ہے مشقِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی

بات ہو رہی تھی جیل میں دعوت و تبلیغ کی۔ ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک قیدی کو‘ جو ڈکیتی کے جرم میں چودہ سال قید بامشقت بھگت رہا تھا‘ سگریٹ نوشی سے منع کیا تو پہلے تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ میں نے بھی حکمت کے تحت خاموشی اختیار کر لی۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ چند ہفتوں کے بعد ایک روز وہ صاحب آئے تو ان کے ہاتھ میں سگریٹ نہیں تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا سگریٹ ختم ہو گئے؟ کہنے لگے: مکمل طور پر ختم ہو گئے‘ آج کے بعد سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگائوں گا۔ پھر واقعی اس نے اپنے وعدے کا پاس کیا۔ جیل میں جن قیدیوں سے بہت قریبی تعلق رہا‘ ان میں یہ صاحب سرفہرست تھے۔ جیل میں ان کے ایک کزن بھی انہی کے ساتھ اسی کیس میں سزا بھگت رہے تھے اور وہ پیپلز پارٹی کے جیالے اور بھٹو مرحوم کے سچے عاشق تھے۔ دونوں بھائیوں میں نظریات کا زمین وآسمان کا فرق تھا۔ اپنی بقیہ قید جو تقریباً تین چار سال تھی‘ بھگتنے کے بعد یہ رہا ہوئے تو سیدھے جماعت اسلامی ضلع جہلم کے دفتر میں گئے‘ اپنا تعارف کرایا اور اپنے آپ کو جماعت میں شمولیت کے لیے پیش کر دیا۔ اسی وقت متفق بنا لیے گئے اور رکنیت کا نصاب پڑھانے کے بعد ان کی رکنیت منظور ہو گئی۔ مرحوم آخری دم تک اقامت دین کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ میری رہائی کے بعد ان سے خط وکتابت کے ذریعے رابطہ رہا۔ میرے بیرونِ ملک قیام کے دوران باہمی خط وکتابت سے حال احوال معلوم ہوتے رہتے تھے۔ پاکستان واپسی پر تو بالمشافہ مہینے میں کم از کم ایک بار ملنے کے لیے ضرور تشریف لایا کرتے تھے۔ کئی مرتبہ میرے گائوں میں بھی آئے۔ میرے خاندان کے تمام لوگوں سے قریبی روابط قائم ہو گئے۔ میں بھی چار پانچ مرتبہ ان کے گائوں گیا اور ان کی مسجد اور مدرسہ میں پروگرام بھی منعقد کیے۔ فضل کریم صاحب چند سال قبل اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مرحوم کے گائوں میں ان کی مسجد اور اس کے ساتھ مکتب انہی کی وجہ سے آباد تھے۔ اب معلوم نہیں ان کی کیا کیفیت ہے۔ اللہ ہمارے مرحوم بھائی کے درجات بلند فرمائے۔
کچھ دن مشکلات میں گزرنے کے بعد آہستہ آہستہ جیل کی سختیوں میں نرمی آنے لگی۔ اب قصوری چکیوں میں ایک سہولت یہ حاصل ہو گئی تھی کہ احاطے کے اندر طلوعِ آفتاب کے بعد سے غروبِ آفتاب تک قیدی ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر گپ شپ کر سکتے تھے۔ اسی طرح لڈو ٹائپ گیمیں بھی کھیل سکتے تھے مگر یہاں مستقل طور پر ان کی نگرانی پر عملہ موجود رہتا تھا۔ ہم عشا اور فجر کی نماز کے علاوہ باقی سب نمازیں باجماعت ادا کرتے تھے۔ اس کے لیے ہمیں باہر سے چٹائیاں منگوانے کی سہولت بھی مل گئی تھی۔ ہر روز باقاعدہ درس قرآن ہوتا تھا جس میں پچیس سے تیس لوگ شریک ہوتے تھے۔ اس درس قرآن کے بعد سوال و جواب بھی ہوتے تھے اور شرکا اپنے تجربات اور مشاہدات بھی بیان کرتے تھے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو بوڑھے قیدی جو قتل کے ایک کیس میں عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے‘ ڈاکٹر نذیر شہید کے ساتھ مختلف جیلوں میں اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے تو عجیب سماں بندھ جاتا۔ اسی طرح بعض قیدی کچھ دیگر بزرگوں کے حوالے سے اپنے خوبصورت تاثرات بیان کرتے تھے جن سے کبھی جیل میں ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ جیل میں آدمی کیلئے کئی سہولتیں ہوتی ہیں اور کئی مشکلات۔ سہولت تو یہ ہے کہ کہیں جانا آنا نہیں ہوتا‘ آرام سے اپنے معمولات جاری رکھے جا سکتے ہیں اور مشکلات یہ ہیں کہ کسی ضروری کام کیلئے بھی جیل کی حدود سے باہر نکلنے کا تصور تک نہیں کر سکتے۔
