"KMK" (space) message & send to 7575

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

اگر آپ ایک سو کلوگرام گنجائش والی بوری میں ایک سو بیس کلوگرام گندم بھرنے کی کوشش کریں تو اول تو وہ اس میں سمائے گی ہی نہیں اور ادھر ادھر بکھر جائے گی‘ تاہم اگر آپ اس سلسلے میں زور زبردستی کرتے ہوئے ایک سو بیس کلوگرام گندم کو سو کلوگرام گنجائش والی بوری میں بھرنے پر آ ہی جائیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ بوری پھٹ جائے گی۔ ہم ملتان والوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ کم استعداد کے حامل اداروں اور ان میں بیٹھے ہوئے افسران کی استعدادِ کار سے کہیں زیادہ ترقیاتی فنڈز ملنے کی صورت میں اس شہرِ ناقصاں کی بوری پھٹ چکی ہے۔ نتیجتاً ملتان جگہ جگہ سے اُدھڑا پڑا ہے۔
تفصیل اس صورتحال کی یہ ہے کہ ملتان میں تعینات ایک انتظامی افسر نے تختِ لاہور سے اپنے پرانے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ملتان کیلئے تاریخی قسم کا ترقیاتی بجٹ منظور کروا لیا۔ اسے شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ملتان کے ترقیاتی ادارے اور ان میں عرصۂ دراز سے بیٹھے ہوئے افسران اس قسم کی باتوں کے عادی نہیں تھے۔ ماضی میں ملتان کو گزارے لائق اور بالکل معمولی سا تقریباً ناقابلِ ذکر قسم کا ترقیاتی بجٹ ملتا تھا جو ترقیاتی اداروں میں بیٹھے ہوئے نالائق افسران کی نالائقی کا پردہ رکھ لیتا تھا۔ ایک اردو محاورے کے عین مطابق کہ ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا؟ یہ معمولی قسم کے فنڈز نہانے اور نچوڑنے کے مرحلے سے پہلے ہی برابر ہو جاتے تھے۔ سو ایک تو ملنے والا فنڈ نہایت معمولی ہوتا تھا‘ اوپر سے اس فنڈ میں افسران کا کھانچہ اسے مزید ہلکا کر دیتا تھا۔ سو آدھے فنڈز ترقیاتی کاموں میں اور آدھے فنڈز افسران کی جیبوں میں چلے جاتے تھے اور راوی ہر طرح سے چین لکھتا تھا۔ لیکن اس بار معاملہ تھوڑا مختلف اور مشکل ہو گیا۔ ملنے والے ترقیاتی فنڈز افسران کی استعدادِ کار اور ترقیاتی محکموں کی اوقات سے بہت زیادہ تھے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ صرف سیوریج کے معاملات کو بہتر بنانے کیلئے‘ پرانی سیوریج لائنیں تبدیل کرنے اور نئی ڈالنے کیلئے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ملتان ڈویژن کو 76 ارب روپے اور واسا ملتان کو 27ارب روپے کے فنڈز جاری کردیے گئے۔ ملتان اور اہلِ ملتان نے محمد بن قاسم کے حملے کے دوران اس کے ساتھ آنے والے عرب فوجیوں کی واپسی کے بعد اس شہر میں کبھی اکٹھے ''27 عرب‘‘ نہیں دیکھے تھے‘ کجا کہ ستائیس ارب روپے مل جائیں۔ ایسے میں چچا غالب کا ایک شعر یاد آ گیا ہے:
اسد خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
27ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا سُن کر پہلے تو ترقیاتی ادارے کے افسران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پھر اتنی بڑی رقم پر پیداگیری کے امکانات کا سوچ کر انکے منہ سے رال بہنے لگی۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ بندے کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوں اور منہ سے رال ٹپک رہی ہو تو بھلا ایسے میں مناسب طریقے سے کام کیسے ہو سکتا ہے؟ اوپر سے مسئلہ یہ بھی ہو کہ وہ کام انکی استعدادِ کار سے کہیں اونچے درجے کا ہو۔ لہٰذا فی الوقت حالات یہ ہیں کہ ملتان ہر جگہ سے پھٹا پڑا ہے‘ بالکل اس بوری کی طرح جس میں اسکی گنجائش سے زیادہ مال بھرنے کی زبردستی کوشش کی گئی ہو۔
کئی کلو میٹر طویل سدرن بائی پاس‘ جو ملتان شہر کو نیشنل ہائی وے (این فائیو) یعنی ملتان لاہور شاہراہ سے ملاتا ہے‘ اب اسے ملتان ایونیو کا نام دے کر ایک نئی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایمانداری کی بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ جمالیاتی اعتبار سے اور تکنیکی و عملی اعتبار سے نہایت شاندار ہے لیکن فی الحال معاملہ اس منصوبے کے خوبصورت‘ شاندار‘ کارآمد اور اس سے ملنے والی متوقع سہولتوں کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اب اس مسلسل زیر تعمیر پروجیکٹ کو مکمل ہو جانا چاہیے۔ اس کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دو بار تو گزر چکی ہے اور ابھی اس کے فوری طور پر مکمل ہونے کا کوئی امکان کم از کم مجھے تو دکھائی نہیں دے رہا۔ سو سڑک کا کئی کلو میٹر کا حصہ دونوں طرف سے کھدا ہوا ہے۔ یہی حال گلگشت کالونی ملتان میں تزئین و آرائش کی شکار برانڈ روڈ کا ہے۔ فروری میں یہ منصوبہ شروع ہوا تھا اور اسے جون میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک وہاں گرد‘ دھول‘ مٹی اور گڑھوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے پا رہا۔ ہاں البتہ سائیڈوں پر ٹف ٹائل لگ رہی ہے۔ اس جگہ کے دکاندار اور کاروباری حضرات گزشتہ دو عیدین کو تو کسی نہ کسی طرح رو پیٹ کر گزار چکے ہیں لیکن اب ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے ذمہ دار اداروں کے پاس یکدم شروع کیے جانے والے ان تمام پروجیکٹس کو بروقت مکمل کرنے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ وہ اپنی اس نالائقی کا اعتراف کرتے ہوئے دوسروں سے کچھ سیکھنے پر راضی ہیں۔ صرف یہی نہیں‘ اس خطے کے واحد ٹرشری کیئر نشتر ہسپتال کے باہر والی سڑک کا بھی یہی حال ہے۔ عام شہریوں کی حد تک تو یہ چیزیں پھر بھی کسی حد تک قابلِ برداشت اور قابلِ معافی ہو سکتی ہیں لیکن جہاں ہسپتال تک مریضوں کی رسائی اور خاص طور پر ایمرجنسی علاج کے منتظر مریضوں کا مسئلہ ہو‘ وہاں اتنی تاخیر باقاعدہ جرم شمار ہوتی ہے۔ ملتان کے سب سے قدیمی بازار ''شاپنگ سنٹر‘‘ چوک بازار کا بھی یہی حال ہے۔ ٹف ٹائل لگ تو رہی ہے‘ لیکن لگنے میں ہی نہیں آ رہی۔ حسین آگاہی روڈ کئی ماہ سے میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔ ڈیرہ اڈا تا پل شوالہ‘ حسن پروانہ روڈ کئی ماہ سے اکھڑی ہوئی ہے۔ دہلی گیٹ تا دولت گیٹ سڑک تاخت و تاراج ہونے کا مفہوم سمجھنے کیلئے ملاحظہ فرمائی جا سکتی ہے۔ ابدالی روڈ سے ڈیرہ اڈا لنک روڈ‘ جو قدیمی ابدالی مسجد اور کارڈیالوجی ہسپتال کے گیٹ نمبر دو اور تین کے سامنے سے گزرتی ہے‘ وہ بھی واسا کے ہاتھ چڑھی ہوئی ہے اور موہنجودڑو کی ہمشیرہ محترمہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ وہ سڑکیں ہیں جنہیں یہ آوارہ گرد بذاتِ خود خراب و خستہ حال میں دیکھ چکا ہے‘ اس کے علاوہ اگر کچھ سڑکیں اس مسافر کی نظر سے بچ گئی ہیں تو اس کیلئے معذرت خواہ ہوں۔ تاہم یہ وہ سڑکیں ہیں جو اس 27ارب روپے کے محیرالعقول ترقیاتی بجٹ کے آنے کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت توڑی گئی ہیں اور متعلقہ محکموں کی نالائقی اور صلاحیت کی کمی کی وجہ سے نشانِ عبرت بنی ہوئی ہیں۔ ان منصوبہ بندی سے خراب کی گئی سڑکوں سے قطع نظر وہ تمام راستے‘ گلیاں اور سڑکیں جو پہلے سے ہی خستہ و بدحال تھیں ان کا نہ تو کوئی شمار ہے اور نہ ہی کوئی گنتی۔
اب آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر اس ملتانی لکھاری کو کیا سوجھی ہے کہ وہ اپنے شہر میں سیوریج کے مسائل کے حل کیلئے ملنے والی 27ارب روپے کی خطیر رقم ملنے کے باوجود نہ تو خوش ہے اور نہ ہی مطمئن۔ تو قارئین! میں اس ساری پیشرفت سے خوش بھی ہوں اور مطمئن بھی‘ تاہم اس خوشی اور اطمینان کے ساتھ ساتھ پریشان اور متردد بھی ہوں کہ جب یہ ساری سڑکیں بمعہ برانڈ روڈ اور ملتان ایونیو‘ بالکل تیار ہو جائیں گی تو پھر دیگر محکمے از قسم سوئی گیس اور ٹیلی فون وغیرہ والے سڑک کھودنے کیلئے آ جائیں گے اور سڑک کھود کر نہ صرف یہ کہ اسے نئے سرے سے برباد کر دیں گے بلکہ اسے دوبارہ مرمت بھی نہیں کریں گے۔ کم از کم میں نے تو آج تک یہی دیکھا ہے کہ سڑک بننے کے چند ہی روز بعد اسے دوبارہ کھودنے والے پہنچ جاتے ہیں۔ بوسن روڈ سے میرے گھر کی طرف جانے والی سڑک جب بن کر تیار ہو گئی تھی تو حسبِ روایت اسے سوئی گیس والوں نے کھود کر رکھ دیا۔ آج چھ سات مہینے ہو گئے ہیں اس کھدائی کی مرمت کے لیے کوئی نہیں آیا۔ میری تو بس اتنی درخواست ہے کہ آدھا ملتان کھدا پڑا ہے‘ لہٰذا جس نے بھی کھدائی کا شوق پورا کرنا ہے ابھی کر لے۔ یہ کام سڑکیں بننے کے بعد یاد آیا تو 27 ارب روپے کا تختہ ہو جائے گا۔ جو کرنا ہے ابھی کر لیں‘ رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...