''اَمرِت دھارا‘‘ سے مراد آبِ حیات یا ایسی دوا جو ہر مرض کا علاج ہو‘ اسے ''اکسیرِ اعظم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کے لغت میں کئی معانی ہیں‘ لیکن یہاں ہماری مراد وہ معنی ہے جو شروع میں لکھ دیا گیا ہے۔ آج کل ہمارے نظام کا ''اَمرِت دھارا‘‘ جنابِ سید محسن نقوی ہیں۔ ویسے منطق میں تو اجتماعِ نقیضین مُحال ہے‘ لیکن اُن کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ مُحال کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ وہ بیک وقت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بھی چہیتے ہیں اور صدر آصف علی زرداری کے بیٹے بھی کہلاتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہے‘ لیکن نقوی صاحب کو دونوں کا اعتماد حاصل ہے اور رابطہ کاری کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کرکٹ جس مقام پر پہنچ چکا ہے‘ یہ بھی اُنہی کا کارنامہ ہے۔ اُن کی سربراہی میں پاکستان کرکٹ ہمالیہ کی بلندیوں سے تحت الثریٰ تک جا پہنچا ہے‘ مگر انہوں نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں تنقید کرنے والوں کی بابت فرمایا: ''جنہوں نے خود کچھ نہیں کیا‘ ان کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ وہ تنقید سے نہ پہلے گھبرائے ہیں نہ اب گھبراتے ہیں‘ جو لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں‘ ان کے آنے سے ہی کرکٹ تباہ ہوئی تھی‘ یہ لوگ کبھی کہتے ہیں: فلاں کو نکال دو‘ اورکبھی کہتے ہیں: فلاں کو کیوں کھلایا؛ البتہ اگر وسیم اکرم جیسے بڑے کھلاڑی بات کریں تو اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں‘‘۔ لیکن وسیم اکرم کو تو آج تک پی سی بی نے کوئی بڑا منصب عطانہیں کیا۔ یہ اُن کی خوداعتمادی کی بیّن دلیل ہے‘ کیونکہ اُن کا ''کھونٹا‘‘ مضبوط ہے۔
انہوں نے منتخب تاجروں اور صنعتکاروں کے اجتماع میں پہلی بار یہ وعید سنائی کہ نظام منہدم ہو چکا ہے‘ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ ایک ایسا شخص نظام کے انہدام کی وعید سنا رہا ہے‘ جواس سے فائدہ اٹھانیوالوں میں شامل ہے۔ پس لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ موصوف ایک منہدم نظام کا لازمی جُز کیوں بنے ہوئے ہیں۔ مگر جب انہیں اپنے فرمودات کے مابعد اثرات کا ادراک ہوا تو ایک وضاحت جاری کی کہ یہ نظام 79 سال سے بوسیدہ چلا آ رہا ہے‘ اس تعبیر کی رو سے معمار نے روزِ اوّل ہی سے پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھی تھی‘ لہٰذا اوجِ ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی جائے گی‘ البتہ انہوں نے تسلی دی کہ وزیر اعظم سمیت موجودہ حکومتی ڈھانچہ اپنی مدت پوری کرے گا۔
نئے صوبے بنانے کا طریقۂ کار آئین میں درج ہے‘ مگر اُس کی راہ میں پیپلز پارٹی پوری قوت کے ساتھ حائل ہے‘ کیونکہ اُنہیں صوبۂ سندھ کی تقسیم کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے‘ بلکہ بعض نے متنبہ کیا ہے کہ سندھ میں اس کا ردِّعمل بلوچستان سے بھی شدید ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ چولستان کیلئے نئی نہروں کا منصوبہ مقتدرہ کو ترک کرنا پڑا‘ کیونکہ سندھی قوم پرست میدانِ عمل میں آ چکے تھے اور ان مسائل میں پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست یکجان اور یک زبان ہوتے ہیں۔ دستور کے آرٹیکل 239(4) کی رُو سے کسی صوبے کی حدود میں ردّوبدل کر کے نیا صوبہ تشکیل دینے کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے قرارداد پاس کرنا ہو گی اور پھر اس کی متابعت میں پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری درکار ہو گی۔ سرِدست یہ ہمالیہ سرکرنا کافی مشکل ہے۔ مقتدرہ کا اصل مسئلہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے قومی محاصل کا ایک بہت بڑا حصہ جو این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہوتا ہے‘ مقتدرہ اُسے رول بیک کرنا چاہتی ہے‘ لیکن صوبوں خاص طور پر صوبۂ سندھ کو اس پر رضامند کرنا عملاً انتہائی دشوار ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وفاق مالی اعتبار سے مشکل میں ہے۔ البتہ کسی حد تک یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ صوبے مقتدرہ کے دبائو سے نکلنے کیلئے مقامی حکومتوں کو مالی وسائل منتقل کرنے پر وقتی طور پر آمادہ ہو جائیں‘ حالانکہ اس پر بھی قائم رہنا دشوار ہو گا کیونکہ صوبائی وسائل کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے کیلئے صوبائی حدود کے اندر این ایف سی ایوارڈ کا کوئی نہ کوئی فارمولا بنانا ہو گا۔
نئے صوبے بنانے کے حق میں جو دلائل دیے گئے ہیں‘ اُن میں آبادی اور رقبے کو بنیاد بنایا گیا ہے اور دنیا کے ممالک سے تقابل کیا گیا ہے۔ لیکن مخالفین کے پاس ان دلائل کا توڑ بھی موجود ہے‘ مثلاً: بھارت میں صوبۂ اتر پردیش کی آبادی کم وبیش پاکستان کے برابر ہے‘ نیز صوبہ بہار اور مہاراشٹر کی آبادی بھی پاکستان کے صوبۂ پنجاب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح بھارتی صوبہ راجستھان رقبے کے اعتبار سے کم وبیش بلوچستان کے برابر ہے۔ بنگلہ دیش ایک قوم اور ایک زبان کا ملک ہونے کے سبب ایک وحدت پر مشتمل ہے اور اس میں صوبوں کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ آبادی اور رقبے کا تفاوت امریکہ کی ریاستوں میں بھی موجود ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان میں ایسی قومی وملّی قیادت نہیں ہے جو پاکستان کے سارے صوبوں میں یکساں طور پر مقبول ہو اور اُسے عوام کا اتنا اعتماد حاصل ہو کہ وہ پورے ملک کے عوام کو کسی ایک متفقہ فیصلے پر آمادہ کر سکے۔ افغانستان نے شروع ہی سے ہر ضلع کو ولایت کا درجہ دے رکھا ہے‘ لیکن وہاں ہماری طرح کا کوئی صوبائی یا مقامی حکومتوں کا سیٹ اَپ نہیں بلکہ ضلع کے نگرانِ اعلیٰ کو والی کہتے ہیں اور وہ سویلین شخص بھی ہو سکتا ہے‘ اس کیلئے ہماری طرح سروس کیڈر سے ہونا ضروری نہیں ہے لہٰذا پاکستان کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے‘ اسی طرح ترکیے بھی غالب اکثریت کے اعتبار سے ایک قوم اور زبان والوں کا ملک ہے‘ لہٰذا وہاں ایسی مشکلات نہیں ہیں‘ جو ہمیں درپیش ہیں۔
مزید صوبے بنانے کی صورت میں آئینی ڈھانچے میں کافی ترمیمات درکار ہوں گی‘ سینیٹ کی پوری ساخت بدل جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ نئی ساخت میں سینیٹ کو کنٹرول کرنا بھی مشکل ہو جائے۔ قبائلی اضلاع کے پختونخوا میں انضمام کے سبب قومی اسمبلی کی براہِ راست منتخب نشستیں 272 کے بجائے 266 رہ گئی ہیں۔ لیکن صوبے کی آبادی میں اضافے کے بعد این ایف اسی ایوارڈ کا از سرِ نو تعیّن نہیں ہو سکا‘ اس لیے ضم شدہ اضلاع کیلئے بھی وفاق کو اپنے وسائل سے الگ سے دینا ہوتا ہے‘ اسی طرح ''گلگت بلتستان کونسل‘‘ اور آزاد کشمیر کیلئے بھی وفاق کو دینا ہوتا ہے۔ مقتدرہ نے خواہش ظاہر کی کہ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ صوبے اپنے وسائل سے دیں‘ لیکن صوبۂ سندھ اس پر بھی راضی نہیں ہوا‘ بلکہ وفاق سے اس کے بجٹ کو بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ بی آئی ایس پی کو صدر آصف علی زرداری نے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تحفظ دے رکھا ہے‘ صرف جنابِ عمران خان نے اپنے دور میں اس کو آئینی طور پر ختم کرنے کے بجائے ''احساس کفالت پروگرام‘‘ کے عنوان سے اپنا متبادل پروگرام شروع کیا تھا‘ اُس وقت انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ بی آئی ایس پی میں بڑی کرپشن ہے‘ لیکن پھر کسی کے خلاف کسی باقاعدہ کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ موجودہ اتحادی فارمولے میں بی آئی ایس پی کی سربراہی بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔
جنابِ محسن نقوی نے لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ''نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے‘ کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نہیں روک سکتی‘ نظام کی تشکیلِ نو ضروری ہے۔ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت اور سندھ میں نئے صوبے بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔ تشکیلِ نو کا مطلب نظام توڑنا نہیں ہے‘ نئی انتظامی اکائیوں کا معاملہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ پنجاب میں لاہور جیسا‘ سندھ میں کراچی جیسا اور خیبر پختونخوا میں پشاور جیسا کوئی اور شہر ہے‘‘۔ انہیں کون بتائے کہ ایسی مثالیں تو دنیا کے ہر ملک میں مل جائیں گی۔ انہوں نے ملفوف انداز میں زرداری صاحب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا: ''میں نوکری پر رہوں یا نہ رہوں‘ اب پیچھے نہیں ہٹوں گا‘ جو مرضی کر لیں ممدانی اور صادق خان تو اب آئیں گے‘ ہم تحصیل‘ ضلع اور ڈویژن بنا سکتے ہیں تو صوبہ کیوں نہیں بنا سکتے‘‘۔ کس کی مجال ہے کہ ان سے پوچھے کہ آپ کا نام ''عوام‘‘ کب سے پڑ گیا‘ ممدانی اور صادق خان تو اوپر سے نازل نہیں ہوئے‘ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments