امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں: ''جو ضروریاتِ دین میں سے کسی شے کا منکر ہو‘ باجماعِ مسلمین یقینا قطعاً کافر ہے‘ اگرچہ کروڑ بار کلمہ پڑھے‘ مگر ثابت تو ہوکہ آیا واقعی کسی شخص نے ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کیا ہے‘ اگر ایسا ہے تو علمائے کرام کو اتفاقِ رائے سے فیصلہ صادر کرنا چاہیے تاکہ جماعتی انتشار ختم ہو اور سب یک سُو ہوں‘‘۔ آپ کا یہ مشورہ نہایت صائب ہے کہ دوررس نتائج کے حامل امور میں ثقہ علماء کو انفرادی کے بجائے متفقہ فتوے جاری کرنے چاہئیں تاکہ اگر کہیں ایک عالم سے لغزش ہو جائے تو دوسرا اس کی اصلاح کر لے۔
آپ لکھتے ہیں: ''خدمتِ دین میں مشغول کسی صحیح العقیدہ مسلمان سے تقدیرِ الٰہی سے کوئی لغزش واقع ہو تو اس پر پردہ ڈالنا چاہیے‘ ورنہ لوگ اُن سے بدظن ہوں گے اور اُن کی ذات سے دین کو جو فائدہ پہنچتا ہے اُس کا نقصان ہو گا‘‘۔ بعض لوگ عداوت کی بنا پر کسی کی طرف جھوٹی بات منسوب کر لیتے ہیں‘ اس کی بابت حدیث میں فرمایا: ''جس نے اپنے بھائی کو ایسے گناہ پر عار دلائی جو اُس نے کیا ہی نہیں تو موت سے پہلے یہ شخص خود اس میں مبتلا ہوگا‘‘ (ترمذی: 2505)۔ نبیﷺ نے فرمایا: ''جب ایک شخص اپنے (دینی) بھائی سے کہے: ''اے کافر!‘‘ تو وہ کفر اُن دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹے گا‘‘ (بخاری:6103)۔ یعنی جسے کافر کہا گیا ہے‘ اگر اُس نے واقعی کفر کیا ہے تو یہ فتویٰ درست ہے‘ لیکن اگر اُس نے کفر نہیں کیا اور اسے کافر کہا گیا ہے تو یہ کفر قائل (کہنے والے) کی طرف لوٹ جائے گا۔ امام ابن عابدین شامی کتبِ فقہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: ''جب ایک مسئلے میں کئی وجوہ کفر کا سبب بنیں اور ایک وجہ کفرسے مانع ہوتو مفتی کو اُسی کی طرف مائل ہونا چاہیے‘‘ (ردالمحتار علی الدر المختار‘ج: 4‘ ص: 230)۔
امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: ''ایک شخص نے لکھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘ اِلٰھُنَا مُحَمّدٌ وَّھُوَ مَعْبُوْدٌ جَلَّ شَانُہٗ وَعَزَّ بُرْھَانُہٗ وَرَسُوْلُنَا مُحَمّد وَھُوَ مَحْمُوْدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلّم‘ ان الفاظ کی کوئی تاویل ہو سکتی ہے؟‘‘ آپ نے لکھا: ''ہمارے ائمہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک اسلام کا‘ تو واجب ہے کہ کلام کو اسلام کے احتمال پر محمول کیا جائے‘ جب تک کہ اُس کے خلاف ثابت نہ ہو‘ پہلے جملے میں ''م‘‘ کسرہ (زیر) کے ساتھ ''مُحَمِّد‘‘ پڑھا جائے‘ یعنی اللہ تعالیٰ نبیﷺ کا مُحَمِّد ہے‘ یعنی بہ کثرت اُن کی مدح فرمانے والا ہے‘ اب یہ معنی صحیح ہو گئے اور لفظ بالکل کفر سے نکل گیا اور اگر پہلے مُحَمَّد کو میم کے فتح کے ساتھ پڑھا جائے اور رسول اللہﷺ کا عَلَم مراد لینے کے بجائے لغوی معنی میں لیا جائے تو معنی ہوں گے: ''ہمارا رب بکثرت حمد کیا گیا ہے‘‘۔ تب بھی عنداللہ کفر نہ ہو گا‘ مگر اب نیت کا فرق ہو گا (کہ عَلَم مراد نہ لیا گیا ہو)‘ بہرحال اس کے ناجائز ہونے میں شبہ نہیں ہے‘‘ علامہ ابن عابدین شامی نے لکھا ہے: (ترجمہ) ''محض مُحال معنی کا وہم بھی منع کیلئے کافی ہوتا ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ‘ ج: 14‘ ص: 605)۔ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: ''کسی کلام کے چند معنی بنتے ہیں‘ بعض کفر کی طرف جاتے ہیں اور بعض اسلام کی طرف‘ تو اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی‘ ہاں! اگر معلوم ہو کہ قائل نے کفری معنی ہی کا ارادہ کیا ہے کہ وہ خود کہتا ہے: ''میری مراد یہی ہے‘‘ تو کلام کا (دیگر احتمالات کا) محتمَل ہونا نفع نہ دے گا۔ پس معلوم ہوا کہ کلمۂ کفر ہونے سے قائل کا کافر ہونا ضروری نہیں‘‘ (بہارِ شریعت‘ ج: 9‘ ص: 455‘ بحوالہ ردّ المحتار)۔ البتہ یہ امر ملحوظ رہے کہ مسلمان ہونے کے لیے تمام ضروریاتِ دین پر ایمان لانا ضروری ہے اورضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر کا سبب بن جاتا ہے۔
امام احمد رضا قادری کی ایک انتہائی دقیق عبارت کا خلاصہ آسان الفاظ میں پیشِ خدمت ہے‘ اس سے ان کی فکر میں یُسر اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے‘ لکھتے ہیں: ''اِن اُمور میں یہ قاعدۂ کلیہ ضرور یاد رکھنا چاہیے: فرائض کی ادائیگی اور حرام کاموں سے بچنے کو مخلوق کی خوشنودی پر ترجیح دے اور ان امورمیں کسی کی ناراضی کی پروا نہ کرے۔ دینی حکمت کے تحت مخلوق کی دلداری اور ان کے جذبات کو مستحب کاموں پر ترجیح دے‘ الغرض نفسانیت نہیں بلکہ دینی مصلحت کے تحت بعض صورتوں میں افضل کاموں کو چھوڑا جا سکتا ہے اور بعض اوقات خلافِ اَولیٰ کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ دین کے مُبلّغ کو لوگوں کے درمیان نفرت پیداکرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ وہ لوگوں کیلئے اذیّت اور دل آزاری کا سبب بنے۔ اگر لوگوں میں کوئی ایسا شِعار رائج ہے جو شریعت کے خلاف ہے اور نہ اس میں شرعی عیب ہے‘ تو اپنی پارسائی ظاہر کرنے کیلئے اس پر لوگوں کوملامت نہ کرے۔ اگرکوئی لوگوں کی عام روش سے ہٹ کر الگ راستہ اپناتا ہے تو یہ لوگوں کے دلوں کو دین کی طرف مائل کرنے کے اعلیٰ مقصد کے خلاف ہے۔ خبردار! اس بات کو خوب توجہ سے سنو ! کہ یہ بہت خوبصورت باریک علمی نکتہ اور حکمت کی بات ہے اور دین کے معاملے میں سلامتی اور وقار کا راستہ ہے‘ جس سے بہت سے خشک مزاج زاہد اور باطنی کشف کا دعویٰ کرنے والے غافل اور جاہل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے فاسد گمان میں بڑے دیندار بنتے ہیں‘ لیکن درحقیقت وہ دین کی حکمت اور شریعت کے مقاصد سے بہت دور ہوتے ہیں‘ حکمت ودانش کے اس پیغام کو مضبوطی سے پکڑو‘ یہ چند سطریں ہیں‘ مگر ان میں علم کا بڑا خزانہ ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ‘ جلد: 4‘ ص: 528)۔
امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: ''اس زمانے میں کئی لوگ تفسیر وحدیث سے بے خواندہ ہیں اور اساتذہ کی اجازت کے بغیر عام مجالس اور مساجد میں احادیث بطور وعظ ونصیحت بیان کرتے ہیں‘ حالانکہ انہیں معنی ومطلب سے کچھ واسطہ نہیں ہوتا‘ فقط اردو کتابیں دیکھ کر بیان کرتے ہیں‘ ایسا بیان کرنا ان لوگوں کیلئے شرعاً جائزہے یا نہیں‘‘۔ جواب: حرام ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام! حدیث پاک میں ہے: ''علم کے بغیر میری طرف منسوب کر کے حدیث بیان کرنے میں احتیاط کیا کرو‘ پس جو کوئی مجھ پر دانستہ جھوٹ بولے اور جو قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات کرے تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے‘‘ (ترمذی: 2951)، (فتاویٰ رضوی‘ ج: 23‘ ص: 733)۔ حدیث پاک میں ہے: ''بیشک اللہ لوگوں کے درمیان سے علم کو ایسے ہی نہیں اٹھا لیتا‘ بلکہ علمائے ربّانییّن کے اٹھ جانے سے علم کو اٹھا لیتا ہے حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے تو لوگ جاہلوں کو اپنا دینی پیشوا بناتے ہیں‘ پھر اُن سے مسائل پوچھے جاتے ہیں اور وہ جہالت پر مبنی فتوے دیتے ہیں‘ پس وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں‘‘ (معجم الاوسط: 988)۔
آپ نے لکھا ہے: ''دین کی عظیم تر حکمت کے تحت مستحب اور پسندیدہ کاموں کو بھی چھوڑا جا سکتا ہے‘ حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''عائشہ! اگر تمہاری قوم کفر کو چھوڑ کر نئی نئی اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کی عمارت کو منہدم کر دیتا اور اسے (دوبارہ) بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرتا ‘کیونکہ قریش نے (وسائل کی کمی کے سبب) بیت اللہ کی عمارت کو چھوٹا کر دیا تھا اور اس کی پچھلی جانب دروازہ بناتا‘‘ (بخاری: 1585)۔ اعلانِ نبوت سے پہلے بیت اللہ کی عمارت مخدوش ہو گئی تو قریش نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا اور طے کیا کہ اس پر صرف حلال مال خرچ کیا جائے گا۔ پس حلال مال اتنا نہ تھا کہ بیت اللہ کی پوری عمارت کا احاطہ کیا جاتا لہٰذا انہوں نے عمارت کی حدود کو نسبتاً کم کردیا اور اُس کی نشاندہی کیلئے ایک چھوٹی سی دیوار بنا لی جسے حطیمِ کعبہ کہتے ہیں۔ اب رسول اللہﷺ حجاز کے حاکم بن چکے تھے‘ مکۂ مکرمہ فتح ہو چکا تھا‘ آپﷺ کو وسائل بھی دستیاب تھے‘ آپ کی خواہش بھی تھی‘ لیکن دین کی عظیم تر حکمت کے تحت آپﷺ نے یہ کام نہیں کیا کہ ایسا نہ ہو کہ جب بیت اللہ کی عمارت پر ہتھوڑے اور کدالیں چلیں تو لوگوں کا ایمان متزلزل ہو جائے‘ اس میں بہت بڑا سبق مضمَر ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments