جیل میں زاہد بخاری اور نسیم انصاری نے مجھے بتایا کہ پولیس افسر چودھری صدیق صاحب کو ان کے تھانے سے خصوصی طور پر بلوایا گیا اور پولیس نے ان کی وساطت سے معلوم کرنا چاہا کہ حافظ ادریس کہاں ہے۔ کچھ دیر تو انہوں نے ٹال مٹول کی مگر پھر استاذِ محترم پروفیسر عثمان غنی صاحب نے کہا کہ اگر صدیق صاحب کی موجودگی میں حافظ ادریس کو گر فتار نہ کیا گیا تو ممکن ہے گرفتاری کے وقت پولیس اہلکار اسے تشدد کا نشانہ بنائیں۔ یہ منطق زاہد کو متاثر کر گئی اور وہ اپنے ناظم کو ''تشدد‘‘ سے بچانے کیلئے اس رات شاہدرہ پہنچ گیا۔ میں نے اس کی بات سنی تو خوب ہنسا۔ میرے گاؤں میں تو عجیب سنسنی اور مضحکہ خیز خبریں پہنچیں۔ لوگوں کو یہاں تک بتایا گیا کہ اس شب مجھے حوالۂ پولیس نہ کیا جاتا تو خدشہ تھا کہ پولیس مجھے گولی مار دیتی۔ خیر جو ہوا سو ہوا۔ ہمارے خلاف اخبارات میں بیانات آ رہے تھے۔ میں نے ملاقات کیلئے آئے ڈیموکریٹک یوتھ فورس کے چیئرمین خلیق ارشد اشرفی کو ایک بیان لکھ کر دیا کہ وہ ان نکات کی روشنی میں اپنی طرف سے پریس کانفرنس کر دیں یا بیان اخبارات کو جاری کر دیں۔ خلیق ارشد اور دیگر ساتھی ہر روز دن میں کئی کئی بار ملنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ خلیق ارشد کا وہ بیان اگلے روز کتر بیونت کے بعد اخبارات میں چھپ گیا۔
میری گرفتاری کے غالباً دوسرے یا تیسرے روز بارک اللہ خان بھی گرفتار ہو کر آگئے۔ ان کا اس پورے واقعے سے قطعاً کوئی تعلق نہ تھا‘ ان کی ایکشن کمیٹی نے بالواسطہ طور پر ممکن ہے کچھ کیا ہو مگر ان کا براہِ راست کوئی حصہ نہ تھا۔ مجھے ان کی گرفتاری پر دلی افسوس ہوا۔ دونوں گروپوں کے لوگ مسلسل گرفتار ہو کر آ رہے تھے۔ ایک تفتیشی پولیس افسر نے مجھے ایک تہہ خانے میں لے جاکر میرا بیان نوٹ کیا۔ تقریبا دو گھنٹے کی تفتیش کے دوران مختلف قسم کے سوالات بہت مہذبانہ انداز میں مجھ سے پوچھے جاتے رہے۔ میں نے کئی سوالوں کے جواب دیے اور کئی سوالوں کے جواب دینے سے معذوری ظاہر کی۔ بارک اللہ خان کے بارے میں مَیں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا اس واقعے سے تعلق ہے۔ اس پر میں نے جواب دیا ''میں صرف اپنے بارے میں جانتا ہوں کہ میں وہاں موجود تھا اور کسی کے بارے میں مَیں کچھ نہیں کہوں گا‘‘۔ ایسے ہی ایک سوال پر میں نے عدالت میں بھی یہی جواب دیا تھا جس پر ملٹری کورٹ کے جج کرنل نوشاد شنواری نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا: اچھا شیر کا بچہ سارا بوجھ خود ہی اٹھائے گا۔
ایک روز عصر کے قریب ڈی ایس پی اصغر خان صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ گرم چائے اور خستہ بسکٹوں سے تواضع کرتے ہوئے کہنے لگے: ہم آج فلاں خاتون کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی طالبہ رہنما تھیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا۔ وہ میرے اور جمعیت کے خلاف بہت زہر افشانی کرتی تھیں۔ میں یہ بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے ان کا ارادہ اچھا نہ لگا۔ میں نے ان سے کہا: یہ درست ہے کہ وہ ہماری سخت مخالف ہے اور اس نے ہمارے خلاف کافی ادھم مچائے رکھا ہے‘ ہر طرح کے جھوٹے الزامات کا طومار بھی اس کا خاصہ ہے مگر میں ذاتی طور پر آپ سے درخواست کروں گا کہ اسے گرفتار نہ کیا جائے۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے کہا: پہلی وجہ تو یہ ہے کہ مخالف ہونے کے باوجود وہ جامعہ کی طالبہ اور ایک خاتون ہے۔ میں طلبہ سیاست کے ایک ذمہ دار اور یونین کے منتخب صدر کی حیثیت سے اس کا بطور طالبہ احترام کرتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ کی پولیس فورس جتنی ''نیک نام‘‘ ہے وہ مجھ سے زیادہ آپ کے علم میں ہے۔ ابھی خانم کیس کے زخم لوگوں کے دلوں میں بالکل تازہ ہیں۔ (خانم میرے گاؤں کے قریب کے ایک گاؤں کی لڑکی تھی‘ اسے کسی کیس میں کھاریاں پولیس نے پکڑا تھا اور پولیس کسٹڈی میں اس کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کیا گیا تھا کہ وہ بے چاری اپنی جان سے گئی۔ یہ کیس اُنہی دنوں کا تھا اور اس کی تفصیلات شہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات میں چھپ چکی تھیں)۔ ڈی ایس پی صاحب اس بات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے میرے دوستوں اور اپنے ماتحت افسروں سے بھی تحسین کے انداز میں اس کا ذکر کیا۔ اس گفتگو کے بعد وہ مجھ سے اور زیادہ قریب ہو گئے۔ چند دنوں میں ان کے ساتھ کئی مزید نشستیں ہوئیں جن میں وہ مجھ سے یوں گھل مل کر بات کرتے جیسے مدتوں کا دوستانہ ہو۔ ان کے ماتحت پولیس اہلکاروں کیلئے بھی یہ باعثِ تعجب تھا کہ وہ ایک ''ملزم‘‘ کے ساتھ اتنے بے تکلف ہو گئے۔ اگرمیں کوئی بات کہتا تو وہ نہایت محبت اور غور سے سنتے۔
چند دن تھانے کی حوالات میں گزارنے کے بعد سمری ملٹری کورٹ میں ہماری دو پیشیاں ہوئیں۔ دوسری پیشی کے بعد ہمیں کیمپ جیل اور جہانگیر بدر اور ان کے ساتھیوں کو کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا گیا۔ تقریباً پندرہ یا بیس دن اسی حال میں گزر گئے۔ جیل سے غالباً تین چار مرتبہ عدالت میں پیشیاں ہوئیں جن میں سے آخری پیشی میں کیس کی سماعت شروع ہو گئی۔ کرنل نوشاد شنواری کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ وہ چین سموکر تھے اور عدالت میں بھی سگریٹ پینے سے باز نہ آتے تھے۔ معروف قانون دان ذکی الدین پال (مرحوم)‘ جو ابھی جج نہیں بنے تھے اور لاہور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ میں پریکٹس کرتے تھے‘ وہ ہمارے ساتھ بطور مشیر عدالت میں بیٹھا کرتے تھے کیونکہ ان عدالتوں میں وکلا کیس میں بطور وکیل دلائل نہیں دے سکتے تھے۔ عدالت کی کارروائی کے دوران پال صاحب کا خیال تھا کہ ہم لوگ بری ہو جائیں گے۔ جس روز ہمارا فیصلہ سنایا جانا تھا اس سے ایک دن قبل جہانگیر بدر اور ان کے (غالباً) گیارہ ساتھیوں کو ایک ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔ اب ہمارا فیصلہ ہونا تھا۔ پولیس وین میں ہم جیل سے عدالت میں آئے‘ کرنل شنواری ہم سب کے چہروں کو غور سے دیکھتے رہے۔ پھر ہم سب کو باہر برآمدے میں بھیج دیا۔ خود بھی برآمدے میں نکل کر دیر تک ٹہلتے رہے اور سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے رہے۔ پھر واپس عدالت میں گئے اور ہمیں دوبارہ عدالت کے کمرے میں طلب کیا گیا مگر پھر تھوڑی دیر بعد بغیر کچھ کہے سنے دوبارہ واپس باہر بھیج دیا۔ اب پیپلز ہاؤس کے دروازے بند کر دیے گئے اور سب حاضرین کو باہر نکال دیا گیا۔ باہر سڑک پر ایک بھاری مجمع لگ گیا۔
میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ سزا سننے کیلئے تیار ہو جائیں۔ اس روز پال صاحب نے مجھ سے سرگوشی کے انداز میں کہا کہ اگر کوئی عدالت ہوتی تو وی سی علامہ علاء الدین صدیقی صاحب کی گواہی کے بعد کسی بھی صورت میں آپ کو سزا نہیں مل سکتی مگر جان لیجیے کہ اب مخالف فریق کے ساتھ آپ کا معاملہ برابر کیا جانا ہے۔ آپ لوگوں میں سے بھی اتنے ہی طلبہ سزا پائیں گے جتنے فریقِ مخالف کے سزا پا چکے۔ میں نے دوستوں کو حوصلہ دیا۔ میں خود تو ذہنی طور پر سزا کیلئے تیار ہو چکا تھا۔ ادھر کرنل نوشاد شنواری کے دل میں ایک عجیب طوفان برپا تھا اور ان کے چہرے پر سب عیاں تھا۔ کچھ دیر بعد اجمل ملک کو بلایا گیا۔ کرنل نوشاد نے اپنے مخصوص پشتو لہجے میں فیصلہ سنایا جس کے مطابق اسے Acquit کیا گیا تھا مگر اجمل ملک سمجھے کہ شاید انہیں Commit کیا گیا ہے۔ ان کی صدائے احتجاج اور دہائی برآمد ے تک سنی گئی۔ اس لطیفے پر کرنل صاحب بھی ہنسے اور ہم بھی محظوظ ہوئے۔ پھر کرنل شنواری نے اردو میں فیصلہ سنایا جس پر اجمل ملک صاحب نے سکھ کا سانس لیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے باہر نکلے۔ ایک سپاہی نے انہیں ہم سے ہاتھ بھی نہ ملانے دیا اور پکڑ کر باہر کے گیٹ تک دھکیلتا ہوا لے گیا۔ انہیں گیٹ سے باہر نکال کر گیٹ کیپر نے دروازہ فوراً بند کر لیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments