قصۂ یک درویش!

گجرات میں رکنیت جماعت کی منظوری کے بعد مجھے شعبہ دعوت و تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی جس کے دوران پورے ضلع میں دور دراز دیہات اور قصبوں تک جانے اور پروگراموں کو منظم کرنے کے مواقع ملے۔ یہ بہت مفید تجربات تھے۔ دوستوں کا ایک وسیع حلقہ قائم ہوا۔ اس وقت منڈی بہاء الدین ضلع گجرات کی ایک تحصیل ہوا کرتی تھی۔ یوں بہت وسیع و عریض علاقے میں بسوں‘ تانگوں پر اور کبھی بائیسکل پر یا پیدل سفر کرنا پڑتا۔ بہرحال اس دورِ جوانی میں کسی طرح کی کوئی مشکلات محسوس نہیں ہوتی تھیں۔ گجرات شہر کے رکن جماعت‘ صوفی محمد اسلم پنجابی کے زبردست شاعر تھے۔ وہ بھی اکثر دوروں میں ہمسفر ہوا کرتے تھے۔ ان کی پنجابی نظمیں بزرگ رکن جماعت اسلامی عبداللہ شاکر مرحوم کی طرح بہت پُرتاثیر ہوتی تھیں۔ ان کے حالات ہماری کتاب ''چاند اور تارے‘‘ میں محفوظ ہیں۔ ان کے پنجابی کلام میں سے کچھ حصہ ان کی وفات کے بعد ''کوڑے سچ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
اس تحریکی ذمہ داری کے ساتھ ضلعی ہیڈکوارٹر (گجرات) سے نکلنے والے ہفت روزہ رسالے ''الحدید‘‘ کی ادارت بھی میرے ذمے لگ گئی۔ اس دور میں اس رسالے میں اداریہ‘ مضامین‘ رپورٹیں اور خبریں دلچسپ انداز میں چھپتی تھیں اور یہ رسالہ جماعتی حلقوں کے علاوہ تعلیمی اداروں اور ادبی حلقوں میں بھی بڑے شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس زمانے میں پیپلز پارٹی کی بھٹو حکومت اپنے مخالف اخبارات ورسائل کو انتقام کا نشانہ بنا رہی تھی اور ان کے ڈیکلریشن منسوخ ہو جاتے اور بعض اوقات صحافی جیلوں میں ڈال دیے جاتے تھے۔ مشہور صحافی صلاح الدین شہید (ایڈیٹر ہفت روزہ تکبیر)‘ الطاف حسن قریشی مرحوم (ایڈیٹر ماہنامہ اردو ڈائجسٹ)‘ مجیب الرحمن شامی صاحب (ایڈیٹر ہفت روزہ زندگی) اور دیگر حکومت مخالف نظریات کے حامی صحافی خاصی مشکلات سے دوچار تھے۔ دیگر رسالوں کے ساتھ شامی صاحب کا ہفت روزہ زندگی بھی حکومت کے انتقام کی زد میں آ گیا تھا‘ لہٰذا ہم نے الحدید اپنے ڈیکلریشن کے ساتھ ان کو دے دیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد مجھے بیرونِ ملک جانا پڑا لہٰذا یاد نہیں کہ اس کے کتنے ایڈیشن لاہور سے نکلے۔
میں نے 1970ء میں ایم اے اسلامیات میں داخلہ لیا تھا مگر پھر جیل سے امتحان دینے کے بجائے یہی سوچا کہ رہائی کے بعد پرائیویٹ طالبعلم کے طور پر امتحان دے دوں گا؛ چنانچہ 1971ء میں ایم اے اسلامیات کا امتحان دیا۔ اس عرصے میں گجرات اور لاہور کے درمیان مسلسل آمدورفت رہتی۔ ایک روز اچھرہ میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے نمازِ مغرب کے بعد فرمایاکہ سنتیں پڑھ کر تھوڑی دیر کے لیے میرے دفتر میں آ جائو! میں ان کے دفتر میں گیا تو حسبِ معمول بڑی محبت سے پوچھا کہ کیا آج کل بہت زیادہ مصروفیت تو نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کچھ مصروفیت تو چل رہی مگر آپ فرمائیں کہ کیا حکم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تفہیم القرآن (جلد پنجم) شائع ہو چکی ہے مگر ابھی اس کی جلد بندی نہیں ہوئی کیونکہ اشاریہ (انڈیکس) ابھی تیار کرنا ہے۔ میری مصروفیات بھی بہت ہیں اور صحت وہمت بھی جواب دے گئی ہے۔ میں نے ابھی کچھ نہیں کہا تھا کہ تھوڑے سے توقف کے بعد کہنے لگے: میں نے ایک دو حضرات کو اشاریے کا کام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی مگر وہ میرے اطمینان کے مطابق کام نہ کر سکے۔ اب آپ کو یہ کام سونپنا چاہتا ہوں۔ مولانا صاحب کی یہ گفتگو سن کر میری عجیب کیفیت ہو گئی۔ ایک طرف مولانا کا اعتماد میرے لیے باعثِ فخر تھا اور دوسری طرف یہ خیال ذہن میں موجزن تھا کہ دیگر لوگ (نہ اُس وقت مولانا نے بتایا کہ وہ کون تھے اور نہ آج تک معلوم ہوا ہے) یہ کام نہ کر سکے تو میں کس کھیت کی مولی ہوں۔ بہرحال ہمت کر کے عرض کیا کہ مجھے آزمائشی طور پر کام کرنے دیں‘ اگر اچھا اور معیاری ہوا تو مکمل کر لوں گا اور اگر اس میں خامیاں ہوئیں تو دو صورتیں ہو سکیں گی کہ یا تو کسی زیادہ تجربہ کار ساتھی کو یہ ذمہ داری سونپی جائے اور یا آپ مجھے کچھ طریقہ سلیقہ سمجھائیں کہ میں کام میں بہتری لا سکوں۔
