"KMK" (space) message & send to 7575

یہاں ہو کیا رہا ہے ؟

اس مسافر پر خدا کا خاص کرم ہے کہ اسے کافی عرصہ ہوا کسی سے چھٹی لینے کی حاجت نہیں رہی۔ میرے مالک نے مجھے کسی افسر کے آگے چھٹی کی درخواست پیش کرنے سے آزاد کرتے ہوئے ایسی کسی درخواست سے پکی رخصت عطا کی ہوئی ہے۔ جب دل کرتا ہے‘ بیگ اٹھاتا ہوں اور چل پڑتا ہوں۔ تاہم ایمانداری کی بات ہے کہ اگر میں کسی کو چھٹی کی درخواست دیتا اور وہ اس درخواست کی منظوری کے ساتھ کوئی توہین آمیز شرط‘ جو بیشک کسی مفروضے کے تحت ہی عائد کی گئی ہوتی‘ تو میں بہرحال ایسی چھٹی کی درخواست کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے بعد یا تو اگلی صبح دفتر جا کر اپنی نشست سنبھالتا اور نوکری کرتا یا اگر چھٹی ہر حالت میں چاہیے تھی تو پھر استعفیٰ دے کر جان چھڑواتا اور مزے کرتا۔
جس درخواست کا میں ذکر کر رہا ہوں‘ یہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال کی ایک ماہ کی چھٹی کی درخواست تھی‘ جسے گورنر پنجاب نے‘ جو کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں‘ نوٹیفکیشن نمبر SO (UNIVE) 6-2/2024 مورخہ 19 اگست 2026ء میں ڈاکٹر زبیر اقبال کی 24 اگست تا 25 ستمبر 2026ء تک‘ 31روز کی چھٹی منظور کرتے ہوئے انہیں بیرونِ ملک جانے کے سلسلے میں این او سی یعنی عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ (وائس چانسلر) اس چھٹی کی منظوری اور اس این او سی کو اپنے امریکہ کے دورے میں اسائلم کے مقصد کیلئے استعمال نہیں کریں گے۔ رئیسِ جامعہ نے یہ چھٹی امریکہ جانے کیلئے لی تھی اور امریکہ جانے کیلئے ان کی اس چھٹی کی درخواست کی منظوری میں گورنر پنجاب نے یہ شرط لگائی۔ اب یہ کوئی وضاحت تھی یا پابندی تھی‘ اس کا تو مجھے علم نہیں تاہم اس منظوری کے نوٹیفکیشن میں ان کی چھٹیوں کا 31 روزہ دورانیہ منظور کرتے ہوئے نوٹیفکیشن میں یہ لکھا کہ ڈاکٹر زبیر اقبال اپنی اس چھٹی کو امریکہ میں قیام کے دوران سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے استعمال نہیں کریں گے۔ اب مجھے نہیں پتا کہ یہ حفظِ ماتقدم کے طور پر لکھا گیا ہے‘ یا کسی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے یا وائس چانسلر کی طرف سے اس قسم کا کوئی ممکنہ قدم متوقع تھا‘ ان پر کوئی شک تھا یا تمام سرکاری افسروں اور عہدیداروں پر گورنمنٹ کا اعتبار اس حد تک ختم ہو گیا ہے کہ وہ رئیس الجامعہ کے اعلیٰ منصب پر فائز شخص ‘ جو ہزاروں طلبہ و طالبات پر مشتمل تعلیمی ادارے کا سربراہ ہے‘ اس کی چھٹی کی منظوری کے نوٹیفکیشن میں یہ شرط نما شق بھی تحریر کر رہے ہیں۔بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے رئیسِ جامعہ گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے امریکہ میں ہیں اور یونیورسٹی کے تمام تر انتظامی معاملات اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین دیکھ رہے ہیں۔ اندازہ لگائیں‘ بیس ہزار سے زائد طلبہ کے ملتان میں واقع اس ادارے کے انتظامی معاملات اڑھائی سو کلو میٹر دور اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر آفس سے اس طرح چلائے جا رہے ہیں جیسے ہم اپنے بیڈ روم میں لگے ہوئے ٹی وی کو سامنے بیٹھ کر ریموٹ کنٹرول سے چلاتے ہیں۔
اس قلمکار کی یاد کے روزن میں ایسی کوئی مثال یاد نہیں کہ پچاس سال پرانی یونیورسٹی میں کوئی پرو وائس چانسلر نہ ہو‘ جو مستقل وائس چانسلر کی وقتی غیر موجودگی کی صورت میں عارضی طور پر وائس چانسلر کے انتظامی فرائض سرانجام دے سکے۔ سرکار کی سرگرمیوں کا یہ عالم ہے کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر کی تقرری کیلئے سمری گورنر پنجاب کو کافی عرصہ پہلے بھجوائی جا چکی ہے۔ اللہ جانے وہ سمری اس وقت بیوروکریسی کی کس غلام گردش میں ٹکریں مار رہی ہے‘ لیکن حالت یہ ہے کہ اس سمری پر پیش رفت کے بجائے اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جامعہ زکریا کے وائس چانسلر کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری حکومتوں کو ایسے کاموں کا نہ تو خیال آتا ہے اور نہ ہی یہ کام ان کی ترجیحات میں ہی شامل ہیں۔
مجھے زکریا یونیورسٹی اور اس کے معاملات سے صرف دلچسپی ہی نہیں‘ میں اس بارے میں باقاعدہ متردد اور فکر مند رہتا ہوں اور اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ میرا مادرِ علمی ہے۔ دوسری یہ کہ میری اور اس شہر کی آئندہ نسلوں نے بھی اسی تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اور تیسری وجہ یہ کہ یہ ہمارے ٹیکس سے چلنے والا ادارہ ہے اور خاموشی سے برباد ہوتا نہیں دیکھا جا سکتا۔ زکریا یونیورسٹی کا قیام 1975ء میں عمل میں آیا‘ تب میری دیرینہ مادرِ علمی‘ گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی میں اس کا کیمپس قائم ہوا‘ تاہم نئے داخلوں کے بجائے ایمرسن کالج میں ایم اے کی پہلے سے جاری تین مضامین کی کلاسیں اردو‘ اکنامکس اور پولیٹکل سائنس کو کالج سے جدا کر کے یونیورسٹی کے حوالے کر دیا‘ تب اس کا نام ملتان یونیورسٹی تھا۔ بعد ازاں اس کا نام ملتان یونیورسٹی سے تبدیل کر کے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ 1979ء میں جب میں جامعہ زکریا میں داخل ہوا تب طلبہ کی تعداد آٹھ سو سے ایک ہزار کے درمیان تھی۔ 2022ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علموں کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی‘ جو اَب گزشتہ چار سال میں گھٹتے گھٹتے بیس ہزار رہ گئی ہے۔ 2022ء میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد دس ہزار تھی‘ اس سال نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد پانچ ہزار سے کچھ زائد ہے۔ یعنی یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد روبہ انحطاط ہے۔ اس یونیورسٹی نے ڈاکٹر خیرات محمد ابنِ رسا اور نذیر رومانی جیسے شاندار استاد اور منتظم رئیس جامعہ دیکھے ہیں۔
کسی بھی یونیورسٹی کے تین بنیادی عوامل اس کی قدر پیمائی کے مظہر ہوتے ہیں۔ ایک اس کی تعلیمی حیثیت‘ دوسری اس کی انتظامی حالت اور تیسری اس کی مالی صورتحال۔ اس یونیورسٹی کے پہلے تمام وائس چانسلرز شعبۂ تدریس سے تعلق رکھتے تھے اور ان سے انتظامی و مالی معاملات میں کسی بہت بڑی بہتری کی توقع شاید مناسب نہ ہو‘ تاہم آخری والے دو تین وائس چانسلرز کو چھوڑ کر پہلے والے سبھی وائس چانسلرز نہ صرف یہ کہ تدریسی حساب سے نہایت ہی شاندار کارکردگی کے مالک ثابت ہوئے بلکہ انتظامی معاملات میں بھی مثالی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ موجودہ وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی کی51سالہ تاریخ کے پہلے غیرتدریسی تجربے کے حامل رئیسِ جامعہ ہیں۔ میرا خیال تھا کہ یہ منصب تدریسی سے زیادہ انتظامی صلاحیتوں کا متقاضی ہے اس لیے ممکن ہے کہ یہ انتخاب بہتر ثابت ہو مگر میرے تمام تر خیالات اور اندازے مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے۔ موصوف کا خیال تھا کہ وہ اس یونیورسٹی کیلئے فنڈنگ حاصل کر کے خوب موج میلہ کریں گے مگر کہیں سے ٹکا نہیں ملا۔ اوپر سے یونیورسٹی کے اپنے مالی معاملات دگرگوں ہیں اور اس سال ساٹھ کروڑ خسارے کا بجٹ پیش ہوا ہے۔ روز افزوں بڑھتے ہوئے خسارے کی شکار اس جامعہ کے سربراہ نے اس مالی کسمپرسی کے عالم میں مبینہ طور پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی گاڑی خرید لی ہے۔ یونیورسٹی میں آتے ہوئے ان کی جو امیدیں تھیں وہ کسی طور بر نہیں آئیں‘ لہٰذا اب ان کا یہاں دل نہیں لگتا اور وہ ہفتے میں تین تین دن اسلام آباد اور لاہور میں گزارتے ہیں اور اس دوران رئیسِ جامعہ کے طور پر وہ کسی متعلقہ سرکاری دفتر کو ہاتھ لگا کر اپنے اس ذاتی دورے کو سرکاری دورہ بنا لیتے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ اس کالم کے بعد میرے اور ان کے خوشگوار تعلقات قطعاً خوشگوار نہیں رہیں گے مگر مجھے اپنی مادرِ علمی اور اس شہر کی اعلیٰ درسگاہ کے معاملات کی درستی اپنے ذاتی تعلقات سے کہیں زیادہ عزیز ہے۔ ویسے کیا عجب کہ وہ گورنر صاحب کے خدشات کے عین مطابق امریکہ سے واپس ہی نہ آئیں۔اس سارے گھڑمس میں ہمیں تو سمجھ نہیں آرہی کہ یہاں ہو کیا رہا ہے ؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...