اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''پس آپ اُن کی باتوں پر صبر کیجیے اور طلوع وغروبِ آفتاب سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح پڑھتے رہیے اور رات کے بعض اوقات اور دن کے بعض حصوں میں بھی تسبیح پڑھیے تاکہ آپ راضی ہو جائیں‘‘ (طہٰ: 130)۔ مفسرینِ کرام نے بتایا: اس آیۂ مبارکہ میں حمد وتسبیح سے مراد نمازیں ہیں‘ کیونکہ بعض اوقات جز بول کر کُل مراد لیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حمد وتسبیحات نماز کا حصہ ہیں‘ نیز اس میں نمازوں کے اوقات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ درحقیقت عبادت تو رضائے معبود کیلئے ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرمﷺ کو ان کلمات کے ساتھ اعزاز عطا فرمایا: آپ اس لیے حمد کے ساتھ تسبیحات پڑھیں‘ نمازیں ادا کریں تاکہ آپ راضی ہو جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رضائے الٰہی اور رضائے مصطفیﷺ دو جدا چیزیں نہیں ہیں‘ بلکہ ایک ہی حقیقتِ کاملہ کا نام ہے۔ اللہ کی رضا میں مصطفی کی رضا اور مصطفی کی رضا میں اللہ کی رضا شامل ہے۔ یہ ایک ہی آئینے کے دو رُخ‘ ایک ہی حقیقت کے دو پَرتو اور ایک ہی تجلی کے دو عکس ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا کا مدار رضائے مصطفی اور اطاعتِ الٰہی کا ذریعہ اطاعتِ رسول قرار پایا‘ تو پھر نیکی وہی ہے جو آپﷺ کی ذات سے منسوب ہو اور آپ کی ادائوں سے جانی جائے اور آپ کی سیرت میں ڈھل جائے‘ اس کے سوا نیکی کا ہر مَن پسند معیار فریبِ نفس‘ عُجبِ نفس‘ انا پرستی اور حق سے انحراف ہے۔ حدیث میں ہے: ''حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں: تین افراد ازواجِ مطہرات کے حجرات کی طرف آئے‘ وہ آپﷺ کی عبادت کے معمولات کے بارے میں سوال کرنے لگے‘ پس جب امہات المؤمنین نے انہیں آپﷺ کے معمولات بتا دیے تو انہوں نے ان کو کم سمجھا اور کہا: ''کہاں ہم اور کہاں نبیﷺ! (یعنی ہمیں اس سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے)‘ آپﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے قطعی اور کُلِّی مغفرت کی سند عطا کر رکھی ہے‘‘۔ پس ان میں سے ایک نے کہا: ''اب میں ہمیشہ ساری رات نوافل پڑھا کروں گا‘‘ دوسرے نے کہا: ''اب میں ہمیشہ (نفلی) روزے رکھوں گا اور روزہ کبھی نہیں چھوڑوں گا‘‘ تیسرے نے کہا: ''میں عورتوں سے لاتعلق رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا (تاکہ ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہوں)‘‘۔ دریں اثنا رسول اللہﷺ اُن کی طرف تشریف لائے اور (ان کی باتوں کا حوالہ دے کر) فرمایا: تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں‘ سنو! واللہ! مجھ سے بڑھ کر نہ کسی کے دل میں خشیتِ الٰہی ہے اور نہ مجھ سے کوئی بڑا متقی ہے‘ لیکن (میرا معمول یہ ہے کہ) میں کبھی (نفلی) روزے رکھتا ہوں اور کبھی چھوڑ بھی دیتا ہوں‘ رات کا کچھ حصہ نوافل پڑھتا ہوں اور کچھ وقت کیلئے سو بھی جاتا ہوں اور میں نے عورتوں سے نکاح بھی کر رکھے ہیں (اور ان کے حقوق بھی ادا کرتا ہوں)‘ (یہی میرا شِعار بندگی ہے)‘ سو جو میری سنت سے اعراض کرے (اور خودساختہ معیارِ تقویٰ اختیار کرے)‘ وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘ (بخاری: 5063)۔ مقامِ غور ہے کہ یہ تنبیہ یا وعید گناہگاروں کیلئے نہیں ہے‘ بلکہ اُن کیلئے ہے جو اپنی دانست میں سنتِ مصطفیﷺ سے ہٹ کر مَن پسند معیارِ تقویٰ اختیار کرنا چاہتے تھے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''تقویٰ فقط میری سنت کے اتباع کا نام ہے‘ اس سے اعراض کا نام نہیں ہے‘‘۔
حدیث مبارک میں ہے: ''ملائکہ نبیﷺ کے پاس آئے اور آپ اس وقت سو رہے تھے۔ آپﷺ کے بارے میں مکالمہ کرتے ہوئے بعض نے کہا: ''یہ سو رہے ہیں اور بعض نے کہا: بیشک آنکھ سو رہی ہے اور دل بیدار ہے‘‘۔ پھر بعض نے کہا: ''تمہارے اس صاحب کیلئے ایک مثال ہے‘ سو وہ مثال بیان کرو‘ تو دوسروں نے کہا: ان کی مثال اُس شخص کی سی ہے‘ جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دعوت طعام کا اہتمام کیا اور لوگوں کو اس دعوت کی طرف بلایا‘ پس بعض نے اس دعوت کو قبول کیا‘ گھر میں داخل ہوئے اور طعام تناول کیا اور بعض نے داعی کی پکار پر لبیک نہ کہا‘ وہ گھر میں داخل نہ ہوئے اور دعوتِ طعام سے محروم رہے۔ پھر انہوں نے کہا: اس کی تاویل بیان کرو تاکہ سمجھ میں آئے تو بعض نے کہا: ''بیشک وہ سو رہے ہیں اور بعض نے کہا: بیشک آنکھ سو رہی ہے اور دل بیدار ہے اور بعض نے کہا: یہ گھر جنت ہے اور اس کی طرف دعوت دینے والے محمدﷺ ہیں‘ سو جس نے محمدﷺ کی اطاعت کی تو اس نے (درحقیقت) اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمدﷺ کی نافرمانی کی تو اس نے (درحقیقت) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور محمدﷺ لوگوں کے درمیان حق وباطل کی کسوٹی ہیں‘‘ (مختصر صحیح الامام البخاری: 2698)۔ یہ اس آیت کی تشریح ہے: ''جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے (درحقیقت) اللہ کی اطاعت کی‘‘ (النسآء: 80)۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: ''(موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: پروردگار!) اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی‘ بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا‘ فرمایا: میں جسے چاہوں اپنا عذاب دوں اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے ۔ پس عنقریب میں (دنیا وآخرت کی بھلائی) اُن کیلئے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اُس عظیم رسول نبیِ اُمّی کی پیروی کریں گے جن کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں‘ وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے‘ وہ اُن کیلئے پاک چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیں گے اور وہ بوجھ اور گلے کے طوق جو اُن پر مسلّط ہیں‘ اتار دیں گے‘ پس جو لوگ جو اُن پر ایمان لائیں اور اُنکی تعظیم و نصرت کریں اور اُس نور (قرآنِ کریم) کی پیروی کریں جو اُن کیساتھ اتارا گیا ہے‘ (درحقیقت) وہی لوگ فلاح یافتہ ہیں‘‘ (الاعراف: 156 تا 157)۔
علامہ محمود آلوسی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ''حضرت عبداللہؓ بن عباس بیان کرتے ہیں: دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کیلئے کی تھی‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ سیدنا محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانے والوں اور آپ کے پیروکاروں کیلئے مقدر فرما دی۔ ایک روایت میں ہے: ''جو کچھ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کیلئے مانگا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے بن مانگے امتِ محمد رسول اللہﷺ کیلئے مقدر فرما دیا‘‘ (روح المعانی‘ ج: 5‘ ص: 73)۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: ''اس آیت میں دنیا کی بھلائی سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں شرعی احکام آسان ہوں‘ کیونکہ بنی اسرائیل پر احکام بہت دشوار تھے اور آخرت کی بھلائی یہ ہے کہ کم عمل پر زیادہ اجر عطا کیا جائے‘‘۔ چنانچہ قرآن وحدیث میں ایک نیکی پر دس گنا‘ سات سو گنا‘ چودہ سو گنا اجر کی نوید سنائی گئی ہے اور پھر یہاں تک فرما دیا: ''صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب عطا کیا جائے گا‘‘ (الزمر: 10)‘ نیز فرمایا: ''کافروں کیلئے دنیا کی زندگی مزین کر دی گئی ہے اور وہ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور پرہیزگار لوگ قیامت کے دن اُن (کافروں) سے سربلند ہوں گے اور اللہ جسے چاہے بے حساب عطا فرماتا ہے‘‘ (البقرہ: 212)۔ الاعراف: 157 میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ اپنے رسولِ مکرّمﷺ کو چیزوں کے حلال وحرام قرار دینے کا اختیار عطا کیا ہے‘ اسی کو ہماری فقہی زبان میں ''تَشْرِیْع‘‘ کہتے ہیں‘ یعنی آپﷺ شارعِ مُجاز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے احکامِ شرعیہ کو قرآن تک محدود نہیں فرمایا بلکہ صاحبِ قرآن کو بھی اس کا اختیار دیا ہے اور آپﷺ کا کسی بات کو شرعی حکم کا درجہ دینا دراصل اللہ ہی کا دیا ہوا اختیار ہے؛ چنانچہ جب حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے بعض ممنوع باتوں کا ذکر فرمایا تو ایک عورت نے ان سے کہا: میں نے پورا قرآن پڑھا ہے جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ تو قرآن میں نہیں ہے‘ انہوں نے فرمایا: اگر تم نے پورا قرآن پڑھا ہوتا تو یہ سوال تمہارے ذہن میں پیدا نہ ہوتا‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''اور جوکچھ تمہیں رسول دیں‘ اُسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے باز آ جائو‘‘ (الحشر: 7)‘ یعنی رسول کا حکم اللہ ہی کا حکم ہے‘‘ (بخاری: 4886‘ خلاصہ)۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments