''تم میرے ٹیکس پر پلتے ہو۔ تم مجھے کیسے روک سکتے ہو؟‘‘
تکبر میں ڈوبی ہوئی یہ آواز بسا اوقات سنائی دیتی ہے۔ عام طور پر یہ جملہ اُس وقت سننے میں آتا ہے جب پولیس والا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کسی کو روکتا یا کسی قانون شکن کو لگام دینے کی کوشش کرتا ہے۔ دو دن پہلے‘ جب دھرنے کا شور تھا‘ میں نے سوشل میڈپا پر ایسی ہی ایک وڈیو دیکھی۔ ایک کار سوار کو ممنوعہ راستے پر آگے بڑھنے سے روکا گیا۔ اس کا تکبر شرفِ انسانیت کو کھا گیا اور اس کی زبان پاکستان کے خلاف دراز ہونے لگی۔ پولیس والے کا حوصلہ قابلِ داد تھا۔ اُن صاحب کا معافی نامہ بھی اس وڈیوکا حصہ تھا۔ اس کا یہ جملہ میرے ذہن سے چپک گیا۔ ''تم میرے ٹیکس پر پلتے ہو۔ تم مجھے کیسے روک سکتے ہو؟‘‘ اس جملے نے اُس جیسے بہت سے کردار یاد دلا دیے۔
پولیس والے نے جواب میں ایک جملہ کہا اور کوزے میں دریا بند کر دیا۔ جب اس نے ٹیکس ٹیکس کی رَٹ لگائی تو پولیس والے نے کہا: ''ٹیکس دیتے ہو تو کماتے بھی یہیں سے ہو‘‘۔ یہ جملہ اُن متکبرین کے لیے کسی تازیانے سے کم نہیں۔ یہ لوگ ٹیکس کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے ایک حاجت مند کو خیرات دے رہے ہوں۔ یہ طبقہ اس بات کو نظرانداز کرتا ہے کہ ملک انہیں وہ ماحول فراہم کرتا ہے جہاں سے وہ کروڑوں کماتے ہیں۔ عالیشان گھروں میں رہتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے اور باہر کے ملکوں میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ لاکھوں ٹیکس دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس سے کہیں زیادہ کما رہے ہیں اور اس کے لیے ملک کے وسائل کو استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔ اس سے تلخ تر پہلو دوسرا ہے۔
ٹیکس دینے کا واویلا سب سے زیادہ اُس طبقے کی طرف سے کیا جاتا ہے جس کی شہرت یہ ہے کہ وہ ٹیکس چور ہے۔ پاکستان میں ہر سال اربوں روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے۔ یہ کام وہی کر سکتا ہے جو اربوں کماتا ہے۔ یہ دو طبقات ہیں۔ ایک تاجر اور دوسرے جاگیردار۔ جاگیر دار تو بالکل ٹیکس نہیں دیتا اور صنعتکار و تاجر پر الزام ہے کہ وہ سب سے زیادہ ٹیکس چوری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ حکومت انہیں بجلی‘ گیس سستے داموں فراہم کرتی ہے۔ ان پر جو ٹیکس عائد ہوتا ہے وہ اس کا بڑا حصہ صارف کو منتقل کر دیتے ہیں۔ ان کے کاروبار دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کررہے ہیں۔ اگر یہ کما نہیں رہے تو ان کی جائیدادوں میں اضافہ کیسے ہو رہا ہے؟ یہ شاہانہ اندازِ زندگی کو کیسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ طبقہ جسے طعنہ دے رہا ہے کہ ''تم ہمارے ٹیکس پر پلتے ہو‘‘ یہ ملازم طبقہ ہے اور پاکستان میں اگر کوئی سب سے زیادہ دیانتداری سے ٹیکس دے رہا ہے‘ وہ یہی سرکاری ملازم ہے۔ اسے جو تنخواہ ملتی ہے‘ اس میں سے ٹیکس منہا کر لیا جاتا ہے۔ یہ بات غلط نہیں کہ یہ طبقہ سو فیصد ٹیکس دیتا ہے۔ اس طبقے کے ایک نمائندہ‘ پولیس والے کو ٹیکس چوری کی شہرت رکھنے والے طبقے کا کوئی فرد ٹیکس کے حوالے سے تضحیک کا نشانہ بنائے تو اسے خواجہ آصف کا معروف جملہ ضرور یاد دلانا چاہیے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کرپشن میں بیوروکریسی کا پہلا نمبر ہے۔ عرف ِعام میں جسے کرپشن کہتے ہیں وہ ٹیکس چوری سے مختلف عمل ہے۔ سرکاری افسر اگر اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے‘ وہ رشوت لیتا یا سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو یہ کرپشن ہے۔ تاہم یہ کرپشن زیادہ تر اونچی سطح پر ہوتی ہے۔ نچلی سطح پر تو اس کا ناقابلِ ذکر حصہ ہی پہنچتا ہے۔ جس پولیس والے یا عام سرکاری ملازم کو یہ طعنہ سننا پڑتا ہے‘ اس کا حصہ تو بہت کم ہے۔ کرپشن مگر ایک مختلف موضوع ہے۔ میں اپنی بات کو ٹیکس چوری تک محدود رکھنا چاہتا ہوں‘ جس کا سب سے زیادہ ارتکاب تاجر طبقے کی طرف سے ہوتا ہے۔
ٹیکس کے موجودہ نظام کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظام میں پائے جانے والے خلا ہیں جو ٹیکس چوری کا دروازہ کھولتے ہیں۔ اس ظالمانہ نظام کے شکار مگر صرف تاجر نہیں ہیں۔ وہ ملازم پیشہ لوگ بھی ہیں جو بار بار ٹیکس دیتے ہیں۔ پہلی بار اپنی تنخواہ پر۔ پھر بازار سے خریداری کرتے ہیں تو مزید ٹیکس دیتے ہیں۔ بجلی پانی پر ٹیکس دیتے ہیں۔ ٹیکس کا یہ نظام زندگی کے ہر طبقے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ اس میں صنعتکا ر‘ تاجر اور ملازمت پیشہ طبقہ‘ سب شامل ہیں۔ اس لیے ٹیکس کے اس نظام کا کسی طرح دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ٹیکس کا یہ نظام بھی میرا موضوع نہیں۔ میں تو اس متکبرانہ مزاج کی بات کر رہا ہوں جو اس جملے سے جھلک رہا ہے کہ ''تم ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہو‘‘۔
کسی سرکاری دفتر میں بیٹھا کلرک ہو یا چوک میں کھڑا ٹریفک پولیس کا اہلکار‘ یہ سب قانون اور ضابطے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ حکومت اگر انہیں تنخواہ دیتی ہے تو بدلے میں یہ اپنا وقت‘ ہنر اور صلاحیتیں دیتے ہیں۔ پھر یہ کہ قانون عام آدمی کی بھلائی کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہ اس کی پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں تو دراصل عوام کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ اگر موٹر سائیکل سوار کو ہیلمٹ پہننے پر اصرار کرتے ہیں تو مقصود اس کی جان کو بچانا ہے۔ یہ اگر سڑک بند کرتے ہیں تو ریاست کے قانون کے تحت کرتے ہیں۔ ان پر رعب جھاڑنے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کا تو شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان میں سے بعض‘ عام آدمی کو غیرضروری طورپر تنگ کرتے ہیں۔ لیکن اکثریت صرف اپنی سرکاری ذمہ داری نبھا رہی ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ اس رویے کا کوئی جواز نہیں جو مذکورہ وڈیو میں روا رکھا گیا۔ یہ سرا سر تکبر ہے۔
اپنی کوتاہیوں کے باوصف‘ ریاست اور حکومت‘ ان لوگوں کو بہت کچھ دے رہی ہے۔ جس سپاہی کو طعنہ دیا جاتا ہے‘ وہ نہ ہو تو لوگوں کی عزت محفوظ رہے نہ جان اور نہ مال۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ حکومتی نظام کی کوتاہیوں کا ازالہ ہو۔ ریاست اور حکومت سے شکایت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں مگر یہ ٹیکس دینے کی بات تو کم ظرفی کی علامت ہے۔ یہ ٹیکس آپ اس رقم میں سے دیتے ہیں جس کو کمانے کیلئے ریاست آپ کو سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ اس پر تو ریاست اور ملک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ ناشکرا پن ہے کہ آپ کی دولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آپ مسلسل ملک کو گالی بھی دے رہے ہیں۔ ناشکری پست اخلاق کا اظہار ہے۔ آپ کو پولیس والے کا شکر گزار ہونا چاہیے جو ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کی جان و مال کی حفاظت کرتا ہے۔ مجھے ریاست سے بہت سی شکایات ہو سکتی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ریاست کے وجود ہی کو بے معنی ثابت کرنے لگوں اور یہ تاثر دوں کہ جیسے میں ٹیکس دے کر ملک پر کوئی احسان کر رہا ہوں۔ میں اس کا حامی ہوں کہ ریاست عوام کے لیے ہوتی ہے نہ کہ عوام ریاست کے لیے۔ تاہم ٹیکس دینا اور ریاست کے قوانین پر عمل کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ ذمہ داری کی ادائیگی کوئی احسان نہیں ہوتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments