گرفتاری اور ہلاکو خان

وی سی صاحب کی پولیس کے ساتھ طویل ملاقاتوں اور جامعہ میں پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر کسی قدر اندازہ ہو گیا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ وہاں سے نکل کر باہر ایک جگہ سے فون کر کے امیر جماعت اسلامی لاہور چودھری غلام جیلانی صاحب اور ناظم دفتر‘ سعید مغل صاحب کو بلوایا۔ جماعت اسلامی کا دفتر نیلا گنبد میں قریب ہی تھا۔ دونوں حضرات تھوڑی دیر میں پہنچ گئے۔ ساری صورتحال ان کے سامنے رکھی گئی اور مشاورت کے بعد فیصلہ ہوا کہ ہاسٹل میں جانے کے بجائے رات سعید مغل صاحب کے گھر شاہدرہ میں گزاری جائے اور زاہد بخاری اور نسیم انصاری کے سوا کسی کو پتا نہ ہو کہ میں کہاں ہوں ۔ یہ بات بالکل واضح اور طے شدہ تھی کہ اگلے دن ارکانِ جمعیت پریس کا نفرنس کریں گے اور مجھے اطلاع دی جائے گی۔ ہم چاروں ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر شاہدرہ چلے گئے۔ سعید مغل صاحب کے ہاں پہنچ کر زاہد اور نسیم کو واپس بھیج دیا کہ دوستوں کو صرف اتنا بتا دیں کہ میں ایک محفوظ مقام پر ہوں اور یہ کہ میں کل ان کی آمد کا منتظر رہوں گا۔
اگلے روز صبح ناشتے کے بعد مغل صاحب مجھے سیر کیلئے اپنے ساتھ لے کر کھیتوں اور قریب کے دیہاتی علاقے میں چلے گئے۔ گندم کے ہرے بھرے کھیت‘ کئی جگہوں پر سرسوں کے پھولوں کی بہار‘ کہیں کہیں گنے کی خوبصورت فصل‘ مال مویشیوں کے چارے برسیم‘ لوسن وغیرہ کی کٹائی میں لگے ہوئے کسان‘ ہر منظر میرے لیے خوش کن تھا۔ ظہر کے بعد ہم گھر واپس لوٹے تو پتا چلا کہ شہر سے ابھی تک کوئی قاصد نہیں آیا جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا۔ میں نے مغل صاحب سے کہا بھی کہ ہم خود ہی شہر چلیں مگر انہوں نے مزید کچھ دیر انتظار کا مشورہ دیا۔ اسی انتظار میں رات ہو گئی۔ نماز عشا اور کھانے کے بعد دیر تک میں مختلف کتب کی ورق گردانی کرتا رہا اور تقریباً بارہ ساڑھے بارہ بجے سو گیا۔ اس روز کے اخبارات میں ہمارے خلاف وہ ساری سچی جھوٹی باتیں چھپی تھیں جن کی بنیاد پر ہم گردن زدنی ٹھہرے۔ میں سوچ رہا تھا کہ پریس کے لیے اپنا بیان کن لائنوں اور نکات پر مرتب کروں۔ بستر پر لیٹتے ہی میں گہری نیند سو گیا۔ سوتے میں بھی میں اخباری نمائندوں سے ہی مخاطب اور ان کے مختلف سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ آنکھ لگے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ ٹائم دیکھا تو ایک بج رہا تھا۔ میں بیٹھک میں سو رہا تھا جو بیرونی دروازے کے بالکل ساتھ تھی۔ مغل صاحب مکان کے اندرونی حصے میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ آرام کر رہے تھے۔ لائٹ جلا کر میں نے پوچھا: کون؟ زاہد بخاری کی آواز آئی: ہم ہیں۔ میں نے دروازہ کھولا تو نسیم اور زاہد کھڑے تھے اور ذرا فاصلے پر گلی میں پولیس کے کچھ آدمی نظر آ رہے تھے۔ میں نے انہیں کہا: تم لوگ گرفتار تو نہیں ہو گئے؟ کہنے لگے: آپ کے ایک رشتہ دار پولیس افسر اور حلقہ احباب کے ایک ساتھی (پروفیسر عثمان غنی مرحوم) باہر سڑک پر کھڑے ہیں۔ میں فوری تیار ہو گیا۔ میرے عزیز بزرگوارم پولیس انسپکٹر چودھری محمد صدیق سب سے پہلے مجھ سے ملے۔ مجھے معلوم تھا کہ میں گرفتار ہو گیا ہوں۔ صدیق صاحب اُن دنوں چوہنگ یا کاہنہ تھانہ میں تھے۔ ان کا تعلق ہمارے گائوں اور برداری سے تھا۔ میں نے زاہد اور نسیم سے سرزنش کے انداز میں کہا: آپ لوگوں نے پروگرام اور فیصلے کے خلاف کام کیا اور ساری سکیم دریا برد کر دی۔ مجھے گرفتاری کی کوئی پروا نہیں مگر اب مخالفانہ پروپیگنڈے اور جھوٹی خبروں کا جواب کون دے گا؟ انہوں نے معذرت کے انداز میں کہا کہ تفصیلی بات بعد میں کریں گے۔ یوں تو کوئی بھی ساتھی پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دے سکتا تھا مگر چونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ دوسرے ساتھی بھی مصیبت میں پھنسیں‘ اس لیے پریس کانفرنس میں خود ہی کرنا چاہتا تھا۔ ایک تو میں منتخب صدر یونین اور جمعیت کا ناظم تھا۔ دوسرا اس رات میری موجودگی تو سب کو معلوم تھی‘ باقی لوگوں کا کسی کو علم نہ تھا۔ اب یہ ساری منصوبہ بندی قصۂ پارینہ بن گئی۔ حقیقت یہی ہے کہ تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ!
پولیس کی تین گاڑیاں گلی میں کھڑی تھیں۔ ایک میں پروفیسر عثمان غنی‘ زاہد بخاری اور کچھ پولیس والے بیٹھ گئے‘ دوسری گاڑی میں نسیم انصاری‘ چودھری صدیق صاحب اور میں‘ تیسری میں باقی سب پولیس والے بیٹھ گئے۔ شاہدرہ سے ہم سول لائنز تھانے لائے گئے۔ وہاں لکھت پڑھت کی سرکاری کارروائی کے بعد مجھے ایک حوالاتی کمرے میں لے جایا گیا‘ جس میں مجھ سے قبل وہاں تین یا چار طالبعلم بلاوجہ بند تھے ۔ایک فاروق خان تھے‘ دوسرے اجمل ملک اور باقی کا کچھ یاد نہیں۔ یہ طلبہ ہمارے سپورٹر اور میرے ذاتی دوست تھے۔ ہمیں وہاں چھوڑ کر باقی افراد گھروں کو چلے گئے۔ ان طلبہ کی گھبراہٹ دیکھ کر میں نے انہیں تسلی دی کہ وہ کوئی فکر نہ کریں ''اصل مجرم‘‘ آ گیا ہے۔ مجھ سے مل کر ان کو خاصا حوصلہ ہوا۔
تھانہ سول لائنز کے انچارج ڈی ایس پی محمد اصغر خاں نوانی تھے جو اُن دنوں ''ہلا کو خان‘‘ کے نام سے مشہور (یا بدنام) تھے۔ لوگوں کو ان سے بڑی شکایات تھیں اور ان کی داستان ہائے ستم زبان زد عام تھیں۔ اسی کی وجہ سے ان کو ہلاکو خاں کہا جاتا تھا۔ یہاں یہ بات میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ باقی لوگوں سے اصغر خان صاحب کا سلوک معلوم نہیں کس قسم کا رہا ہو گا جہاں تک میرا معاملہ ہے انہوں نے میرے ساتھ نہایت شریفانہ برتاؤ کیا۔ حوالات کے چند ایام کے دوران وہ بڑی عزت سے پیش آتے رہے اور تین چار دن کے قیام میں ان سے اس قدر دوستانہ مراسم قائم ہو گئے کہ اپنے دفتر میں بلا کر دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ کبھی کبھار اپنے بچوں اور گھریلو معاملات کے بارے میں صلاح مشورے بھی کرتے۔ بھکر میں ان کا آبائی گھر اور اچھی خاصی وراثتی زرعی زمین تھی۔ زرعی امور کے بارے میں بھی گفتگو ہوتی رہتی۔ میں بھی اپنے خاندانی پس منظر اور زراعت سے وابستگی کا تذکرہ کرتا تو کئی سوال پوچھتے۔ اصغر نوانی صاحب کبھی تھانے کی کینٹین یا میس کے بجائے اپنے گھر سے خصوصی طور پر چائے منگواتے اور پھر اصرار کر کے پلاتے۔ میں حیران تھا کہ جس پولیس افسر کے بارے میں لوگوں کو ازحد شکایات ہیں وہ اس قدر شریف النفس اور اتنا اچھا آدمی ہے۔ چند ہی دنوں میں ایک ''ملزم‘‘ سے یوں بے تکلفی بڑے تعجب کی بات تھی۔ برسبیل تذکرہ موصوف ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی خاندانی روایات کے مطابق سیاسی میدان میں داخل ہوئے تو بھکر سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس علاقے سے ہمیشہ نوانی خاندان کے افراد ہی کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت تک پرانی گپ شپ کو کافی عرصہ بیت چکا تھا۔ میں کئی سال بیرونِ ملک رہنے کے بعد پاکستان آیا اور جماعت اسلامی کے مرکز میں ذمہ داری ادا کر رہا تھا تو ایک بار وہ محترم قاضی حسین احمد صاحب سے ملنے کیلئے منصورہ آئے تھے۔ ایک مرتبہ اور کسی محفل میں ملاقات ہوئی تھی۔ پرانی باتیں ان کو بھی خوب یاد تھیں اور مجھے بھی! قاضی حسین احمد صاحب کو اس دور کے واقعات خان صاحب نے سنائے تو قاضی صاحب بھی بہت خوش ہوئے۔ اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے۔
میری گرفتاری کے اگلے ہی روز مزید کئی طلبہ گرفتار ہو کر تھانہ سول لائنز میں آنے لگے۔ جہانگیر بدر اور ان کے ساتھی بھی گرفتار ہو کر آ چکے تھے۔ وہ کسی دوسرے حوالاتی کمرے میں بند تھے۔ ہمارے ساتھیوں میں سے حفیظ خان‘ افتخار فیروز‘ تنویر تابش اور جمعیت کے اکثرار کان گرفتار ہو کر آگئے ۔ ہمیں ایک بڑے ہال نما کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ اب تو یہاں مستقل طور پر ایک محفل سی لگ گئی تھی۔ نمازیں‘ تلاوتِ قرآن‘ درس و تدریس‘ شعر وشاعری‘ لطیفے‘ چٹکلے‘ ملاقاتیوں کا ہجوم‘ تحفے تحائف‘ غرض عجیب سماں تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...