"IYC" (space) message & send to 7575

عوام بھی اتائی ہیں!

اس حقیقت کو اب تسلیم کر لیا جانا چاہیے کہ بہت سے ممالک کے عوام اتائی ہیں۔ ان ممالک میں ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی شامل ہے۔ وہاں کے حکمران ملک کو لوٹ کر کھا گئے‘ ملک نے ترقی بھی اتنی نہیں کی جتنی اسے کرنی چاہیے تھی‘ ملک پر قرضے بھی چڑھ گئے اور معیشت بھی اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی کم و بیش اتنی ہی آبادی والے چین نے کر لی ہے۔ وہی سیاسی قلابازیاں اور حیلے بہانے جو ہر جمہوری ملک میں ہیں‘ بھارت میں بھی بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ ساتھیوں کو نوازنا اور مخالفین کو دبانا بھارتی حکمرانوں کا وتیرہ بن چکا ہے‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف کارڈ سے خوب کھیلا جاتا ہے‘ اسے خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ کارڈ بھارتی سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ترپ کا پتا بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی بھارتی سیاستدان دیکھتا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران اس کی حالت پتلی ہے‘ وہ فوراً کوئی پاکستان مخالف بیان داغ دیتا ہے جس کے نتیجے میں ہندوتوا کا ننگا ناچ شروع ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ووٹوں کا گراف بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہندوتوا (Hindutva) نظریات کے فروغ اور بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے مسلم اور دیگر اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔ مذہب کا استعمال بھی خوب کیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اکثر انتخابات جیتنے کیلئے ووٹرز کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتی ہیں۔ مطلب عوام کو الو بنانا کوئی بھارتی سیاستدانوں سے سیکھے۔
انتخابات کے دوران سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ لوگ انتخابی مہم کے دوران ووٹروں سے ایسے ایسے وعدے کریں گے کہ لوگ یہ سوچ کر حیران ہوتے ہیں کہ اچھا یہ بھی ہو سکتا ہے۔ عوام کو ایسے ایسے خیالی پلاؤ بنا کر کھلائیں گے اور ایسے ایسے آبِ حیات پلائیں گے کہ وہ یہ یقین کر لیں گے کہ یہی تو وہ دیوتا ہیں جن کا انتظار انہیں دہائیوں بلکہ صدیوں سے تھا۔ بجلی اور گیس سستی کر دیں گے‘ مہنگائی کم کر دیں گے‘ پٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں گی‘ آپ کو انصاف آپ کی دہلیز پر ملے گا‘ آپ کے بچوں کو نوکریاں ملیں گی‘ آپ کے ہر طرح کے مسائل حل ہو جائیں گے بس ایک بار ہمیں منتخب کر لیں۔ اور جب وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو معاملہ تو کون اور میں کون والا ہو جاتا ہے۔ انتخابی وعدوں کو تیاگ دیا جاتا ہے اور ایسے ایسے قوانین بنائے جاتے اور پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں کہ جن کا مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ اذیت میں مبتلا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
بھارتی پارلیمنٹ (لوک سبھا) اور ریاستی اسمبلیوں میں ایسے ارکان کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن پر قتل‘ اقدامِ قتل‘ اغوا اور بد عنوانی جیسے سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ مافیا‘ جرائم پیشہ افراد اور سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ قانون کی بالا دستی کو کمزور کرتا ہے۔ ترقیاتی کاموں‘ تعلیم یا صحت کے بجائے سیاسی پارٹیاں مخصوص ذاتوں کے ووٹرز کو راغب کرنے کیلئے پالیسیاں بناتی ہیں۔ یہ عمل معاشرے میں صدیوں پرانی ذات پات کی تقسیم کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید گہرا کر رہا ہے۔
بھارتی سیاست کے کئی اور ایسے منفی پہلو ہیں جو اس کے جمہوری نظام‘ سماجی تانے بانے اور اقتصادی ترقی کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ بھارت میں سیاست پر خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔ بھارت کی کئی بڑی سیاسی جماعتوں میں قیادت ایک ہی خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ اس نظام کی وجہ سے عام اور با صلاحیت مڈل کلاس نوجوانوں کیلئے سیاست میں آگے بڑھنا اور قیادت تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ بھارت میں سیاست پر اثر انداز ہونے کیلئے کارپوریٹ اثر و رسوخ استعمال کیا جاتا ہے اور انتخابی فنڈنگ پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منتخب ہونے والے سیاستدان عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کے بجائے اس کارپوریٹ کلچر کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں۔ بھارتی انتخابات دنیا کے مہنگے ترین انتخابات میں شمار ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بڑے کارپوریٹ گھرانوں سے اربوں روپے کے فنڈز لیتی ہیں۔ جیتنے کے بعد حکومتیں عوام کے بجائے ان سرمایہ داروں کے مفاد میں پالیسیاں بنانے پر مجبور ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری ادارے کمزور ہیں اور سرمایہ دار مزید امیر بنتے چلے جا رہے ہیں۔
میں نے عوام کو اسی لیے اتائی کہا کہ انہیں بالکل کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے۔ نام جمہوریت کا لیا جاتا ہے لیکن اندر کھاتے آمرانہ طرزِ حکومت رائج ہوتی ہے۔ عوام کے حقوق‘ لوگوں کی امنگوں اور آدرشوں کو کرش کیا جاتا ہے۔ انہیں حقوق دلانے کے بہانے ان کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں۔ جارج آرویل کا مشہور اور علامتی ناول اینیمل فارم (Animal Farm) تو آپ نے پڑھا ہی ہو گا۔ یہ ناول کمیونزم اور روسی انقلاب پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔ کہانی مسٹر جونز نامی ایک ظالم کسان کے فارم سے شروع ہوتی ہے جہاں فارم کے جانور تنگ آ کر بغاوت کر دیتے اور انسانوں کو بھگا دیتے ہیں۔ بوڑھا سور جانوروں کو آزادی کا خواب دکھاتا ہے۔ جانور آپسی اتحاد کیلئے سات اصول بناتے ہیں‘ جن میں سب سے اہم اصول یہ ہوتا ہے کہ تمام جانور برابر ہیں؛ لیکن وقت کے ساتھ ہوشیار سور‘ جن میں نپولین اور سنو بال شامل ہیں‘ فارم کی کمان سنبھال لیتے ہیں۔ بعد میں نپولین اپنے حریف سنو بال کو نکال باہر کرتا ہے۔ ظلم کی واپسی: نپولین اور اس کے ساتھی سور خود کو دوسرے جانوروں سے برتر بنا لیتے ہیں۔ وہ انسانوں کی طرح جینے لگتے ہیں۔ پھر پرانے اصول بدل دیے جاتے ہیں۔ نیا اصول بنتا ہے کہ تمام جانور برابر ہیں‘ لیکن کچھ جانور دوسرے جانوروں سے زیادہ برابر ہیں۔ کہانی یہ بتاتی ہے کہ کیسے انقلاب کے بعد طاقتور لوگ خود ظالم بن جاتے ہیں۔ جمہوریت میں بھی یہی کہانی دہرائی جاتی نظر آتی ہے۔ پہلے تو عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگی جاتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سب برابر ہیں۔ لوگوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ برسر اقتدار آ جاتے ہیں تو پھر اشرافیہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور عام آدمی بھی اتنا اتائی ہے کہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ ساری سیاسی چالیں اپنا کلہ مضبوط کرنے کیلئے ہوتی ہیں۔ جب یہ کلہ مضبوط ہو جاتا ہے تو پھر عوام کی حیثیت بھیڑ بکریوں سے زیادہ نہیں رہتی۔ مسلسل یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے اور مسلسل عوام کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ وہ ہر بار جنہیں رہنما سمجھتے وہی ان کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا نام لیا جاتا ہے لیکن حقیقی جمہوریت قائم ہی نہیں ہونے دی جاتی۔ معاملہ وہیں اینیمل فارم والے ایشو تک پہنچ جاتا ہے۔ بھارت کے اتائی عوام کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ نہ جمہوریت ان کی ہے‘ نہ حکومت اور نہ ہی حکمران۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...