سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیے کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدۂ مکہ ایک سربستہ راز ہے۔ اسکی تفصیلات وجزئیات اب تک دستیاب نہیں ہیں۔ صرف توقعات‘ خوش فہمیاں اور خوبصورت آرزوئیں ہیں۔ عَلانیہ طور پر ایران اور اسرائیل کو بھی اسکا ہدف نہیں بنایا گیا‘ بہرحال امت کیلئے یہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا ہے‘ بشرطیکہ یہ دیرپا اور مثبت نتائج کا حامل ہو۔ کئی دیگر مسلم ممالک نے اسکے بارے میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے‘ لیکن منفی ردعمل کسی کا نہیں آیا‘ صرف ایران سے مثبت اور منفی دونوں طرح کا ردِعمل آیا ہے۔
ابتدا میں امریکہ کا اسکے بارے میں مثبت ردعمل اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امریکہ کیخلاف نہیں ہے۔ حالیہ حوثی حملوں کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا مگر امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کی ہامی نہیں بھری اور کہا: حوثیوں کا ہم سے رابطہ ہے اور سعودی عرب کے سوا باب المندب بحری گزرگاہ سب کیلئے کھلی رہے گی۔ دراصل خلیجی ممالک اپنے دفاع کیلئے کلی طور پر امریکہ پر انحصار کیے ہوئے تھے مگر حالیہ جنگ میں ان ممالک پر ایرانی حملوں نے امریکہ پر اُنکے اعتماد کو متزلزل کر دیا اور اب انہیں یقین ہو گیا ہے کہ امریکہ اُن کا دفاع نہیں کر سکتا۔
چونکہ اس کا تعلق دفاع سے ہے کہ معاہدین میں سے ایک پر حملہ دوسروں پر حملہ متصور ہوگا اور مشترکہ دفاع لازمی ہوگا‘ اس کا اولین امتحان تو آبنائے باب المندب میں حوثیوں کی تجارتی جہازوں اور مبیّنہ طور پر سعودی اہداف پر حملے کی صورت میں سامنے آیا‘ مگر کوئی مشترکہ اقدام تاحال سامنے نہیں آیا۔ اسرائیل اور ترکیے کے درمیان بھی معاندانہ بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ امریکہ کی طرف سے شام کو ریاستی دہشت گردی کے سرپرست ملکوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے‘ نیز امریکہ نے شامی کردوں کی مالی مدد بھی روکنے کا اعلان کیا ہے؛ الغرض نئی صف بندیوں کا امکان ہے۔ اس وقت ایران امریکہ کے خلاف غیر معمولی مزاحمت کے سبب اپنے آپ کو علاقے کی بالادست فوجی قوت ثابت کر چکا ہے اور خلیجی ریاستیں اس کیساتھ ''جیو اور جینے دو‘‘ کی تدابیر تلاش کر رہی ہیں۔ بعض جزیروں پر ایران اور متحدہ عرب امارات کی ملکیت کے متضاد دعوے ہیں۔ کہا جاتا ہے: متحدہ عرب امارات نے وقتی طور پر ''جان کی امان‘‘ پانے کیلئے ایران کو پسِ پردہ کچھ مالی تاوان بھی ادا کیا ہے‘ نیز متحدہ عرب امارات اوپیک سے بھی نکل چکا ہے اور وہ سعودی بالادستی سے نکل کر اسرائیل‘ امریکہ کی سرپرستی میں جانے کا فیصلہ کر چکا ہے‘ لیکن امریکہ نے ایران کیخلاف دفاع میں ناکامی پر اپنے خلیجی اتحادیوں کو مایوس کیا ہے اور اسی کا ایک نتیجہ ''مشترکہ دفاعی معاہدۂ مکہ‘‘ ہے۔ ایران کی میزبانی میں عمان میں خلیجی ممالک کا جو اجلاس طلب کیا گیا تھا‘ سعودی عرب نے اسے منعقد نہیں ہونے دیا‘ نیز اب وہ مصر اور دوسرے ممالک سے بھی رابطہ قائم کر رہا ہے اور باب المندب بند ہونے سے یورپی ممالک سے بھی ایک ردِعمل آ سکتا ہے۔
اگر اس معاہدے کو دیرپا شکل دینا ہے تو خلیجی ممالک کو چاہیے کہ پاکستان کو وسیع تر وسائل دیں‘ کم از کم اسکے بیرونی قرضوں کی یکمشت ادائیگی کا اہتمام کریں اور اتنے وسائل دیں کہ پاکستان چار پانچ ڈویژن اضافی فوج تیار کرکے اسے خطے کے موسم‘ زمینی حالات اور ماحول کے مطابق تربیت دے اور حسبِ ضرورت انہیں وہاں منتقل کرے۔ جدید ترین اسلحہ تیار کرنے کیلئے پاکستان اور ترکیے کو مالی وسائل دیں تاکہ وہ جدید دور کے مطابق اسلحہ تیار کریں۔ معاہدے میں شریک ممالک اپنی افواج کو بھی جدید فضائی اور بحری جہازوں اور اسلحے سے لیس کریں تاکہ وہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں‘ نیز بڑی تعداد میں ''دافع میزائل‘‘ نظام تیار کریں‘ کیونکہ حالیہ جنگوں نے جنگ کے پورے میکانزم اور حکمتِ عملی کو تبدیل کر دیا ہے۔ اے آئی سے مربوط سائبر نظام اور میزائلوں نے مرکزی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے کہ دافعِ میزائل نظام فضا میں رخ بدلتے میزائلوں کا بھی صحیح تعاقب کرکے نشانہ بنا سکے‘ نیز جدید ترین سیٹیلائٹس کی مدد سے مربوط دفاعی اور اقدامی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ اس کیلئے ماہرین اور پالیسی سازوں پر مشتمل ایک مربوط سیکرٹریٹ ضروری ہے‘ امریکہ و اسرائیل کے مقابل چین کی مدد سے جدید ترین ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت ہو گی۔