مولانا صاحب نے کہا کہ تمہارا خیال بالکل ٹھیک ہے۔ اس جلد کی پہلی دو سورتیں (سورۂ محمد اور سورۃ الفتح) کے مطبوعہ صفحات کی یہ کاپیاں لے لو اور ان پر طبع آزمائی کرو۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا تم نے پہلی جلدوں کا انڈیکس دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: بہت گہرائی سے تو نہیں مگر وقتاً فوقتاً حسبِ ضرورت کئی بار دیکھتا اور استفادہ کرتا رہا ہوں۔ انہوں نے سارے عنوانات‘ جو اشاریے میں شامل کرنے تھے‘ ان کا مختصر تعارف کرایا اور پھر کام شروع کرنے کا حکم دیا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر ساتھ والے دفتر میں‘ جو مولانا کے دفتر سے جانبِ مغرب واقع تھا اور جہاں کبھی میاں طفیل محمد صاحب بیٹھا کرتے تھے‘ کام شروع کیا اور دوسرے دن دونوں سورتوں کا انڈیکس مکمل کر کے شام کے وقت مولانا کی خدمت میں اپنی کارکردگی لے کر حاضر ہو گیا۔ مولانا صاحب نے توجہ سے ان دونوں سورتوں کے صفحات کو دیکھا اور چند صفحات پر میری تحریر بصورت اشاریہ غور سے ملاحظہ فرمائی۔ ایک آدھ جگہ اصلاح فرمائی اور پھر ارشاد ہوا کہ کام اطمینان بخش ہے‘ اب ساری جلد کا کام جتنی جلدی ممکن ہو سکے مکمل کر دو تاکہ جلد بندی کے بعد جلد پنجم قارئین تک پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور مولانا کی رہنمائی اور دعائوں سے ہفتے عشرے کے اندر اندر میں نے یہ سارا کام مکمل کر لیا اور ایک دو بار اس پر نظرثانی کے بعد مولانا کی خدمت میں پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور تحسین کے انمول کلمات سے نوازا۔ میرے لیے یہ معمولی کام بھی ایک بڑا اعزاز ہے۔
1971ء تا 1973ء تک‘ تین سالوں میں بہت سے تجربات سے گزرنا پڑا۔ میں حیران ہوتا ہوںکہ اتنے مختصر وقت میں اتنے سارے کام کیسے ممکن ہو گئے۔ ضلع گجرات کے دیہات و قصبات کے دورے‘ الحدید کی ادارت اور تھوڑا بہت تصنیفی کام۔ سیرت النبیﷺ اور سیرتِ صحابہ کرامؓ کا مطالعہ اور اپنی تقاریر میں اس کے حوالے میرا بچپن ہی سے ذوق تھا۔ دورِ طالبعلمی میں ان موضوعات پر بہت مرتبہ تقاریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اکثر دوست اور بزرگان مطالبہ کرتے تھے کہ صحابہ کرامؓ کے حالات پر مضامین لکھوں۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ کے حالات پر مضمون لکھنے کا سلسلہ 1971ء میں شروع ہوا۔ پہلا مضمون جو ہفت روزہ آئین میں چھپا‘ حضرت مصعب بن عمیرؓ کے حالات پر تھا۔ اس مضمون کے چھپنے کے بعد بعض بزرگان اور کئی ایک دوستوں نے تحسین کے ساتھ یہ اصرار کیا کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے۔ ملک بھر سے متعدد احباب اور بزرگان کے بار بار توجہ دلانے پر میں نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ جب بیس صحابہ کرامؓ کے حالات قلمبند ہو گئے تو انہیں کتابی صورت میں شائع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہی میری پہلی تصنیف تھی۔ اس کتاب کا نام ''روشنی کے مینار‘‘ رکھا گیا۔ اسے گجرات کے ایک ناشر نے 1972ء میں شائع کیا۔ اس کے بعد اس کتاب کے کئی ایڈیشن لاہور سے شائع ہوئے۔ اب تک اس کے جو ایڈیشن شائع ہوئے ہیں تقریباً پچیس ہیں۔ اسی زمانے میں قرآنی دعائوں پر مشتمل کتاب ''رحمان کے سائے میں‘‘ بھی مرتب کی۔ اس کے بھی بہت سے ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دور میں قلم وقرطاس کا جو رشتہ قائم ہوا‘ بیرون ملک سفر کے بعد بھی جاری رہا۔
نوٹ: حافظ محمد ادریس صاحب کا یہ کالم روزنامہ دنیا کو چند روز قبل موصول ہوا تھا۔ گزشتہ روز حافظ محمد ادریس لاہور میں قضائے الٰہی سے وفات پا گئے۔وہ گزشتہ دس سال سے روزنامہ دنیا میں کالم لکھ رہے تھے۔ ادارہ دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین و پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...