"KMK" (space) message & send to 7575

قرضے انج ای نئیں چڑھدے

ساٹھ کی دہائی میں جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دینے والا پاکستان آخر اس حال میں کیسے پہنچا کہ اب اس کی سرکار صرف کارِ سرکار چلانے کیلئے در در قرض کی صدائیں بلند کرتی پھر رہی ہے۔ قرضہ دینے والے ملک سے لے کر قرضہ لینے والی ریاست تک کا ہمارا یہ سفر ایک داستانِ عبرت ہے۔ تاہم اس داستان میں زیادہ اسرار اور پیچیدگیاں بہرحال نہیں ہیں۔ ہم اس حالت تک کیسے پہنچے؟ اسے سمجھنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ سائنسدان طلب کیے جائیں‘ ماہرینِ معاشیات کی کانفرنس بلائی جائے‘ کوئی فال نکالی جائے‘ کوئی استخارہ کیا جائے‘ بھاری مشاہرے پر کنسلٹنٹ رکھے جائیں یا آج کل کے رائج علم مطلق یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد لی جائے۔ یہ معاشیات کا سادہ سا قانون ہے کہ اسے معاشیات کے مضمون یا نام سے قطعاً لاعلم اور ناواقف اَن پڑھ مزدور‘ کوئی گھریلو خاتون یا چھوٹا سا بچہ بھی سمجھتا ہے کہ جب اس کا خرچ اس کی آمدنی سے بڑھ جائے گا تو اسے آمدنی اور خرچ کے اس باہمی فرق کو پورا کرنے کیلئے کسی سے قرض لینا پڑے گا یا اُدھار پر سودا سلف خریدنا پڑے گا۔ نوکری پیشہ بندہ اپنے ادارے یا کمپنی سے ایڈوانس لے گا‘ گھر کی روٹی ہانڈی کیلئے ساتھ والے کریانہ فروش سے ادھار پر آٹا دال لے گا یا ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار کر جائز ناجائز پیدا گیری کر کے اپنے اوپر والے اخراجات پورے کرے گا۔ ہم بڑی سطح پر یہی کچھ کر رہے ہیں۔
دوسروں کو قرض دینے والی اچھی مالی حیثیت سے لے کر قرض مانگنے والی حالت تک کے سفر میں دو میں سے کوئی ایک یا دونوں وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم نے وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق اپنی آمدنی میں اضافہ نہیں کیا یا دوسری یہ کہ ہم نے اپنے روز افزوں بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق کنٹرول نہیں کیا۔ تیسری وجہ ان پہلی دونوں وجوہات کا مشترکہ مجموعہ ہے جو سب سے خوفناک ہے۔ ہم اسی تیسری وجہ کے باعث ہر دوسرے دن کسی عالمی مالی ادارے کے دروازے پر جھولی پھیلائے پہنچ جاتے ہیں۔ کبھی کسی شاہ کے در پر مؤخر ادائیگیوں والے پٹرول کی عرضی لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں تو آپ کو اس فرق کو پورا کرنے کیلئے کہیں سے قرض لینا پڑے گا۔ اگر اگلے ماہ پھر یہی حساب رہے کہ اخراجات اور آمدنی کا باہمی فرق گزشتہ ماہ کی نسبت مزید بڑھ چکا ہو تو آپ کو پچھلے ماہ کی نسبت اس ماہ زیادہ قرضہ لینا پڑے گا۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہے تو ہر آنے والے مہینے کا قرضہ پچھلے مہینے سے زیادہ ہوتا جائے گا۔ ہمارے ساتھ یہی ہوا! ہماری آمدنی کم اور اخراجات زیادہ تھے اور سال بہ سال ہماری آمدنی میں اضافے کی نسبت ہمارے اخراجات میں اضافہ زیادہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں ہر سال اپنا یہ خسارہ پورا کرنے کیلئے گزشتہ سال کی نسبت زیادہ قرض درکار تھا۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر نئے لیے جانے والے قرض کا بیشتر حصہ پرانے قرض کی ادائیگی اور اس کی سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔ یعنی اب قرضہ لینے کے تین پہلو ہیں: گزشتہ قرضوں کی ادائیگی‘ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی اور موجودہ آمدنی اور اخراجات کے فرق کو پورا کرنے کیلئے درکار مزید قرضہ۔
آمدنی اگر زیادہ نہ بڑھ رہی ہو اور اس کی کوئی صورت بھی دکھائی نہ دے رہی ہو تو سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے اخراجات کم کیے جائیں لیکن ہمارے حکمرانوں کی ساری توجہ ملک کی حالت کو بہتر کرنے کے بجائے اپنی ذاتی حالت کو بہتر کرنے پر مرتکز ہے۔ پرانی کہانی کے مطابق ایک فقیر بادشاہ بن گیا تو اس کی زندگی کا مطمح نظر صرف حلوہ کھانا تھا۔ ملک برباد ہوا تو اس نے اپنی گدڑی اٹھائی اور چل دیا۔ ہمارے حکمران اس ملک کے سنگھاسن پر موج میلہ کرنے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور یہ موج میلہ کیا ہوتا ہے؟ ملک گلے گلے تک قرضے میں ڈوبا ہو‘ ہر مہینے آئی ایم ایف کے در پر دستک دینی پڑتی ہو‘ ہر سال امانت پر رکھوائے گئے دوستوں کے پیسوں کو ری شیڈول کرانا ہو‘ ہر چوتھے مہینے 'یا شیخ ادھار پر تیل دے دو‘ کی درخواست کرنی ہو اور حکمران لگژری جہازوں‘ چارٹرڈ فلائٹس اور خصوصی پروازوں سے نیچے نہ اتر رہے ہوں تو اسے موج میلہ کہتے ہیں۔ جس وزیراعظم نے اپنے کپڑے بیچ کر اس ملک کے قرضے اتارنے تھے اور غریب کی حالت بہتر کرنی تھی وہ وزیراعظم ہمارے کپڑے بیچ کر خصوصی پرواز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کیلئے امریکہ پہنچے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ درویشانہ سفر صرف اقوام متحدہ سے خطاب جیسے بے مقصد کام کیلئے ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس دوران ہماری مالی مشکلات کو کم کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی ہے۔
قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں اور قومیں کس طرح مانگنے والوں کی قطار میں کھڑی ہوتی ہیں اس کے لیے میں پاکستان کا موازنہ ساٹھ اور ستر کی دہائی تک پاکستان سے تکنیکی اور صنعتی مدد و رہنمائی مانگنے والے ملک چین سے نہیں کروں گا بلکہ میں پاکستان کا موازنہ پاکستان ہی سے‘ میرا مطلب ہے 1971ء تک پاکستان کا حصہ رہنے والے آج کے بنگلہ دیش سے کروں گا۔ 16 دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ سے پہلے ہم مغربی پاکستانیوں کا خیال تھا کہ بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان ہماری معیشت پر بوجھ ہے‘ وہاں ہر سال آنے والا سیلاب مغربی پاکستان کی ساری آمدنی کھا جاتا ہے‘ بھوکے بنگالی ہماری گندم اور کپاس اُچک لیتے ہیں‘ مشرقی پاکستان سے سوائے پٹ سن کے مغربی پاکستان کو کچھ بھی نہیں ملتا‘ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ ہے اور وہ مغربی پاکستان کے وسائل رگڑ جاتا ہے۔ ذرا آج کی صورتحال دیکھیں۔1971ء میں مغربی پاکستان کی آبادی چھ کروڑ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی سات کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ آج مغربی پاکستان کی آبادی چھبیس کروڑ جبکہ بنگلہ دیش کی آبادی سترہ کروڑ ہے۔ یعنی بنگلہ دیش نے اس دوران اپنی معیشت کو بہتر اور مستحکم کرنے کیلئے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جبکہ ہم نے مشترکہ پاکستان کی آبادی میں سے بنگلہ دیش کے نکل جانے کے بعد یہ کوشش تھی کہ بنگلہ دیش کے چلے جانے کے بعد ہماری آبادی کا جو بلند شملہ سرنگوں ہوا ہے اسے دوبارہ اونچا کرنے کی غرض سے دن دگنی اور رات چوگنی کوشش کرتے ہوئے اس خلا کو پورا کیا جائے۔ اگر میں چند سطروں میں نہایت مختصر انداز میں آج پاکستان اور بنگلہ دیش کا حالیہ معاشی موازنہ کروں تو صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا جی ڈی پی 452 ارب ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کا جی ڈی پی 510 ارب ڈالر ہے۔ ہماری جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد جبکہ بنگلہ دیش کی 4.7 فیصد ہے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کے 36.3 ارب ڈالر ہیں۔ پاکستان کی کل برآمدات 30 ارب ڈالر ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی برآمدات 55 ارب ڈالر ہیں۔ پاکستان پر کل قرضہ 138ارب ڈالر ہے جبکہ بنگلہ دیش کا کل قرضہ 102 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی 1500 ڈالر ہے جبکہ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 2500 ڈالر ہے۔ آپ اندازہ کریں ہم سے زیادہ آبادی والا مشرقی پاکستان اب ہم سے کہیں کم آبادی کا حامل بنگلہ دیش ہے۔ بنگلہ دیش کی جی ڈی پی ہم سے بہت بہتر ہے‘ برآمدات ہم سے 83 فیصد زیادہ ہیں‘ قرضے ہماری نسبت کم ہیں‘ فی کس آمدنی ہم سے زیادہ ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف امریکہ جانے کے لیے اپنے انتہائی مختصر وفد کے ہمراہ ایک خصوصی طیارے میں جبکہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اپنے وفد کے ہمراہ ٹرکش ایئرلائن کی کمرشل فلائٹ پر امریکہ گئے ہیں۔ قرضے انج ای نئیں چڑھدے‘ بڑی محنت کرنی پیندی اے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...