"MMC" (space) message & send to 7575

معاہدۂ مکہ

اس معاہدے کی بابت پاکستانی وزارتِ خارجہ اور سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے اس کا متن درج ذیل ہے: ''خادمِ حرمینِ شریفین‘ سعودی وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلِ سعود کی مشفقانہ دعوت پر جمہوریۂ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ''قصر الصفا‘‘ مکۃ المکرمہ میں دونوں سربراہانِ حکومت کا پُرجوش استقبال کیا‘ پھر اُسی مقام پر مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے دوران مملکتِ سعودی عرب‘ جمہوریۂ ترکیے اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے درمیان خصوصی تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور تینوں ممالک کے درمیان طویل تاریخی تعلقات کی روشنی میں باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ یہ تعلقات باہمی اُخوت‘ یکجہتی‘ طویل تزویراتی حکمتِ عملی اور دفاعی تعاون میں شراکت داری پر مبنی ہیں جو تینوں ممالک کو متحد رکھنے کی بنیاد ہیں۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد‘ صدر جمہوریۂ ترکیے اور وزیراعظم پاکستان نے مشترکہ دفاعی ''معاہدۂ مکہ‘‘ پر دستخط کیے۔
یہ دفاعی معاہدہ تینوں ریاستوں کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دیں گی اور خطے کے اندر اور اس سے باہر خوشحال مستقبل کیلئے امن‘ سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں گی۔ یہ معاہدہ اس عزم کا مظہر ہے کہ کسی بھی جارحیت کیخلاف مشترکہ دفاع کو تقویت دیں گے۔ یہ معاہدہ اس امر کا پابند بناتا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ریاست پر کوئی بھی مسلح حملہ تینوں پر حملہ متصور ہو گا۔ یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوئوں پر محیط ہے‘ اس میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ خطے کے اُن دیگر ممالک کیلئے بھی اس معاہدے میں شرکت کا راستہ کھلا ہے جو اسکے اصولوں سے متفق ہوں۔ یہ معاہدہ ایران سمیت کسی ملک کیخلاف جارحیت کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ خالص دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے۔ یہ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5/6 اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51کے تحت انفرادی اور اجتماعی حقِ دفاع کے مقاصد کیساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس معاہدے کی بابت نہایت وضاحت سے کہا گیا ہے کہ اس کا جوہری صلاحیت کے حصول کی دوڑ سے کوئی تعلق ہے اور نہ یہ فرقہ وارانہ بنیاد پر ہے‘ سو ایران بھی چاہے تو اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر اعلیٰ سعودی حکام کے علاوہ ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے‘‘۔
یہ معاہدہ مسلمانوں کی امنگوں کا آئینہ دار ہے‘ اس لیے اس کا جشن منانا اور اس پر فرحت وانبساط کا اظہار فطری امر ہے۔ ماضی میں ہمارا ایسا ہی پُرجوش ردعمل ''علاقائی تعاون برائے ترقی (RCD)‘‘ کے بارے میں تھا‘ جسے ہم نے ''معاہدۂ استنبول‘‘ کا نام دیا تھا اور یہ شاہِ ایران کے زمانے میں پاکستان‘ ترکی اور ایران کے درمیان تھا‘ مگر اس کے کوئی دیرپا مثبت نتائج برآمد نہ ہو سکے‘ بلکہ محض ایک علامتی معاہدہ ہی رہا ہے جو انقلابِ ایران کے بعد ختم ہو گیا‘ کیونکہ اس کا صدر دفتر تہران میں تھا۔
الغرض اس معاہدے کا پورا عملی طریقۂ کار‘ تفصیلات اور حدود وقیود تاحال معلوم نہیں ہیں۔ سرسری طور پر جو باتیں سامنے آئی ہیں اُن میں مشترکہ دفاعی صنعت کے منصوبے‘ مشترکہ فوجی مشقیں‘ تربیتی پروگرام‘ نیز دہشتگردی کے خطرات کا سدِّباب شامل ہے۔ خدانخواستہ اگر کسی ملک پر کوئی جارح قوت حملہ کرتی ہے تو آیا عملی طور پر تینوں ممالک کی برّی‘ بحری اور فضائی فوجیں مل کر جارحیت کے شکار ملک کے دفاع میں حصہ لیں گی‘ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تمام تر جزئیات سمیت تفصیلات طے کر لی گئی ہوں‘ لیکن کسی حکمت کے تحت انہیں ابھی تک مستور رکھا گیا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ مختلف ورکنگ گروپ بنائے جائیں اور دفاعی وسفارتی ماہرین علاقائی اور عالمی حساسیت کو پیشِ نظر رکھ کراس کی تفصیلات طے کریں تاکہ یہ محض ایک کاغذی دستاویز بن کر نہ رہ جائے بلکہ اسکی کوئی عملی شکل بھی سامنے آئے۔اس ''معاہدۂ مکہ‘‘ کے بارے میں ابھی تک امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ یورپی یونین اور ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا؛ البتہ بعض ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض سابق امریکی سفارتکاروں نے ذاتی تبصرے میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کے خلیجی ممالک کے دفاع میں ناکامی اور ناقابلِ اعتماد ہونے کی دلیل ہے اور یہ کافی حد تک درست ہے۔ علامہ اقبال کی زبان میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں:
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؍ گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
بہت ممکن ہے کہ آگے چل کر قطر‘ کویت اور بحرین بھی اس میں شامل ہو جائیں‘ البتہ متحدہ عرب امارات کی پوزیشن ابھی واضح نہیں ہے‘ ترکیہ نے کہا ہے: ''مصر بھی چاہے تو اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے‘‘۔ ابتدا میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے اسے کاغذی معاہدہ قرار دیا اور کہا: '' یہ معاہدہ سعودیہ کے تحفظ کی ضمانت نہیں بنے گا بلکہ یہ خلیجی ممالک کے امریکہ پر انحصار کی طرح ہوگا‘‘۔ انہوں نے مشورہ دیا: ''اپنی پالیسیاں درست کریں تاکہ اپنی سلامتی کیلئے دوسروں پر انحصار نہ کرنا پڑے‘‘۔ البتہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس منفی تاثر کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایکس پر لکھا: ''مسلمان متحد ہو کر بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘ انہوں نے خود انحصاری اور حقیقی بھائی چارے پر زور دیا اور ایرانی فوج کی صلاحیتوں کا ذکر کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے سرکاری طور پر کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ اس کی مخالفت کی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کو اس معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا اور انہوں نے اس پر شکریہ ادا کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی حکام انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے موقع پر مسلمانوں کے عمومی اتحاد کی بات تو کی ہے‘ لیکن معاہدۂ مکہ کے بارے میں خاص تبصرہ نہیں کیا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے انادولو نیوز ایجنسی کو جو بیان دیا‘ اس کے اہم نکات یہ ہیں: ''یہ معاہدہ تکنیکی طور پر معاہدۂ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے کہ ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا‘ یہ کسی ملک کے خلاف ہے اور نہ اس میں کسی مشترکہ دشمن کو نامزد کیا گیا ہے۔ پس جو ملک ہم پر حملہ نہیں کرتا‘ وہ ہمارا ہدف نہیں ہے‘ انہوں نے مزید صراحت سے کہا: ایران اس معاہدے کا ہدف نہیں ہے۔ یہ معاہدہ جارحانہ یا توسیع پسندانہ نہیں ہے‘ جب تک کوئی ہم پر حملہ نہ کرے‘ یہ اتحاد کسی دوسرے ملک سے تنازع نہیں کرے گا۔ وزرائے خارجہ‘ وزرائے دفاع اور فوجی سربراہوں پر مشتمل سیاسی ودفاعی کمیٹیاں قائم ہوں گی‘ مستقل سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا‘ مشترکہ دفاعی اور تربیتی مشقیں ہوں گی‘ انٹیلی جنس شیئرنگ اور لاجسٹک تعاون ہو گا۔ صدر طیب اردوان کا وژن یہ ہے کہ یہ معاہدہ تین ممالک تک محدود نہ رہے‘ مصر سمیت دیگر ممالک بھی اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ خاقان فیدان نے معاہدۂ مکہ کو خطے میں پائیدار استحکام اور علاقائی سا لمیت کی طرف ایک اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا: جب کوئی متاثرہ ملک درخواست کرے گا تو مشاورت سے انٹیلی جنس‘ لاجسٹک‘ اسلحہ یا فوجی دستوں کی بابت فیصلہ ہوگا۔ ہم 1952ء سے نیٹو کے رکن ہیں اور اسکے اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں‘ صرف دو بار آرٹیکل 5 کے تحت نیٹو نے مشترکہ کارروائی کی: ایک نائن الیون کے بعد افغانستان میں اور دوسری 1999ء میں کوسووو میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت انسان دوستی کی بنیاد پر کی۔ نیٹو کے آرٹیکل 5/6 میں حدود (یورپ‘ شمالی امریکہ اور ترکیہ) متعین ہیں اور دفاعی اشتراک رضاکارانہ ہے‘ لیکن معاہدۂ مکہ اس بارے میں خاموش ہے۔ اللہ کرے یہ معاہدہ امتِ مسلمہ کیلئے وسیع تردفاعی‘ سیاسی اور معاشی اتحاد واشتراک کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...