ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک جناب سلیم اللہ نے مزید کہا: ''ہمیں مقاصدِ شریعہ کے مطابق انصاف پر مبنی ایک ایسا اقتصادی نظام بنانا ہے جس میں لوگوں کو حقیقی انصاف ملے اور مکمل شفافیت ہو تاکہ غیر مسلم بھی تسلیم کریں کہ یہ نظام بہتر ہے اور وہ ترجیحی طور پر اسے اپنانے کیلئے آمادہ ہوں‘ یعنی معاملات زیادہ شفاف اور منصفانہ ہوں۔ لازم ہے کہ ہم اسلامی مالیاتی نظام کا ایسا عملی نمونہ پیش کریں کہ لوگ محض مذہبی عقیدت کی بنا پر نہیں بلکہ اُس کے معیار اور انصاف کی بنا پر اسے قبول کریں۔ اگر کوئی گاہک اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے تو اُسے منصفانہ حصہ ملے اور اگر خدا نخواستہ کسی مرحلے پر نقصان ہو تو اس کی شراکت داری کا نظام بھی موجود ہو‘‘۔ انہوں نے کہا: ''وفاقی شرعی عدالت نے 28 اپریل 2022ء کو امتناعِ ربا کے بارے میں اپنے جاری کردہ فیصلے میں ایسے چالیس قوانین کی نشاندہی کی تھی جو اسلامی مالیاتی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں‘ اُن کے بارے میں سفارشات تیار کر لی گئی ہیں‘‘۔
سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے کہا: ''اس وقت سات اسلامی بینک ہیں اور سولہ سودی نظام پر مبنی روایتی بینک ہیں‘ ہم دارالعلوم میمن کے اشتراک کے ساتھ اپنے ذیلی ادارے SBIL کے ذریعے اسلامی مالیاتی نظام کے بارے میں تربیت فراہم کر رہے ہیں‘ باقاعدہ کورس کراتے ہیں‘ تربیتی ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں اور ہم اس سلسلے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان اور روایتی بینکوں کے عملے کو تربیتی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک یہ صدقۂ جاریہ ہے‘ سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے اور اس کا نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ آج دنیا کے 80 ملکوں میں اسلامی بینکاری کا نظام موجود ہے‘‘۔ انہوں نے کہا: ''ہم بڑے پیمانے پرنوجوانوں کو کمپیوٹر اور سافٹ ویئر کی ٹریننگ دے رہے ہیں‘ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان مہارت حاصل کر کے آن لائن آئی ٹی کے میدان میں کام کر رہے ہیں اوراپنے روزگار کے ساتھ ساتھ ملک کیلئے زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں‘‘۔
ہم نے اس موقع پر اپنی گزارشات میں کہا: ''اب تک حکومت اپنے جامد اثاثوں کو اجارے پر دے کر ہی مالی وسائل حاصل کر رہی ہے‘ اس سے کوئی معاشی عمل پیدا ہوتا ہے‘ نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نہ حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لازم ہے کہ حکومت‘ بینکاری اور صنعت سے وابستہ ایسے اذہان یکجا ہوں جن میں ایجاد واختراع کی صلاحیت ہو اور وہ قلیل مدتی‘ وسط مدتی اور طویل مدتی ایسے صنعتی شعبوں کی نشاندہی کریں جو نتیجہ خیزی کے حامل ہوں۔ اُن سے قدر افزودہ (Value Added) صلاحیت کی قابلِ برآمد پیداوارحاصل ہو تاکہ ملک کو زرمبادلہ ملے اور مالیاتی خسارے سے نجات ملے۔ مولانا بشیر فاروق قادری محبّ وطن اور اعلیٰ صلاحیت وقابلیت کے حامل ایسے صنعتکاروں اور کاروباری طبقات کو جمع کریں جو ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں‘ کیونکہ مالیاتی عدمِ توازن کی وجہ سے ہی ہم بحیثیتِ قوم داخلی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں اور ہماری معیشت ہمیشہ سسکیاں لیتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم نے مختلف اَدوار میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں سے ماہر بینکاروں کو بلا کر وزارتِ خزانہ کا منصِب تفویض کیا‘ مگر وہ ان اداروں کی غلامی کے سوا کوئی آبرو مندانہ اور قابلِ عمل راستہ نہ نکال سکے۔اب تو وزیر داخلہ نے سرکاری منصِب پر فائز ہوتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ نظام منہدم ہو چکا ہے‘ اس کی تشکیلِ نو کی ضرورت ہے۔ الغرض جس نئے احساس یا نئے اقتصادی نظام کی ہمیں ضرورت ہے‘ ابھی تک وہ ہمیں نصیب نہیں ہو سکا‘ ماضی ہی کے تجربات دہرائے جا رہے ہیں۔ہم نے کہا: نیتوں کا حال تو ہم نہیں جانتے‘ لیکن ظاہری عمل سے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے ملکی بینک اب تک یہ بھی نہیں کر سکے کہ ایم سی بی کی طرح اپنی اسلامی بینکاری کا الگ خود مختار ذیلی ادارہ (Subsidity) قائم کریں‘ بلکہ شاخیں بنانے اور ونڈوز پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے‘ یہ عزم کی کمزوری کی واضح دلیل ہے۔ ہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ان کوششوں کی تحسین کرتے ہیں کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے اسلامی مالیاتی نظام اور غیر سودی بینکاری کی راہ میں حائل جن چالیس قوانین کی نشاندہی کی تھی‘ اُن کی بابت سفارشات تیار کر لی گئی ہیں‘ لیکن چار سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ان کے بارے میں قانون سازی نہیں کی گئی‘ اس سے حکومتی عزم کے بارے میں شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔
ہمیں یہ جان کر بھی افسوس ہوا کہ وفاقی وزارتِ خزانہ نے اکثریتی غیر ملکی حصص کے حامل بینکوں اور مالیاتی اداروں کیلئے اسلامک بینکنگ کی طرف منتقلی کو رضاکارانہ قرار دیا ہے‘ یعنی اُن کی مرضی مکمل اسلامی بینکاری کی طرف منتقل ہوں یا بعض شاخیں مخصوص کر دیں یا مکمل سودی نظام پر مبنی بینکاری جاری رکھیں اور اس سلسلے میں ویانا کنونشن کا سہارا لیا ہے‘ حالانکہ ویانا کنونشن کا بینکاری اور مالیاتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ اس کا تعلق صرف سفارتی معاملات سے ہے‘ جبکہ غیر ملکی بینک بھی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے لائسنس کے تحت قائم ہوتے ہیں اور ان کا ریگولیٹر ادارہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی ہے۔ ہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور ڈپٹی گورنر کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ لیکن نتائج تو تب برآمد ہوں گے‘ جب ان جذبات اور قول وقرار پر لفظًا و معنیً مِن وعَن عمل کیا جائے گا۔
عامر پراچہ کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ہم نے کہا: ''جہاں چالیس چالیس سال تک فیصلے نہ ہوں‘ کسی ملزَم کو سپریم کورٹ سے اُس وقت باعزت بری کیا جائے جب وہ جیل میں وفات پا چکا ہو یا 14 سال جیل میں گزار چکا ہو تو یہ نظامِ عدل نہیں‘ بلکہ نظامِ ظلم ہے۔ کسی کی زندگی کے چودہ سال برباد کرنے یا پوری زندگی برباد کرنے کا بدل کون دے گا۔ کیا ہمارے عالی مرتبت جج صاحبان کو ان حقائق کا ادراک نہیں ہے۔ سابق چیف جسٹس (ر) گلزار احمد نے اپنی اَنا کی تسکین کیلئے کراچی میں نسلہ ٹاور کو جبراً گرایا اورکئی خاندان اپنی زندگی بھر کی پونجی سے محروم ہوگئے اور عالیشان فلیٹوں سے فٹ پاتھ پر آ گئے۔ حالانکہ اسلام آباد میں بااثر لوگوں کے فلیٹس پر مشتمل عمارات کو ریگولرائز کیا گیا‘ اس میں بنی گالہ‘ کانسٹیٹیوشن ایوینیو اورسینٹورس مال وغیرہ شامل ہیں‘ اس کے برعکس بلڈرز اور فلیٹوں کے مکین فریادیں کرتے رہے کہ اصل پلاٹ قانونی طور پر الاٹ شدہ ہے اور جو اضافی زمین شامل کی گئی ہے‘ اُسے بھی مُجاز ادارے سے منظورکرا لیا گیا تھا‘ نیز اگر عدالت چاہے تو کوئی جرمانہ عائد کر سکتی ہے‘ لیکن لوگوں کو بے گھر اور دربدر نہ کیا جائے ۔ لیکن عدالت نے ان مظلوموں کی فریادوں پر بالکل کوئی توجہ نہیں دی ۔ ہم نے مولانا بشیر فاروق قادری کو تجویز دی کہ اُسی مقام پر امریکی جیوری کی طرز پر متاثرین کی ایک جیوری بنائی جائے اور ایسا فیصلہ دینے والوں کا علامتی ٹرائل کیا جائے۔ آج کراچی میں جسٹس گلزار احمد کا کوئی نام لیوا نہیں ملے گا۔ مگر جب لوگ مسندِ اقتدار پر فائز ہوتے ہیں تو بہت کچھ اُن کی انا کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اس ملک میں عدالتی اصلاحات بااختیار اور مقتدر حلقوں کی ذاتی دلچسپی کے بغیر عملاً ممکن نہیں ہیں۔ عدالتوں کے چکر لگا تے ہوئے نسلیں گزر جاتی ہیں‘ لیکن انصاف نہیں ملتا۔ جب تک مقدمہ دائر ہونے سے لے کر فیصل ہونے تک کیلئے مدت کا تعین نہیں کیا جاتا‘ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل ایسے ہی جاری رہے گا۔ انصاف کے منصب پہ فائز بعض شخصیات کے ٹیلی ویژن چینلوں پر ٹِکر چلیں گے‘ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اخبارات میں مضامین لکھ کر اپنی قابلیت کے جوہر دکھائیں گے‘ لیکن یہ سب کچھ بے فیض رہے گا۔ ہمارے مقروض ترین ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے مشاہرے اور مراعات بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہیں‘ لیکن نظامِ عدل درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے ‘‘۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments