"KMK" (space) message & send to 7575

لوڈشیڈنگ، کپیسٹی چارجز اور انڈے کی ماہیت

جب بھی میں کسی ایسے گمبھیر‘ پیچیدہ‘ گنجلک یا انتہائی تکنیکی معاملے میں پھنس جاؤں جسے میری ناقص عقل گہرائی تک سمجھنے اور اس کا حل نکالنے سے عاجز دکھائی دے تو میں ایسے معاملات پر زیادہ سر کھپانے اور اپنے آپ کو کوئی دانشور‘ ماہر یا ہرفن مولا ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے سردار بلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو کو یاد کرتا ہوں اور اس کا سیدھے سبھاؤ سامنے دکھائی دینے والے عملی حل کو ذہن میں لاتے ہوئے اپنے لیے آسانیاں پیدا کر لیتا ہوں۔ قصہ سردار بلدیو سنگھ کا یہ ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے ولایت بھیجا۔ بیٹے نے ولایت جا کر فلسفے میں داخلہ لیا اور بعد ازاں درجہ تخصیص میں اس نے علمِ منطق کا انتخاب کیا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس تلونڈی سابو آ گیا۔ ولایت میں پڑھائی پر یونیورسٹی کی فیس‘ ہاسٹل میں رہنے اور کھانے کے خرچے کے علاوہ فضول خرچ بیٹے کے دیگر اخراجات پر کل ملا کر سردار بلدیو سنگھ کا لمبا چوڑا خرچہ ہو گیا۔ بیٹے کی ولایت سے واپسی کی اگلی صبح ناشتے کی میز پر سردار بلدیو سنگھ نے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ کر آیا ہے؟ جب اس نے یہ سوال کیا‘ ان دونوں کے سامنے ایک ایک پراٹھا اور ایک ایک انڈا پڑا ہوا تھا۔ بیٹے نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ فلسفہ پڑھ کر آیا ہے۔ باپ نے پھر پوچھا کہ فلسفے میں کیا پڑھا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ فلسفے میں Logic یعنی علمِ منطق پڑھ کر آیا ہے۔ سردار بلدیو سنگھ نے مزید پریشان ہو کر پوچھا: پُتر! یہ علم منطق کیا ہے؟ بیٹے نے کہا: منطق دراصل فلسفے کی وہ شاخ ہے جو صحیح سوچنے‘ دلیل کی ساخت اور درست استدلال کے اصولوں کا مطالعہ کرتی ہے۔ بلدیو سنگھ جیسے شخص کیلئے اس قسم کی پیچیدہ گفتگو اور پریشان کن وضاحت کو سمجھنا بہت مشکل تھا۔ بیٹے نے باپ کی پریشانی بھانپتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں‘ اب یہی دیکھیں کہ آپ کے سامنے پلیٹ میں فرائی کیا ہوا ایک انڈا رکھا ہے۔ آپ جیسے عام لوگوں کے نزدیک یہ محض ایک انڈا ہے‘ تاہم یہ صرف ایک انڈہ نہیں بلکہ اس انڈے کے ساتھ جڑی ہوئی اس انڈے کی ماہیت بھی ہے۔ یعنی یہ ایک چیز نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک انڈہ اور دوسری اس کی ماہیت۔ بلدیو سنگھ اس دوران اپنا بیشتر انڈا کھا چکا تھا۔ اس نے باقی ماندہ بچے ہوئے انڈے کو منہ میں ڈالا‘ بیٹے کے سامنے رکھی انڈے کی پلیٹ کو اپنی جانب کھسکایا اور بولا: پُتر! میں تو تمہارے انڈے کے ساتھ اپنا پراٹھا کھا رہا ہوں‘ تم اپنا پراٹھا میرے اور اپنے‘ دونوں انڈوں کی ماہیت سے لگا کر کھا لو۔
مجھ کم علم شخص کا بھی یہی حال ہے‘ اسے انڈے کی ماہیت کا تو علم نہیں چنانچہ انڈے کی وجودی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معمولی علم کا پراٹھا کھا کر خوش ہو جاتا ہوں۔ سرکار کے بجلی والے معاملات میں پیچیدگی‘ گہرائی اور مسائل کیا ہیں؟ ان کے بارے میں اس فقیر کو زیادہ علم نہیں‘ تاہم موٹی موٹی چند باتوں کا پتا ہے اور ان کی بنیاد پر ذہن میں جو سوالات اٹھتے ہیں وہ عین وہی سوالات ہیں جو پاکستان کی اُس اٹھانوے فیصد آبادی کے ذہن میں ہیں‘ جسے لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا ہے اور جسے بجلی کا بل بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک گیارہ ماہ میں حکومت نے آئی پی پیز کو 29 کھرب 35 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں۔ اندازہ کریں کہ اس کُل ادا شدہ رقم میں سے آئی پی پیز کو بجلی پیدا کرنے کے عوض 11 کھرب 45 ارب روپے‘ جبکہ بجلی پیدا نہ کرنے کے عوض 17 ارب 90 ارب روپے ادا کیے گئے۔ بجلی پیدا نہ کرنے کے عوض ادا کی جانے والی رقم سے میری مراد کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کی جانے والی رقم ہے۔ گیارہ ماہ میں ادا کی جانے والی 29 کھرب 35 ارب روپے کی رقم کا صرف 39 فیصد بجلی کی خرید جبکہ 61 فیصد کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیا گیا۔ جب کسی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی سے اس کی کُل پیداواری استعداد کے مطابق طے شدہ معاہدے کے برعکس‘ پوری بجلی یا اس کا کچھ حصہ نہیں خریدا جاتا تو طے شدہ معاہدے سے کم یا نہ خریدی گئی بجلی کے عوض اس کو کپیسٹی چارجز کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ معاہدے کے وقت بجلی کمپنیوں نے حکومتِ پاکستان سے بجلی کی فروخت کا معاہدہ اپنی اپنی پیداواری استعداد کے مطابق کیا تھا۔ مثال کے طور پر کسی نے سو میگاواٹ کی پیداواری استعداد کا بجلی گھر لگایا اور حکومت سے اس پیدا کردہ بجلی کی فراہمی کا معاہدہ کیا۔ اب اگر حکومت اس سے سو میگاواٹ بجلی خریدے گی تو وہ اس کی ادائیگی طے شدہ فی یونٹ قیمت کے مطابق کرے گی۔ اگر 80 میگاواٹ خریدے گی تو بقیہ نہ خریدی جانے والی 20 میگاواٹ بجلی کی ادائیگی ایک طے شدہ رقم کے مطابق کرے گی۔ اگر حکومت ان سے 60 میگاواٹ بجلی خریدے گی تو نہ خریدی جانے والی 40 میگاواٹ بجلی کے عوض اس کمپنی کو ادائیگی کرے گی۔ اسی طرح اگر 20 میگاواٹ خریدتی ہے تو بچ جانے والی 80 میگاواٹ اور بالکل نہ خریدنے کی صورت میں پورے سو میگاواٹ کا زر تلافی یعنی ''ڈنڈ‘‘ ادا کرے گی۔ یہ بات یاد رہے کہ کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کی جانے والی فی کلو واٹ قیمت خریدی جانے والی بجلی کی فی کلوواٹ قیمت سے کم ہوتی ہے۔ معاہدہ کرتے وقت بجلی کمپنیوں کا یہ موقف تھا کہ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اس کی ضرورت کے مطابق طے شدہ معاہدے کے تحت یہ بجلی گھر لگایا ہے‘ اس کیلئے انہوں نے بینکوں سے سود پر قرضے لیے‘ وہ سود کی مد میں ادائیگی‘ دیگر فنانشل اخراجات‘ عملے کی تنخواہیں‘ پلانٹ کی فرسودگی یعنی Depreciation اور لاگت پر کم از کم آمدن یعنی ''ریٹرن آن انویسٹمنٹ‘‘ کی مد اپنے پلانٹ کے کم استعداد پر چلنے کی صورت میں کپیسٹی چارجز لینے کے حقدار ہیں۔ انہیں اپنا پلانٹ نہ چلنے یا کم چلنے کی صورت میں یہ ادائیگیاں بہرحال کرنی ہیں۔ انہوں نے یہ ادائیگیاں بڑھا چڑھا کر سرکار کے گلے منڈھ دیں اور معاہدوں میں کپیسٹی چارجز کی مد ڈال دی۔ یہ بات الگ ہے کہ آئی پی پیز کے مالکان‘ فیصلہ سازوں اور ان معاہدوں کو قانونی شکل دینے پر مامور سرکاری افسران نے ہر چیز کی قیمت دگنی تگنی لگائی۔ ہر متعلقہ شخص اور کمپنی کے وارے نیارے جبکہ قوم کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ سو اب سرکار بجلی خریدے‘ کم خریدے یا نہ خریدے‘ ہر صورت میں اسے بجلی کمپنیوں کو اس کی نصب شدہ استعداد یعنی انسٹالڈ کپیسٹی کے حساب سے ادائیگی کرنی ہی کرنی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے لوڈ شیڈنگ دوبارہ عروج پر ہے۔ پاکستان میں بجلی کی کُل پیداواری صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ ہے۔ آئی پی پیز کی کل پیداواری صلاحیت 26 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے جو بجلی کی کل ملکی پیداوار کا تقریباً 52 فیصد ہے۔ پرائیوٹ سیکٹر میں کاروباری و پیداواری یونٹس اور عام صارفین کی جانب سے اپنے لیے سولر بجلی پیدا کرنے کے بعد نیشنل گرڈ پر فی الوقت پندرہ ہزار میگاواٹ کی طلب کا لوڈ ہے اور سرکار یہ طلب‘ جو بجلی کی کُل ملکی پیداوار کا ایک تہائی ہے‘ پورا نہیں کر پا رہی۔ جو آئی پی پیز بھلے دنوں میں کپیسٹی چارجز کی مد میں بنا بجلی پیدا کیے گیارہ ماہ میں 17 کھرب 90 ارب روپے ڈکار چکے ہیں‘ اب ضرورت کے وقت کہاں ہیں؟ اب اگر وہ ایل این جی کی کمی کے بہانے بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو ان پر بجلی سپلائی نہ کرنے کے عوض جرمانہ لگا کر ان کی سابقہ لوٹ مار کا ہرجانہ کیوں نہیں لیا جاتا؟ ان کو بجلی نہ لینے کے عوض مفت میں کپیسٹی چارجز ادا کرنے کے بجائے بجلی لے کر ادائیگی کیوں نہیں کی جا رہی؟ آئی پی پیز کو مفت میں ادائیگی کے بجائے قابل فروخت بجلی لے کر ادائیگی کرنے سے نہ صرف حکومت کو بچت ہو گی بلکہ لوڈشیڈنگ سے بھی نجات ملے گی۔ مجھے زیادہ پیچیدگیوں میں نہیں پڑنا‘ مجھے انڈے سے غرض ہے‘ اس کی ماہیت جائے بھاڑ میں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...