جیل میں وقت گزر رہا تھا اور مجھے بار بار خیال آتا تھا کہ میرے نانا جان نجانے کس حال میں ہیں۔ میں جب یونیورسٹی الیکشن سے قبل ان سے مل کر لاہور روانہ ہوا تھا تو وہ شدید بیمار تھے۔ یہ مثالی حافظ قرآن بڑھاپے اور ضعف میں کبھی اپنے بچوں تک کے نام بھول جاتے تھے۔ عمر بہت زیادہ ہو چکی تھی اور مرض بھی جان لیوا تھا۔ علاج معالجہ بھی بے اثر ثابت ہو رہا تھا۔ انہوں نے مجھے رخصت کیا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس وقت میری والدہ بھی ان کے پاس بیٹھی تھیں۔ اب قید میں آخری ملاقات کا منظر بار بار میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا۔ میں جیل میں ان کیلئے بس دعا ہی کر سکتا تھا جس کا سلسلہ ہر نماز کے بعد اور سوتے جاگتے جب بھی ان کی یاد آتی‘ جاری رہتا۔ ساہیوال جیل میں ایک دن مجھے والد صاحب کا خط موصول ہوا جس میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ میرے نانا جان اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ خط ملنے سے کئی روز قبل ان کا جنازہ اور تدفین بھی ہو چکی تھی۔ دوستوں نے مجھے پریشان پایا تو پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے؟ میں نے ان کو خبر بتائی تو سب میرے گرد جمع ہو گئے اور مجھ سے اظہارِ ہمدردی کے ساتھ مرحوم کیلئے مغفرت کی دعائیں کرنے لگے۔ کئی دوست شام کو اپنی جائے مشقت سے واپس آئے تو سیل بند ہونے سے قبل میرے پاس آئے اور تعزیت کر کے اپنی بیرکوں میں چلے گئے۔ تین چار دن اسی طرح جیل کے ساتھی وقتاً فوقتاً آتے رہے۔ ہماری معاشرت میں بہت سی خوبیاں ہیں جن میں سے غم اور خوشی میں شرکت بالخصوص محبت و اپنائیت کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کی مغفرت فرمائے اور ہم سب کو اپنے دین پر ثابت قدمی کے ساتھ آخری لمحے تک چلتے رہنے کی سعادت بخشے۔
نانا جان کی زندگی میں ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا جوانی میں فوت ہو گئے تھے۔ بزرگوں سے سنا تھا کہ اس موقع پر نانا جی نے بہت مثالی صبر کا مظاہرہ کیا۔ ہماری زندگی میں ان کی بڑی بیٹی یعنی ہماری خالہ طویل بیماری کے بعد فوت ہوئیں تو وہ بے ساختہ رو پڑے۔ پھر اس بیٹی کی تین بیٹیاں چند سالوں کے وقفے سے یکے بعد دیگرے فوت ہو گئیں۔ ان میں سے ہر ایک کی وفات پر نانا جان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میرے دل میں خیال ہوتا ہے کہ فرشتۂ اجل اب میرے پاس آئے گا مگر معلوم نہیں خدا کو کیا منظور ہے کہ میری اولاد‘ اور ان کی اولاد بھی میری نظروں کے سامنے لقمۂ اجل بنتی جا رہی ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں۔ ان مواقع پر میں ابھی بہت چھوٹا تھا مگر بزرگوں کی تربیت اور سب سے بڑھ کر اللہ نے کچھ فہم وشعور دیا تھا‘ میں ہمیشہ ان سے عرض کرتا کہ فرشتۂ اجل کا تعلق عمر سے نہیں اللہ کے امر سے ہے۔ اب جیل میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ لمحہ آخر آ گیا جس کا نانا جان برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ مگر وائے افسوس کہ میں جنازہ بھی نہ پڑھ سکا۔ اللھم اغفرلہٗ وارحمہ وادخلہ الجنۃالفردوس۔
جیل میں چند ہفتے گزرنے کے بعد حکومت کی طرف سے ایک پیشکش آئی کہ اگر میں غیرمشروط معافی نامہ لکھ دوں اور آئندہ کیلئے کسی حکومت مخالف سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا حلف دے دوں تو مجھے رہا کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس خط پر نوٹ لکھ کر جیل حکام کو دے دیا کہ مجھے اس پیشکش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہی پیشکش دیگر ساتھیوں کو بھی بھیجی گئی۔ ان سب نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا؛البتہ ہمارے ایک ساتھی برادرم اشفاق حسین کے والدین نے اصرار کر کے اس خط پر دستخط کرنے کیلئے انہیں مجبور کر دیا حالانکہ وہ بھی ہم سب کی طرح اس پیشکش کو مسترد کر چکے تھے۔ آخر والدین نے دبائو ڈال کر انہیں پیشکش پر دستخط کرنے پہ آمادہ کر لیا؛ چنانچہ وہ جیل سے رہا ہو کر چلے گئے۔ وہ سیالکوٹ جیل میں مقید تھے۔ اشفاق بھائی جیل سے رہا ہونے کے بعد مجھ سے ملاقات کیلئے تشریف لائے تو ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے مگر میں نے محبت کے ساتھ انہیں تسلی دی کہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں‘ والدین کا احترام بھی تو لازم تھا!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...