31 اگست کو استنبول میں ''معاہدۂ مکہ‘‘ کے تحت قائم سٹرٹیجک سیاسی ودفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا‘ اس میں پاکستان‘ ترکیے اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ‘ وزرائے دفاع اور مسلّح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔ پاکستان کی طرف سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات یہ ہیں: ''تینوں ممالک نے مکہ معاہدے کے دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ باہمی تعاون کے اس سلسلے کو ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق ہوا تاکہ اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط ہو۔ اس ادارے کا سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا‘ اسکے پہلے تین سالہ دورانیے کی سربراہی پاکستان کو تفویض ہوئی‘ اسکے مقاصد میں دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے‘ مشترکہ دفاعی صنعت کے قیام‘ ٹیکنالوجی کی ترقی اور افواج کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے‘ نیز کشیدگی کم کرنے اور پُرامن حل کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا‘‘۔
سرِ دست یہ معاہدہ امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال کا نتیجہ ہے‘ کیونکہ اس سے پہلے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اپنے دفاع کیلئے کلی طور پر امریکہ پر انحصار کیے ہوئے تھے۔ بلکہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں کہا تھا کہ ہمارے بغیر سعودیہ ایک ہفتہ بھی نہیں ٹھہر سکتا اور دوسرے دور میں اس نے سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کو امریکہ میں ایک ایک ہزار ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کا حکم جاری کیا تھا‘ مگر امریکہ ایران جنگ نے یہ ساراخواب چکنا چور کر دیا۔ اب یہ ممالک ناگزیر طور پر متبادلات تلاش کر رہے ہیں اور معاہدۂ مکہ اسکی ایک ممکنہ صورت ہے۔ اس جنگ نے عالمی سطح پر بہت سی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے‘ نیٹو کافی حد تک کمزور ہوچکا ہے‘ اقوامِ متحدہ کا ادارہ بے اثر ہو چکا ہے‘ روس یوکرین جنگ اورخلیجی جنگ میں یہ ادارہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکا ۔ امریکہ آئے دن یکطرفہ تجارتی پابندیاں لگا دیتا ہے‘ وینزویلا پر جس طرح چڑھائی کر کے اسکے صدرکو اہلیہ سمیت گرفتار کر کے امریکہ لاکر قید کردیا اور ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے‘ یہ جنگل کا قانون نہیں تو اور کیا ہے۔ الغرض امریکی صدر ٹرمپ کی متلوّن مزاجی نے نہ صرف امریکہ کو غیر معمولی حد تک ناقابلِ اعتبار بنا دیا ہے‘ بلکہ عالمی توازن بھی درہم برہم کر دیا ہے۔ اب جبکہ چین اور روس نے ایران پر تازہ ترین امریکی تجارتی پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اس سے امریکہ کا رہا سہا دبدبہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ اگر ''اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر فریقین لفظاً و معنیً عمل کر دیتے تو پورے خطے اور دنیا کیلئے سلامتی کا سبب بنتا‘ لیکن فریقین نے اس کی خلاف ورزی کی اور پورا خطہ اب تک بے یقینی کے عذاب میں مبتلا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا جنتِ ارضی سنسان ہو رہا ہے‘ عالمی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروفِ عمل ہیں اور وہ عالمی سطح پر کوئی بڑا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لہٰذا معاہدۂ مکہ کے بنیادی فریقوں‘ خلیجی ممالک اور امتِ مسلمہ کا دیرپا مفاد اسی میں ہے کہ امریکہ اور اہلِ مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے تحفظ کا خود انتظام کریں اور اپنے اتحاد کو دفاعی اور اقدامی قوت میں تبدیل کریں۔ متحدہ عرب امارات کو بھی اپنی پالیسی اور ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے‘ کیونکہ اُن کا فطری اتحاد مسلم ممالک کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے اور حالیہ امریکہ ایران جنگ نے یہ ثابت بھی کر دیا ہے کہ وقت آنے پر امریکہ ہو یا بھارت‘ سب اپنے اپنے مفاد کو ترجیح دیں گے اور اپنے اتحادیوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments