"IYC" (space) message & send to 7575

چار اکتوبر کو کیا ہو گا؟

جب یہ کالم چھپے گا اُس کے دو دن بعد پی ٹی آئی کو اپنے اعلان کے مطابق لانگ مارچ کرنا ہے اور اتنا ہی وقت حکومت کے پاس باقی ہے یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ہے‘ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی عمل میں لانی ہے یا صوبے میں چھوٹی کابینہ کے ساتھ کوئی ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنا ہے۔ پی ٹی آئی اور حکومت دونوں کے لیے یہ سبھی فیصلے آسان نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے حلقوں میں یہ باتیں لانگ مارچ کی تاریخ سے کئی دن پہلے سے سننے میں آ رہی تھیں کہ تیاری مکمل نہیں ہے‘ اس لیے لانگ مارچ ملتوی کر دینا چاہیے۔ کیا پی ٹی آئی کی انتظامی صلاحیت یہ ہے کہ ڈیڑھ مہینے میں بھی مارچ کو منظم نہ کیا جا سکا؟ اب بھی جبکہ لانگ مارچ ملتوی یا مؤخر کیا جا چکا ہے تو پارٹی میں سے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ مارچ کیوں ملتوی کیا گیا۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگاتی تو کیا چار اکتوبر کو لانگ مارچ کرایا جا سکے گا؟ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے چار اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب ہر صورت لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین اسمبلی اور قائدین کو تیاری کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کے پارٹی قیادت کے نام لانگ مارچ کی مخالفت میں لکھے گئے خط کے باوجود کیا گیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے پارٹی قیادت کو باور کرایا کہ بیرونی خطرات اور دہشت گردی میں اضافے کے پیشِ نظر اور ملک کے وسیع تر مفاد میں لانگ مارچ ملتوی کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ وفاقی حکومت کچھ ایشوز کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے‘ ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے‘ افغانستان سے کوئی ممکنہ حملہ ایمرجنسی کا جواز بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت پر تعاون نہ کرنے کا بیانیہ بنا رہی ہے‘ اس لیے صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے‘ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کا الزام لگا کر پارٹی پر پابندی لگ سکتی ہے۔
ہوتا کیا ہے‘ یہ دیکھنے کے لیے آپ کو دو دن مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ حکومت کے تناظر میں دیکھیں تو امکان اور پی ٹی آئی کے تناظر میں دیکھیں تو خدشہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ نہیں کر پائے گی‘ جس کی کئی وجوہ ہیں۔ پہلی وہی پارٹی قیادت میں انتظامی صلاحیت کا فقدان۔ دوسری عدالت کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو لانگ مارچ کے لیے صوبے کے وسائل استعمال کرنے کی ممانعت‘ ان وسائل کی عدم دستیابی لانگ مارچ کو مشکل بنا سکتی ہے۔ تیسری لانگ مارچ کے دوران دہشت گردی کے خطرات۔ چوتھی لانگ مارچ کی صورت میں وفاقی حکومت کی جانب سے سخت مزاحمت کا خدشہ‘ حکومت کی جانب سے جس کی تیاریاں بھی کی گئی ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تو تیاریاں ہو رہی ہیں‘ ساتھ ساتھ خبریں مل رہی ہیں کہ خود پی ٹی آئی کے اندر سے تبدیلی کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پارٹی کے اندر سے آنے والی تحریک عدم اعتماد کے تحت بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ حکمران پارٹیوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد یا گورنر راج کی صورت میں صوبے میں حکمران پارٹی تبدیل ہو جائے گی لیکن پی ٹی آئی کو پارٹی کے اندر سے تحریک عدم اعتماد اٹھانے کا فائدہ یہ ہو گا کہ وزیراعلیٰ تبدیل ہو جائے گا لیکن صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت بدستور قائم رہے گی۔ ظاہر ہے پی ٹی آئی کے لیے یہی سب سے بہتر راستہ ہو سکتا ہے کیونکہ اگر پی ٹی آئی کی یہ صوبائی حکومت ختم ہو گئی تو پھر اس کی وفاقی حکومت کے ساتھ بارگیننگ پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔
پیش گوئیوں میں معروف شیر افضل مروت نے بھی کہا ہے کہ سہیل آفریدی پر تحریک عدم اعتماد کی تلوار لٹک رہی ہے کیونکہ بقول ان کے بانی پی ٹی آئی نے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد مارچ سہیل آفریدی کی صلاحیت سے زیادہ ہے‘ اس لیے سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ سے سٹیپ ڈاؤن کرنا چاہیے۔ شیر افضل مروت کے مطابق علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو ناکام بنانے کے لیے پریشر گروپ بنا رکھا ہے اور تقریباً 35 ارکانِ اسمبلی بغاوت پر اترے ہوئے ہیں‘ اور بانی پی ٹی آئی ان اراکین کے حامی ہیں۔ شیر افضل مروت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سہیل آفریدی مارچ نہ کرسکے تو بھی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی معافی نہیں ہے۔
جب کالم اختتام کے آخری مرحلے میں تھا تو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کی خبر آ گئی جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان اور بیک ڈور رابطوں کا جائزہ لیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کے تناظر میں آرٹیکل 233اور 234 پر آراء لی گئیں۔ سننے میں آیا کہ آئینی اقدامات کو حتمی شکل دینے کیلئے وزیراعظم اور صدرِ مملکت کی ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔
پچھلے اڑھائی برسوں میں حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کو اور اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی متعدد پیشکشیں کی جا چکی ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر فریقین ایک بار بھی بات چیت کے لیے ایک ٹیبل پر نہیں بیٹھے۔ ایک کے پاس ایک بہانہ ہوتا ہے تو دوسرے کے پاس دوسرا۔ میرے خیال میں بہانے بازی کے اس سلسلے کی بندش سے ہی آگے بڑھنے کے در وا ہو سکیں گے۔ حفیظ ہوشیار پوری کی ایک مشہور غزل کے دو اشعار یاد آ رہے ہیں:
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
تو میرے خیال میں دلوں‘ بلکہ عوام کے دلوں کی بھی الجھنیں کم اور پھر بتدریج ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ باہم مشوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اور صاف دل و دماغ کے ساتھ بیٹھا جائے۔ مسائل کو حل کرنے کے لیے بیٹھا جائے‘ الجھنیں بڑھانے کی سوچ کے ساتھ نہ بیٹھا جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو لانگ مارچوں کی ضرورت از خود ختم ہو جائے گی اور حکمرانوں کو بھی گورنر راج نافذ کرنے یا ایک چلتی ہوئی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ لانگ مارچ کرنے اور اسے روکنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے اور اس کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں لیکن کوئی بھی بات چیت کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ میں عطاالحق قاسمی صاحب کی تحریر کردہ پی ٹی وی کی مشہور ڈرامہ سیریز ' شب دیگ‘ کا انکل کیوں تو نہیں ہوں‘ لیکن پھر بھی یہ سوال پوچھتا ہوں کہ آخر کیوں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...