جنرل سیکرٹری کے الیکشن میں دھاندلی کی پیشگی اطلاعات کے باوجود کمزور انتظامی ردعمل کی شکایات کے سلسلے میں وائس چانسلر علامہ علاء الدین صدیقی (مرحوم) سے ملاقات سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی مگر ہم کیا کر سکتے تھے۔ اس ملاقات کے اگلے روز مجھے اطلاع ملی کہ وائس چانسلر صاحب طلبہ گروپوں سے شام چار بجے مشترکہ ملاقات کریں گے۔ ایک رائے تو یہ تھی کہ اس اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا جائے مگر مشاورت کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ اجلاس میں جا کر اپنا مؤقف پیش کر کے اتمام حجت کرنی ضروری ہے۔ بہرحال یونیورسٹی کے طلبہ اور بہت سے اساتذہ کے نزدیک یہ عجیب بات تھی کہ ہنگامہ آرائی اور پوری جامعہ میں تخریب کاری کرنے والوں اور پُرامن رہنے والوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے۔ فیصلے کے مطابق ہم لوگ یونیورسٹی پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ علامہ صاحب نے ان سارے لوگوں کو جو ایک دن قبل یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے‘ طلبہ نمائندوں کے طور پر مدعو کیا ہوا تھا۔ بہرحال ہم بھی سینٹ ہال کے بغلی کمرے (غالباً کمیٹی روم) میں علامہ صاحب کے سامنے والی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے۔
وائس چانسلر صاحب نے دونوں جانب کے طلبہ نمائندوں سے بڑے حکیمانہ انداز میں خطاب کیا اور تان اس پر توڑی کہ جامعہ پنجاب کے پورے انتخابات کا مسئلہ الیکشن ٹربیونل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس پر ہم نے پُرزور احتجاج کیا۔ ہمارا مؤقف یہ تھا کہ اگر ہارا ہوا گروپ ٹربیونل یا یونیورسٹی سے باہر کسی بھی عدالت میں معاملے کو لے جانا چاہے تو اسے حق حاصل ہے مگر وائس چانسلر کی طرف سے یہ تجویز ناقابل ِفہم ہے۔ پھر دوسری بات یہ تھی کہ جن نشستوں پر الیکشن کمیشن کی طرف سے نتائج کا باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے‘ وہ تو متنازع ہیں ہی نہیں‘ متنازع تو صرف سیکرٹری کی پوسٹ تھی‘ جس پر دو دن بعد الیکشن ہوا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یونیورسٹی میں جو شخص یا گروپ طاقت کی زبان استعمال کرے گا‘ انتظامیہ کی طرف سے اس کو زیادہ وقعت دی جائے گی۔ یہ صورت حال بڑی افسوسناک اور اشتعال انگیز تھی۔ ہمارے بعض ساتھیوں خصوصاً افتخار فیروز نے ایک جذباتی تقریر بھی کی جس میں جذبات کے ساتھ بھرپور دلائل بھی تھے مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔
مخالف گروپ بہت خوش تھا کہ وائس چانسلر ان کی توقعات کے علی الرغم انہی کی ہم نوائی کر رہے تھے۔ (میں اب بھی یقین رکھتا ہوں کہ علامہ صاحب بڑے زیرک اور معاملہ فہم انسان ہونے کے باوجود اپنے گردونواح کے بعض یونیورسٹی عہدیداران کی باتوں میں آ گئے تھے) مخالف گروپ کیلئے یہ امر باعثِ مسرت تھا کہ ہار جانے اور ہڑبونگ مچانے کے باوجود وہ طلبہ کے ذی قدر نمائندے سمجھے جا رہے تھے۔ جو انتخاب غیر متنازع طور پر وہ ہار چکے تھے اب اسے بھی متنازع بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں مزید خوشی حاصل ہو رہی تھی۔ ہم جب ہال میں سے نکلنے لگے تو میں نے ایک بار پھر وی سی صاحب سے عرض کیا: سر! ہم نے اپنا مؤقف آپ کے سامنے بلا ابہام بیان کر دیا ہے اب آپ جو چاہیں کریں۔ تاہم آپ جو کرنے جا رہے ہیں وہ عدل کے منافی ہے اور آپ کے شایانِ شان نہیں ہے۔معلوم نہیں انہوں نے اسے کن معنوں میں لیا‘ تاہم افتخار فیروز اور دوسرے دوستوں کا خیال تھا کہ ہمیں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ان دنوں صورتحال یوں ہوا کرتی تھی کہ ہم لوگ شام بلکہ رات گئے تک اخبارات کے دفتروں کے چکر لگایا کرتے تھے اور اپنی خبریں لگوانے کے لیے اپنے واقف کار یا دوست صحافیوں سے ملاقاتیں کرتے تھے۔
وائس چانسلر کے ساتھ متذکرہ بالا نشست کے دوسرے دن ہمارے بعض دوست اخبارات کے دفتروں میں گئے تو انہیں وی سی کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کا پتا چلا۔ اس کے مطابق موصوف نے ایک ٹربیونل مقرر کیا تھا جس کے ذمہ طلبہ یونین کے جملہ انتخابات کی تفتیش اور چھان بین تھی۔ یہ فیصلہ ہمارے نزدیک زیادتی پر مشتمل تھا اور ہمارے برحق مطالبات کو بغیر کسی جواز کے مسترد کر دیا گیا تھا۔ ججوں میں غالباً ایک نام غیاث الدین تھا اور دوسرا محمود‘ تیسرے جج کا نام یاد نہیں آ رہا۔ (جو نام لکھے ہیں وہ بھی یادداشت سے لکھے ہیں‘ اس دور کا تحریری ریکارڈ دستیاب نہیں ہو سکا)
حقیقت یہ ہے کہ مجھے آج تک ان ججوں کے بارے میں پتا نہیں کہ وہ کون تھے اور کس قسم کے خیالات کے مالک تھے لیکن اسی رات بعض احباب نے جن کا تعلق صحافت اور قانون کے پیشے سے تھا‘ بڑے وثوق سے بتایا کہ تینوں کا تعلق اقلیتی فرقوں سے ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس بات میں کس قدر سچائی تھی مگر ہم سب لوگوں کے لیے اُس وقت یہ خبر بڑے صدمے کا باعث بنی۔ جس رات کا یہ ذکر ہے اسی کی شام کو ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ مجھے جمعیت کے دفتر میں بتایا گیا کہ بارک اللہ خاں ایک ایکشن کمیٹی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ مختصر سے وقت میں بے انتہا چیزیں ظہور پذیر ہو رہی تھیں۔ میں چند ساتھیوں کی معیت میں ان کے پاس پہنچا‘ چند احباب دفتر میں جمع تھے۔ خاں صاحب جوش میں تقریر فرما رہے تھے اور ان کا نشانہ ہماری یونین اور خاص طور پر میری ذات تھی۔ میں خان صاحب کی باتیں سنتا رہا‘ پھر میں نے ان سے عرض کیا: ایکشن کمیٹیاں تو ہارے ہوئے لوگ بنایا کرتے ہیں‘ آپ کو اس سب کی کیا ضرورت ہے‘ یہ آپ کی اپنی یونین ہے‘ آپ ہمارے بزرگ اور محترم بھائی ہیں۔ انہوں نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا: نہیں مجھے معلوم ہے یہ یونین کچھ نہیں کر سکتی۔ میں نے عرض کیا: ممکن ہے آپ کی بات درست ثابت ہو مگر کچھ عرصہ تو اس یونین کو مہلت دیں‘ کم از کم حلف تو اٹھا لیا جائے۔ یہ اس طویل گفتگو کا مختصر سا حصہ ہے جو اس شام ہوئی۔
ہم عجیب مخمصے میں پڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ کا طرزِ عمل باعثِ پریشانی تھا۔ دوسری طرف یہ ایکشن کمیٹی ہماری سمجھ میں نہ آ رہی تھی‘ تیسری طرف حزبِ مخالف سے مقابلہ تھا۔ نمازِ عشا کے بعد مجھے اخباری دفاتر سے آنے والے دوستوں کی زبانی وی سی کی پریس ریلیز کے بارے میں اطلاع ملی۔ سابق ناظم اعلیٰ جمعیت ڈاکٹر محمد کمال دفتر میں موجود تھے اور تقریباً سبھی ارکان بھی وہیں تھے۔ ہم نے بازار جا کر ایک دکان سے وی سی صاحب کو ٹیلی فون کیا‘ وہ گھر پر موجود نہ تھے۔ ان کے بیٹے نعمان صدیقی نے فون سنا‘ اس نے بتایا کہ علامہ صاحب کہیں دعوت پر گئے ہوئے ہیں اور دیر سے آئیں گے۔ میں نے کہا کہ جب بھی وہ آئیں ان سے عرض کریں کہ میں ان سے فوراً ملنا چاہتا ہوں۔
جس دکان سے فون کیا‘ وہ نصراللہ شیخ (سابق صدر جامعہ پنجاب) کی تھی۔ انہیں جب پریس ریلیز کا پتا چلا تو وہ بھی سٹپٹائے۔ طے ہوا کہ ان کے ساتھ ہم ایڈووکیٹ چودھری اسماعیل کے ہاں جائیں۔ انہیں یہ خبر سنائی تو وہ بھی بڑے پریشان ہوئے۔ وہ مقرر کردہ ججوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے اور ان کی رائے وہی تھی جو ہمیں پہلے اطلاعات ملی تھیں۔ اتفاق کی بات کہ مرے کالج سیالکوٹ میں جمعیت کے امیدوار نثار میر یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کی کامیابی کا کالج انتظامیہ کی طرف سے باقاعدہ اعلان بھی ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود ہارے ہوئے گروپ نے جھگڑا کھڑا کر دیا۔ معاملہ ڈی سی تک پہنچا اور ڈی سی کو ثالث بنایا گیا۔ ڈی سی نے نثار میر کے الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا اور یہ خبر اسی دن صبح کے اخبارات میں چھپی تھی۔ اس خبر کے حوالے سے لوگ اور بھی جذباتی ہو گئے۔ پروفیسر عثمان غنی اور بارک اللہ خاں کی جذباتیت کا منظر شام کو دیکھا تھا اور اب نصراللہ شیخ اور اسماعیل چودھری کا جوش منظر عام پر آ رہا تھا۔ اول الذکر بزرگان کے غصے کی وجہ سمجھ سے بالاتر تھی جبکہ آخر الذکر اس خبر سے پریشان تھے کہ تین افراد پر بننے والا کمیشن کسی سازش کا نتیجہ ہے‘ جس کا فوری توڑ ضروری ہے۔