اندرونی ساخت میں تبدیلیاں سیاسی طاقت کے توازن پر ہمیشہ اثرانداز ہوتی رہی ہیں؛ چنانچہ جو لوگ آج بھی دبائو ‘ بلیک میلنگ‘ شور‘ سفارش یا پس پردہ تعلقات کے ذریعے ریاستی فیصلے موڑنے کا پرانا نسخہ ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں انہیں بدلتے ہوئے ماحول کو سمجھنا ہوگا۔ بعض اہم لوگوں سے میری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ملک کو کسی ایک سیاسی گھرانے کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ ریاستی ضرورت کے مطابق درست کرنے کی سوچ موجود ہے اور اس کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ سمت اگر واقعی اداروں کو مضبوط کرنے‘ اختیارات تقسیم کرنے اور حکومت کو شہریوں کے قریب لانے کی ہے تو اسے محض سیاسی مخالفت کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ عوام بھی اب شاید اسی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں۔ وہ اس سیاست سے تنگ ہیں جس میں ایک خاندان کے بعد دوسرا اور ایک وارث کے بعد دوسرا وارث سامنے آتا ہے۔ عوام کی جانب سے اب سوال بہت سادہ ہے۔ آپ نے حکومت کی تو دکھائیے کیا کیا؟ اگر کسی جماعت نے واقعی اپنے صوبے میں کام کیا ہے‘ لوگوں کو سہولت دی ہے‘ نظام بہتر کیا ہے تو نئے سیاسی نقشے میں وہ اپنی طاقت اور حکومت دونوں برقرار رکھ سکتی ہے۔ جمہوریت میں کارکردگی سے بڑا انتخابی ہتھیار کوئی نہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آئندہ انتخاب کی تیاری شاید موجودہ چار صوبوں کے نقشے پر نہ ہو‘ بلکہ نئے نقشے کے مطابق ہو جہاں انتظامی یونٹس؍ نئے صوبے موجود ہوں گے۔ نئے صوبوں کی بحث اب سرکاری سطح تک پہنچ چکی ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے‘ اگرچہ کتنے صوبے ہوں گے اور خاکہ کیا ہوگا‘ ابھی طے نہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں بھی نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے مطالبات سامنے لارہی ہیں۔ میں نے ایک باخبر شخصیت سے پوچھا کہ اگر معاملہ واقعی آگے بڑھ رہا ہے تو آئینی ترمیم کب؟ جواب ملا ''آئینی ترمیم کیلئے موسم بھی تو ہونا چاہیے‘‘۔ میں نے پوچھا: موسم کب آئے گا؟ مسکرا کر جواب دیا‘ وہ موسم اب دور نہیں‘ گھڑی شاید چل پڑی ہے۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ آئندہ بندوبست کس کی خواہش پر بنتا ہے‘ کس کی ضرورت پر اور کس کی کارکردگی پر۔ معاملہ کسی ڈیل تک پہنچتا ہے‘ کسی کو ڈھیل ملتی ہے یا کوئی نیا سیاسی داؤ چلتا ہے‘ اس کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ البتہ ایک فیصلہ اب ہوجانا چاہیے۔ پاکستان کا اگلا انتظامی نقشہ کسی صاحبزادے یا صاحبزادی کو وزیراعظم بنانے کیلئے نہیں بننا چاہیے۔ یہ اُس بچے کیلئے بننا چاہیے جو سکول سے باہر ہے‘اُس مریض کیلئے جسے ضلع چھوڑ کر بڑے شہر جانا پڑتا ہے‘ اُس کسان کیلئے جس کی فائل صوبائی دارالحکومت میں پڑی ہے اور اُس شہری کیلئے جو ووٹ اپنے گاؤں میں دیتا ہے مگر حکومت اسے سینکڑوں کلومیٹر دور ملتی ہے۔ نئے صوبوں کی اصل دلیل زمین نہیں فاصلہ ہے۔ عام آدمی اور حکومت کے درمیان فاصلہ۔ اگر نئے انتظامی یونٹس یہ فاصلہ کم کردیں تو پاکستان تقسیم نہیں ہوگا‘ زیادہ مربوط ہوگا۔ اختیار تقسیم ہوگا تو ذمہ داری تقسیم ہوگی‘ ذمہ داری تقسیم ہوگی تو جوابدہی بڑھے گی۔ اور شاید اسی دن یہ نظام‘ جسے آج ملک کا وزیر داخلہ بھی منہدم قرار دے رہا ہے‘ دوبارہ بننا شروع ہو گا۔ پاکستان کو کسی خاندان سے دشمنی کی ضرورت نہیں‘ کسی ادارے سے لڑائی کی ضرورت نہیں‘پاکستان کو صرف ایک ایسا بندوبست چاہیے جس میں ریاست طاقتور ہو مگر شہری بے اختیار نہ ہو اور شاید اب پہلی مرتبہ وقت آگیا ہے کہ حکومت وہاں پہنچے جہاں پاکستانی رہتا ہے نہ کہ پاکستانی ساری عمر حکومت تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments