"MMC" (space) message & send to 7575

شیخ عبدالقادر جیلانی نَوَّرَاللّٰہ مرقدہٗ … (1)

قطبِ ربانی‘ محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی عالمِ باعمل‘ شریعتِ مطہرہ کے سچے متبع اور ولیِ کامل تھے۔ آپ کی ولایت اور بلند ترین علمی مقام پر اُمت کا اجماع واتفاق ہے۔ آپ کا اسمِ گرامی عبدالقادر‘ کنیت ابو محمد اور القاب محی الدین و شیخ الاسلام ہیں۔ فقہی اعتبار سے آپ حنبلی تھے اور عقائد میں آپ اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ کے راستے پر گامزن تھے۔ آپ والدہ ماجدہ کی طرف سے حسینی اور والدِ ماجد کی طرف سے حسنی یعنی نجیب الطرفین سید ہیں۔ شرف نسب کے اعتبار سے آپ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی گیارہویں نسل سے ہیں۔ آپ کی ولادتِ باسعادت471 ہجری میں فارس میں بحیرۂ کیسپین کے قریب قصبۂ جیلان میں ہوئی اور اسی نسبت کی وجہ سے آپ کو جیلانی یا الجیلی کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں واعظین عوام کو اپنی ذات سے وابستہ رکھنے کیلئے ان کا ذکر کرامات سے شروع کرتے ہیں اور کرامات پر ختم کرتے ہیں‘ ان کی تعلیمات کا ذکر کم ہی ہوتا ہے‘ حالانکہ عوام کیلئے اُسوہ و قُدوہ اورنمونۂ عمل بزرگوں کی تعلیمات اور اُن کی عملی زندگی ہوتی ہے۔
سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علمائے ربّانییّن میں بلند مقام کے حامل ہیں اور آپ کی پوری حیاتِ مبارکہ اور اُن کے بصیرت افروز خطبات کا مرکزو محور معرفتِ الٰہی‘ توحیدِ خالص کا اثبات اور شرکِ جلی و خفی کا قَلع قَمع رہا ہے۔ آپ کے نزدیک ایک بندۂ مومن کا اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر کامل ایمان تبھی معتبر ہوتا ہے جب اس کے دل کا حقیقی اعتماد و توکل صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ پر قائم ہو۔ آپ نے انسانیت کو یہ فکری سبق دیا کہ دنیاوی اسباب اختیار کرنا شریعت کا تقاضا تو ہے مگر اسباب کے نتیجہ خیز اور ثمر آور ہونے کیلئے بھروسا اسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہیے۔ سچائی اور معرفت کی روح یہ ہے کہ انسان مخلوق کی محتاجی سے نکل کر خالقِ کائنات کی حقیقی نیازمندی کو اپنا شعار بنا لے۔ جب انسان اپنے قلب و باطن کو غیر اللہ کی تمنائوں‘ خوف اور امیدوں سے یکسر خالی کر لیتا ہے تو توحیدِ الٰہی‘ کامل توکل‘ پختہ یقین اور معرفتِ حق کی حقیقت اس کی روح میں ہمیشہ کیلئے راسخ ہو جاتی ہے۔ زوال اور پریشانیوں کے اس دور میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی فکر ہمیں اصلاحِ احوال اور حقیقتِ توحید کی روشنی فراہم کرتی ہے‘ اس سلسلے میں آپ کے خطبات ومواعظ سے چند اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں:
(1) شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب کتاب ''غُنْیَۃُ الطَّالِبِیْن‘‘ کے باب ''فِیْ مَعْرِفَۃِ الصَّانِع‘‘ میں عقیدۂ توحید کی بابت لکھا ہے: ''ایک مومن کیلئے اس بات پر پختہ یقین اور اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ ایک ہے‘ اکیلا ہے‘ بے نیاز ہے‘ نہ اس کی کوئی اولاد ہے‘ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے‘ اس جیسا کوئی نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ نہ اس کی کوئی شبیہ ہے‘ نہ کوئی نظیر‘ نہ کوئی مددگار ہے‘ نہ پشت پناہ‘ نہ کوئی شریک ہے‘ نہ کوئی وزیر‘ نہ کوئی مدِمقابل ہے اور نہ کوئی مشیر۔ وہ جسم نہیں ہے کہ اسے چھوا جا سکے‘ نہ وہ جوہر (مادّہ) ہے کہ اسے محسوس کیا جا سکے‘ نہ وہ کوئی عارض (صفتِ عارضی) ہے کہ مٹ جائے‘ وہ جسم اور جسمانیات کے تمام لوازم اور تقاضوں سے پاک ہے‘ وہ زمان ومکان کی تحدیدات سے ماورا ہے‘ الغرض وہ Timeless اور Spaceless ہے۔
وہی اللہ ہے جو آسمان کو بلند کرنے والا اور زمین کو بچھانے والا ہے۔ نجوم وقسمت اور مادّی مزاج سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ اس کیلئے کوئی اندھیرا ظاہر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا چمکتا ہوا نور ہے جو اسے محدود کر سکے۔ وہ اپنے علم کے اعتبار سے کائنات کے ہر ہر ذرّے پر محیط ہے اور چھوئے بغیر ان کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔ اُس کیلئے ابدی اور ہمیشہ کی سلطنت وباشاہت ہے‘ وہی سب پر غالب‘ حاکم‘ قادر‘ رحم کرنے والا‘ بخشنے والا‘ عیبوں کو چھپانے والا‘ عزت دینے والا اور مددگار ہے۔ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے۔ وہ اَلْحیّ (ہمیشہ زندہ رہنے والا) ہے کہ اس کیلئے فنا نہیں ہے‘ ایسا ازلی اور القیوّم ہے‘ جسے زوال نہیں‘ اسے نیند یا غفلت چھو بھی نہیں سکتی۔ ایسا غالب ہے جسے مغلوب نہیں کیا جا سکتا اور ایسا مضبوط و محفوظ ہے جس تک رسائی ممکن نہیں۔ اُس کی شان وشوکت ہمیشہ قائم رہنے والی ہے اور وہ تمام مخلوقات کے لیے ایک مقررہ وقت پر فنا کا فیصلہ فرما چکا ہے۔ فرمایا: ''زمین پر جو کوئی بھی ہے، فنا ہونے والا ہے اور صرف آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو بڑی عظمت اور کرم والا ہے‘‘ (الرحمن: 26 تا 27)۔
اللہ تعالیٰ اپنی بلندی کے شایانِ شان عرش پر مستوی ہے اور تمام کائنات اس کے احاطہ علم میں ہے۔ وہ آسمان سے زمین تک ہر معاملے کی تدبیر فرماتا ہے۔ تمام مخلوقات‘ اُن کے افعال‘ اُن کے ارزاق اور موت کا وقت (اَجَل) اسی کا مقرر کردہ ہے۔ جو چیز اس نے پیچھے کر دی اُسے کوئی آگے نہیں کر سکتا اور جسے آگے کر دیا اسے کوئی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ کائنات میں ہونے والا ہرکام اُس کی مشیٔت کے مطابق ہے‘ وہ چاہتا تو کوئی ایک بھی اُس کی اطاعت وفرمانبرداری سے روگردانی کرنے والا نہ ہوتا اور سب کے سب اُس کے اطاعت گزار ہوتے۔ وہ پوشیدہ باتوں اور سینوں کے بھیدوں سے مکمل باخبر ہے۔ فرمایا: ''کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا، حالانکہ وہ باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے‘‘ (الملک: 14)۔
کائنات کی ہر حرکت و سکون اُسی کے حکم سے ہے۔ مخلوق کے تمام توہمات اور انسانی عقلوں کے تمام اندازوں سے اس کی ذات بلند و برتر ہے۔ اس کی ذات کا مخلوق کے ساتھ کوئی موازنہ یا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنے فیصلوں میں عادل اور اپنی عطا و بخشش میں فضل و احسان فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی مخلوق سے مکمل بے نیاز ہے‘ پوری کائنات کو رزق عطا کرنے والا ہے‘ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے‘ اُس نے بندوں کو اپنے کسی نفع یا کسی نقصان کو دورکرنے کیلئے پیدا نہیں کیا‘ بلکہ یہ اس کے خالص ارادے اور حکمت کا مُقْتَضٰی ہے۔ وہ عدم سے وجود میں لانے‘ مصائب دور کرنے اور حالات الٹ پلٹ کرنے کی قدرت میں یگانہ ہے۔ وہ ایسا سخی ہے جو بخل نہیں کرتا‘ ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا‘ ایسا حفاظت کرنے والا ہے جو بھولتا نہیں‘ ایسا بیدار و باخبر ہے جو غافل نہیں ہوتا اور ایسا نگہبان ہے جو بے خبر نہیں ہوتا۔ وہ رزق کو تنگ بھی کرتا ہے اور کشادہ بھی‘ غضبناک بھی ہوتا ہے اور راضی بھی‘ عطا بھی کرتا ہے اور روکتابھی ہے: ''وہ ہر آن ایک نئی شان میں ہے‘‘ (الرحمن: 29)۔
بلند و برتر ذات اپنی شایانِ شان حیات کے ساتھ ہمیشہ زندہ ہے اور اپنے کمال کے لائق علم کے ساتھ جاننے والا ہے‘ اپنی بے انتہا قدرت کے ساتھ قادرِ مطلق‘ اپنی مشیٔت سے ارادہ فرمانے والا۔ وہ ایسی سماعت کے ساتھ سننے والا‘ ایسی بصارت کے ساتھ دیکھنے والا‘ ایسے ادراک کے ساتھ علم رکھنے والا‘ ایسے کلام کے ساتھ کلام کرنے والا‘ ایسے امر کے ساتھ حکم دینے والا‘ ایسی نہی کے ساتھ منع کرنے والا اور ایسی خبر کے ساتھ خبر دینے والا ہے کہ جو سب اس کی شان کے لائق ہیں۔ اس کے جلال و اکرام کے شایانِ شان اُس کے دو دستِ قدرت ہیں اور دونوں ہی یکساں مبارک‘ متبرَّک اور مَنبعِ برکات ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے: ''اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے‘‘ (الزمر: 67)۔ حدیث پاک میں فرمایا: رسول اللہﷺ نے ایک دن منبر پر یہ آیت تلاوت فرمائی: ''اور انہوں نے اللہ کی ایسی قدر نہیں کی جیساکہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا اور قیامت کے دن سب زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گی اور آسمان اس کے دائیں دستِ قدرت میں لپٹے ہوئے ہوں گے‘ وہ ان چیزوں سے پاک اور برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں‘‘ (الزمر: 67)۔ اور رسول اللہﷺ سمجھانے کیلئے اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے حرکت دیتے ہوئے فرما رہے تھے: وہ اس طرح اُسے حرکت دے گا‘‘ (مسند احمد: 5414)۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...