"MMC" (space) message & send to 7575

NIEF کا قیام اور کارکردگی …(1)

سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ پاکستان کا ایک ممتاز رفاہی‘ فلاحی اور تعلیمی ادارہ ہے‘ مولانا بشیر فاروق قادری اس کے بانی چیئرمین ہیں۔ ''سیلانی سکول آف بزنس اینڈ اسلامک لیڈر شپ (SBIL)‘‘ اس کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس کے تحت دارالعلوم میمن کے اشتراک کے ساتھ تین سال قبل نیشنل اسلامک اکنامک فورم(NIEF) کا قیام عمل میں آیا اور بلاسود بینکاری کے فروغ کیلئے سالانہ کانفرنسوں کا انعقاد شروع ہوا۔ 5 اگست 2026ء کو ایک مقامی ہوٹل میں تیسری سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب جمیل احمد اور ڈپٹی گورنرجناب سلیم اللہ کے علاوہ صنعت وتجارت کی ممتاز شخصیات شہزاد پٹیل ‘ حمزہ تابانی‘ حسن بخشی ‘ عامر غازیانی ‘ اسامہ قریشی‘ فرحان حنیف ‘ عامر پراچہ اور بعض اسلامی بینکوں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یونی لیور کے عامر پراچہ نے کہا: میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری سے کہوں گاکہ جہاں آپ اور اچھے کام کر رہے ہیں‘ ایک کام یہ بھی کریں: ''اس ملک میں سب سے اہم کام عدالتی اصلاحات پر کام کرنا ہے‘ اگر تین مہینے میں فیصلے ہونے لگیں تو اسّی فیصد برائیاں ختم ہو جائیں گی۔ آج اگر کسی کو اپنی زمین یا مکان خالی کرانا ہے‘ کوئی کسی کے پیسے کھا جاتا ہے‘ ٹیکس کے مقدمات ہیں‘ زمینوں کے مقدمات ہیں‘ لگ بھگ آٹھ کھرب روپے عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں‘ تاریخ پر تاریخ لگتی ہے اور فیصلہ نہیں آتا۔ یہ پیسہ مارکیٹ میں آئے گا تو کاروبار میں لگے گا‘ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے‘ معاشی سرگرمیاں شروع ہوں گی‘ جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا اور حکومت کو ٹیکس ملے گا‘ ورنہ خالی بھاشن دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بعض اوقات ماتحت عدالتوں سے سپریم کورٹ تک مقدمات کے فیصلوں میں چالیس چالیس سال لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا چیف جسٹس آف پاکستان‘ چیف جسٹس آئینی عدالت‘ چاروں ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس صاحبا ن اورتمام ہائیکورٹ بارز کے صدور‘ وزیراعظم اور وزیر قانون کو بلائیں اور عدالتی اصلاحات پر بات کریں‘ انہیں کہیں کہ اس طرح پاکستان نہیں چلے گا‘ خود پاکستانی پیسہ لگانے سے ڈرتے ہیں‘ باہر سے کوئی سرمایہ کار کیسے آکر سرمایہ کاری کرے گا‘‘۔
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا: ''حالیہ برسوں میں بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ہم نے فنڈز ٹرانسفر کو آسان بنایا ہے۔ باہر سے زرِ مبادلہ کمانے والوں کو یہ سہولت بھی دی ہے کہ وہ اُس کا پچاس فیصد فارن کرنسی اکائونٹ میں رکھ سکتے ہیں اور اپنے اخراجات پورا کرنے کیلئے ٹرانسفر بھی کر سکتے ہیں اور اس کیلئے سٹیٹ بینک کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے‘ حتیٰ کہ بعض بینک فارن کرنسی کے حامل کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ بھی جاری کر رہے ہیں‘ جن کے ذریعے براہِ راست فارن کرنسی میں بیرونِ ملک ادائیگی ہو سکتی ہے۔ سٹیٹ بینک نے سٹیئرنگ کمیٹی بنائی ہے جو اسلامی بینکنگ پر کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کیلئے سفارشات پیش کرتی ہے۔ روایتی سودی بینکاری سے متعلق جو قوانین اسلامی بینکاری سے متصادم ہیں‘ اُن کی نشاندہی کر کے حل کے بارے میں سوچا جاتا ہے اور ہم اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو اسلامی بینکاری کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے AAOIFI یعنی بحرین میں قائم اسلامی مالیاتی اداروں کی آڈٹنگ اینڈ اکائونٹنگ تنظیم کے معیارات کو کافی حد تک اپنا لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 16 اپریل 2026ء کو ہائبرڈ صکوک کا اجرا بھی کر دیا گیا ہے اور اب تک حکومت نے ان کے ذریعے 1800 ارب روپے حاصل کیے ہیں‘‘۔ نوٹ: ہائبرڈ صکوک (Hybrid Sukuk) سے مراد ایسے صکوک‘ سیکورٹی سر ٹیفکیٹس یا بانڈز ہیں جن میں فنڈز اکٹھا کرنے کیلئے بیک وقت دو یا دو سے زیادہ مختلف اسلامی مالیاتی معاہدوں (مثلاً اجارہ‘ مضاربہ‘ مشارکہ یا مرابحہ) کو ایک ہی سرمایہ کاری میں یکجا کیا جاتا ہے۔ اس میں روایتی صکوک کی طرح صرف ایک طریقہ کار کے بجائے مختلف اسلامی کاروباری معاہدات کے امتزاج سے سرمایہ کاری کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ حکومت یا ادارے اپنے بڑے اثاثے (جیسے سڑکیں یا عمارتیں) اس میں استعمال کرتے ہیں تاکہ فنڈز کی فراہمی کو زیادہ مؤثر اور لچکدار بنایا جا سکے۔ سٹیٹ بینک نے ایس ای سی پی اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ساتھ مل کر مختصر المیعاد صکوک کا بھی اجرا کیا ہے اور اس کے ذریعے حکومت نے 239 ارب روپے حاصل کیے ہیں۔ اس طرح اسلامی بینکوں کو سود پر مبنی ٹریژری بلز کا ایک متبادل نظام بھی فراہم کردیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کی تحویل میں جو غیر جاری اور جامد اثاثہ جات ہیں‘ ان کا مرکزی ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے Asset Registry Company قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وفاقی حکومت اور اس کے مختلف اداروں کے غیر جاری اور قابلِ اجارہ منجمد اثاثہ جات کو ایک بڑے پول کی شکل دی جائے گی اور اس کے ذریعے حکومت اپنی مالیاتی ضرورتوں کیلئے شریعہ کے مطابق مالی وسائل حاصل کر سکے گی۔ انہوں نے کہا: ''ہمیں بینکاروں‘ شریعہ ماہرین اورسرمایہ کاروں الغرض سب وابستگان کی اسلامی مالیاتی نظام کی استعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے‘‘۔
ڈپٹی گورنر جناب سلیم اللہ نے مولانا بشیر فاروق قادری کی قیادت میں سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کی خدمات کی تحسین کی اور کہاہم ان کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں اور میرے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ میں اس کا حصہ ہوں۔ اسلامی بینکاری کی بابت انہوں نے کہا: ''اسلامی مالیاتی نظام کا مقصد صرف یہ نہیں کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں‘ اس لیے ہمیں اس کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں دنیا پر بھی یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا عطا کردہ اقتصادی نظام ہی حقیقت میں بالاتر نظام ہے اور انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ یہ بینکاری نظام سے وابستہ تمام طبقات کیلئے یکساں طور پر فیض رساں ہے۔ ان میں بنکوں کے کھاتہ دار‘ بینکوں سے سرمایہ کاری کیلئے مالی وسائل حاصل کرنیوالے سرمایہ کار‘ صنعتکار‘ بینکوں کے شراکت دار‘ تاجر طبقہ اور حکومت سب شامل ہیں‘ اسلامی مالیاتی نظام کی خوبصورتی تمام طبقات کی فلاح میں ہے‘‘۔ (یہ بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس پر پورا اترنا سٹیٹ بنک آف پاکستان اور پورے بینکاری نظام‘ حکومت پاکستان اور دین سے محبت کا دعویٰ کرنے والے صنعتکاروں‘ تاجروں اور تمام کاروباری حضرات کیلئے ایک بڑا امتحان ہے‘ الغرض یہ ایک اجتماعی ملّی وقومی مشن کا تقاضا کر رہا ہے)۔ انہوں نے کہا: ''پاکستانی بینکاری نظام کے مالیاتی اثاثوں میں اسلامی بینکاری کا حصہ29 فیصد‘ نجی کاروباری اداروں کو دی جانیوالی مالیاتی سہولتوں میں 40 فیصد اور مجموعی بینکاری نظام میں شاخوں کی تعداد تقریباً 44 فیصد ہو چکی ہے۔ (نوٹ: یہ اُنکا بتایا ہوا تخمینہ ہے‘ حقیقی اعداد وشمار اوپر نیچے ہو سکتے ہیں)۔ ہمیں امید ہے کہ اگر اسی رفتار سے پیش قدمی جاری رہی تو یکم جنوری 2028ء تک ملک کے بینکاری اور مالیاتی نظام کا بڑا حصہ شریعہ کے مطابق ہو چکا ہو گا۔ حکومتِ پاکستان نے 2027ء تک کے عرصے کیلئے ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور خاکہ (Blue Print) منظور کر لیا ہے اور اس میں حکومت نے واضح کردیا ہے کہ یکم جنوری 2028ء سے بینکوں کے تمام مالی معاملات شریعہ کے مطابق ہوں گے۔ اس وقت سودی نظام پر مبنی جو عقود (Contracts) ومعاہدات جاری ہیں‘ اُن کی مدت ختم ہونے پر ان کی سود پر مبنی تجدید نہیں کی جا سکے گی بلکہ شریعہ کے مطابق نئے عقود اور معاہدات کرنے لازمی ہوں گے‘ البتہ تکمیلِ مدت تک موجودہ معاہدات کی پابندی لازمی ہو گی۔ آئندہ بیرونی مالیاتی سہولتیں حاصل کرنے کیلئے جہاں تک ممکن ہوگا شریعہ کے مطابق کرنے کی کوشش کی جائے گی‘ چونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مختلف تحدیدات ہوتی ہیں‘ اسلئے اس معاملے میں عملی امکانات کو پیشِ نظر رکھا جائے گا لیکن ہماری ترجیح اسلامی مالیاتی نظام ہی رہے گی‘‘۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...