مولانا ابوالکلام آزاد کا انقلابِ حال‘ سید مودودی کے نزدیک اہلِ اسلام کیلئے بیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی تھی۔ یہ المیہ ان کیلئے اتنا شدید تھا کہ ایک ایسا 'جملہ معترضہ‘ شدتِ الم سے بے اختیار ان کے قلم سے بہہ نکلا‘ سید کا اسلوبِ نگارش جس سے مانوس نہیں تھا۔
میرا سوال ہے: اکیسویں صدی کے مسلمانوں کی سب سے بڑی ٹریجڈی کیا ہے؟ مولانا آزاد کا انقلابِ حال کیا تھا؟ اس کا جواب مولانا مودودی نے اس 'جملہ معترضہ‘ میں دیا ہے جو دکھ کے گہرے احساس کے ساتھ ان کے قلم سے نکلا: ''یہ شخص وہ تھا جس سے ہم شیخ احمد مجدد سر ہندی اور شاہ اسماعیل شہید کی جانشینی کے متوقع تھے‘ جو کبھی اسلامی نظامِ جماعت کا سب سے بڑا داعی تھا‘ جس نے برسوں مسلمانوں کو وحدت و مرکزیت کی دعوت دی‘ جو کسی زمانے میں ہم کو تلقین کیا کرتا تھا کہ ''جماعتی زندگی کی معصیت کا تخم (یعنی نظامِ جماعت کا نہ ہونا) ایسا تخمِ ہلاکت ہے جو فوراً بربادی کا پھل لاتا ہے اور پوری قوم کی قوم تباہ ہو جاتی ہے‘‘۔ مسلمانوں کی بدقسمتی کہ بالآخر وہ امت کے پراگندہ سروں سے چوسر کھیلنے نکلا اور اس نے تمام ہندوستان کو یہ تماشا دکھایا کہ اس قوم کے چیدہ اور سربر آوردہ لوگ بھی کتنے ذلیل‘ کتنے بودے کریکٹر کے لوگ ہیں‘ کس آسانی کے ساتھ ان کو آپس میں لڑا یا جا سکتا ہے اور کس بے شرمی کے ساتھ یہ لیلائے وزارت کے پیچھے اس پارٹی سے اُس پارٹی میں اور اُس سے اس میں منتقل ہو جاتے ہیں‘‘۔
اس 'جملہ معترضہ‘ کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ جو شخص ہندوستان میں مسلمانوں کو مجتمع کر کے اس سرزمین پر حاکمیتِ الٰہیہ کے قیام کیلئے نکلا تھا‘ اس نے متحدہ قومیت کا پرچم تھاما اور مہاتما گاندھی کے ہاتھوں پر بیعت کر لی۔ نکلے تھے امام الہند بننے اور بن گئے گاندھی جی کے مقتدی۔ مولانا مودودی نے اس کی تلافی اس طرح کرنا چاہی کہ حکومتِ الٰہیہ کا علم اٹھایا اور اسلامی جماعت کے قیام کیلئے 'جماعت اسلامی‘ قائم کی اور اسلامی ریاست برپا کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ اس سفر میں بہت سے پڑاؤ آئے۔ کہیں ایسا مقام بھی آیا جہاں سے مسلمانوں کیلئے اکیسویں صدی کی ٹریجڈی کا آغاز ہوتا ہے۔
مولانا مودودی کو مولانا آزاد کا نقشِ ثانی کہا جاتا ہے۔ سید مودودی کے فکر اور اندازِ تحریر‘ دونوں پر مولانا آزاد کے اثرات ہیں۔ دونوں میں ایک اور مماثلت بھی ہے۔ دونوں خوش ذوق تھے اور خوش اطوار بھی۔ انسانی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ۔ مولانا آزاد کے بارے میں مولانا مودودی نے کہا: ''وہ اُن حضرات میں سے تھے جو گالیاں سنتے تو ہیں لیکن کبھی کوئی ان کی زبان سے کسی کیلئے گالی نہیں سنتا‘‘۔ سید صاحب کے بارے میں جاوید احمد صاحب غامدی نے لکھا: ''ان کے حسنِ طبیعت میں حسنِ فطرت کی جھلک تھی‘‘۔ دونوں کے علم و فضل کا معاملہ بھی ایسا تھا کہ ان کی ہمسری کا دعویٰ تو کیا جا سکتا ہے‘ اس کو ثابت کرنے کیلئے فرہاد کا جگر چاہیے۔ کوئی 'ترجمان القرآن‘ جیسی تفسیر لکھے تو مانیں۔ کوئی 'تفہیم القرآن‘ جیسے بیس صفحات ہی رقم کر دے تو جانیں۔ ان دونوں شخصیات نے اس امت کو بہت کچھ دیا۔ علم‘ سماج‘ سیاست‘ سب پر اثرات ڈالے اور ان کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ دونوں میں ایک اور مناسبت بھی تھی۔ ایک کا انقلابِ حال بیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی بنا اور دوسرے کا فکری ورثہ اکیسویں صدی کی۔
اکیسویں صدی میں ایک اندازِ نظر نے مسلم ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اسلام کا سیاسی غلبہ مسلمان کا فریضہ اور مطمح نظر ٹھیرا۔ سماج کے بجائے ریاست اس کی توجہ کا مرکز بنی۔ اس نے اپنی نشاۃ ثانیہ کو سیاسی مہم جوئی میں تلاش کیا۔ سید مودودی کے علم اور قلم نے اس کیلئے فکری سرمایہ فراہم کیا۔ دین 'سٹیٹ‘ کا مترادف بن گیا۔ مسلمانوں کی ذہانتیں اور مخلصانہ کاوشیں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں کھپ گئیں۔ گوہرِ مراد ہاتھ نہ آیا تو مایوسی نے آ گھیرا۔ مایوسی کا اظہار ہمیشہ انتہا پسندانہ ہوتا ہے۔ سید صاحب تو ووٹ کے قائل تھے مگر ان کے فکر سے بالواسطہ یا بلا واسطہ‘ سیراب ہونے والے ووٹ تک نہیں رکے۔ ووٹ سے اسلامی ریاست قائم نہ ہو سکی تو بندوق سے برپا کرنے کی سعی کی گئی۔ زمین فساد سے بھر گئی۔ کیا مسلم حکمران اور کیا عوام‘ سب طاغوت کا مصداق بنے اور ان کو واجب القتل قرار دے دیا گیا۔ مسلمان معاشرے مقتل بن گئے۔ یہ اہلِ اسلام کیلئے اکیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی تھی۔
سید مودودی کی علمی مسند خالی رہی۔ ان کے خوشہ چین ان سے آگے نہ سوچ سکے۔ انہوں نے اسلام کے سیاسی غلبے کیلئے تجدیدِ دین کو بھی ضروری قرار دیا تھا۔ یہ بھاری پتھر اٹھانے کیلئے ان کی جماعت سے کوئی نہ اٹھا۔ مجتہد فی المذہب پیدا ہوئے مگر وہ بھی ایک دو۔ تیسری نسل میں یہ باب بھی بند ہو گیا۔ فکری مسائل کا سامنا ہوا تو سید مودودی کی جماعت‘ باجماعت‘ اہلِ دیوبند کی چوکھٹ پہ جا سرنگوں ہوئی۔ یہ اس ٹریجڈی کا ایک پہلو ہے کہ دارالعلوم دیوبند‘ جہاں ردِ مودودیت کورس پڑھائے جا رہے ہیں‘ وہیں اس فکر کے متوسلین آبِ حیات تلاش کر رہے ہیں۔ اتنے سادہ تو شاید میر بھی نہ تھے۔
سید مودودی ان لوگوں میں تھے جو صرف مقلد پیدا نہیں کرتے‘ علم کا جہانِ نو آباد کر سکتے ہیں۔ ایسا جہاں جس میں نئے معارف اور نئے علوم کی پرورش ہوتی ہے۔ نئے چمن آباد ہوتے ہیں جہاں روش روش پہ رنگا رنگ پھول کھلتے ہیں۔ یہ ابنِ تیمیہ‘ شاہ ولی اللہ‘ اقبال اور حمید الدین فراہی جیسوں کے جہاں ہیں۔ ان سب نے سر راہ گزر ایک ایک چراغ روشن کر دیا۔ لوگ آئیں گے اور حسبِ ذوق ان کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کریں گے۔ جیسے ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے چراغ سے ابوالکلام اور سید مودودی نے اپنی دنیا روشن کی مگر ان سے مختلف راہِ علم و عمل کا انتخاب کیا۔ سید مودودی کے چراغ کو ابوالکلام کے چراغ سے روغن ملا۔ اسی کی روشنی میں انہوں نے وہ 'جملہ معترضہ‘ لکھا جسے شدتِ الم نے بے اختیار جنم دیا۔ یہ وہ الم ہے جو گہری محبت سے اس وقت جنم لیتا ہے جب مایوسی غلبہ پا لیتی ہے۔
فکر کے چراغ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خارج سے روغن نہیں لیتا۔ یہ اپنے لہو کو روغن بناتا ہے۔ جب تک اس میں لہو موجود ہے اس کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔ فکرِ مودودی کا چراغ روشن ہے اور لو دے رہا ہے۔ اس لو سے وہ علم جنم لے سکتا ہے جو نئی دنیاؤں کا پتا دے۔ ایسی دنیا جس میں ریاست کے بجائے سماج توجہ کا مرکز بنے اور مسلمان ذہانتیں علم کا رخ کریں۔ اپنی اخلاقی اور علمی برتری کو ثابت کریں۔ اس روایت کا احیا کریں جس نے انہیں زمانے میں معزز بنایا۔ مولانا مودودی کے لٹریچر میں یہ راستہ موجود ہے جو اس فکری تسلسل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ جیسے شاہ ولی اللہ کے راستے پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک نیا راستہ دریافت کیا۔ علم صرف تقلید سے نہیں‘ اجتہاد سے آگے بڑھتا ہے۔ بصورتِ دیگر ہر صدی ایک نئے المیے کو جنم دے گی۔ میرا احساس ہے کہ سید مودودی کے جانشین ان صفوں میں ہیں‘ جو اُن کے فکری ناقد ہوتے ہوئے بھی انہیں اپنی قابلِ فخر روایت کا حصہ مانتے ہیں۔ جیسے سید مودودی خود مولانا آزاد کے ناقد مگر ان کا علمی تسلسل ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو اکیسویں صدی کی ٹریجڈی کا مداوا کر سکتے ہیں۔
(سید مودودی 22 ستمبر 1979ء کو دنیا سے رخصت ہوئے اور 26 ستمبر کو لاہور میں آسودہ خاک ہوئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments