"IYC" (space) message & send to 7575

کرکٹ میں آپریشن کلین اَپ

پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف مسلسل اپنا دوسرا ٹیسٹ میچ ہار گئی اور ان یکے بعد دیگرے شکستوں کے بعد ایک بار پھر کرکٹ کے حلقوں میں بیانات اور تنقید کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اب ایک دوسرے پر الزامات دہرائے جائیں گے اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا۔ کرکٹ ٹیم میں ایک بڑے آپریشن کلین اَپ کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ کہا جائے گا کہ اب اہل کھلاڑیوں پر مبنی ٹیم منتخب کی جائے گی۔ ٹیم کے کھلاڑی یہ کہیں گے کہ فلاں فلاں وجہ سے ہم ہار گئے اور یہ کہ اب وہ محنت کریں گے تو اگلا میچ جیت کر دکھائیں گے۔ سابق کرکٹرز نے دورۂ انگلینڈ میں مایوس کن کارکردگی کے ٹیم کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ ٹی ٹونٹی پلیئرز کو انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کیلئے شامل کرنا حیران کن فیصلہ ہے۔ سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ تسلسل کے ساتھ تبدیلیاں کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹیم میں کوئی استحکام نہیں ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن بھی پاکستان ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر حیران ہیں‘ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے سمیت اتنی تبدیلیاں‘ کیا واقعی یہ سب ہوا ہے؟ سابق پاکستانی کرکٹرز عاقب جاوید اور سعید اجمل کی جانب سے بھی کرکٹ کی صورت حال پر تنقید کی گئی ہے۔
انگلینڈ کے ہاتھوں پہلا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد برطانوی میڈیا رپورٹ میں انگلینڈ کے دورے پر موجودہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کو 50 برسوں کی کمزور ترین ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہیڈنگلے کی خشک پچ پر بھی پاکستانی باؤلرز انگلش بلے بازوں کو پریشان نہ کر سکے اور میچ ہار گئے۔ سوال یہ ہے کہ 50 برسوں کی کمزور ترین ٹیم تیار یا منتخب کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس کو ان ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ کھلاڑیوں کو‘ کوچز کو؟ ٹیم سلیکٹرز کو ؟ کہیں نہ کہیں تو خرابی ہے جس کی وجہ سے ہم مسلسل میچز ہارتے جا رہے ہیں۔
چلیں ٹیم کی پرفارمنس کا معاملہ تو ہے ہی‘ اور اس حوالے سے مناسب اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں‘ لیکن اس کے Parallel امام الحق اور محمد رضوان کے جو معاملات چل رہے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔ جب ٹیسٹ میچوں کے دوران اس طرح کے معاملات ہوں گے تو پھر کامیابی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ لارڈز ٹیسٹ میں چوتھے دن 194رنز سے شکست کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو ہنگامی بنیادوں پر واپس پاکستان بھیجنے کے بعد اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں ان کرکٹرز کو بورڈ کی جانب سے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امام الحق کی ماضی میں جعلی انجری کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں پنڈلی کی تکلیف کے بعد دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے پر بورڈ کو عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا ہے اور اس معاملے میں بورڈ میں امام الحق کے خلاف اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے‘ جو اچھی بات ہے۔ دوسری طرف لارڈز ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ایک رن پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانے والے وکٹ کیپر محمد رضوان بھی بورڈ کی سخت نگرانی میں ہیں۔ کہا گیا ہے کہ محمد رضوان پر ڈسپلن کی خلاف ورزی کے حوالے سے بورڈ سخت تحفظات رکھتا ہے اور آنے والے دنوں میں محمد رضوان کو اس حوالے سے بورڈ باز پرس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹیم کا کسی وجہ سے پرفارمنس نہ کر پانا کسی حد تک نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اس طرح کے معاملات کو اگر نظر انداز کیا گیا تو پھر ٹیم میں مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائیں گے۔ پرفارم نہ کرنا برداشت ہو سکتا ہے لیکن جان بوجھ کر ٹیم کو ہروانے کی کوشش کرنا قابلِ برداشت نہیں ہونا چاہیے۔
میرے ذاتی خیال میں کسی کے مستعفی ہو جانے یا پاداش کے طور پر ایک عہدہ لے کر دوسرا عہدہ دے دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ جو پرفارم نہیں کر پا رہا‘ یا جو جان بوجھ کر پرفارم نہیں کرتا اس کے لیے ٹیم میں جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ جب زیادہ لاڈ لڈائے جاتے ہیں تو کھلاڑی خود کو ٹیم کے لیے ناگزیر سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں اور جان بوجھ کر آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ میرا چیئرمین پی سی بی محسن نقوی صاحب کو مشورہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں تجربہ کار افراد پر مبنی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو میچوں کے دوران کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج اور کارکردگی اور آؤٹ ہونے کے طریقے پر گہری نظر رکھے۔ یہ باڈی نہ صرف خود کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر نظر رکھے بلکہ میچوں کی ریکادڑنگز دیکھ کر بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے اور پھر اس کمیٹی کی تجاویز کو سامنے رکھ کر ٹیم سلیکٹ کی جائے۔ جس طرح امام الحق اور محمد رضوان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا‘ اسی طرح سب کھلاڑیوں پر نظر رکھی جائے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کا سیٹ اَپ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے میں ممد ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ جو کنٹریکٹ سائن کرتا ہے اس میں کھلاڑیوں کے لیے مختلف میچوں کی وڈیوز کے ذریعے مخالف ٹیم کی کمزوریاں آشکار کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اس ٹیم کے خلاف میچ میں ایک اچھی اور میچ وننگ سٹرٹیجی بنا سکے۔ تیسرا یہ کہ بیٹنگ اور باؤلنگ‘ دونوں کوچز کو کھلاڑیوں کو یہ بتانا اور سکھانا چاہیے کہ ٹیم اگر مسائل کا شکار ہو جائے یعنی وکٹیں مسلسل گرنا شروع ہو جائیں تو پھر بعد میں آنے والے کھلاڑیوں کو وکٹ پر رکنا کیسے ہے۔ چونکہ کرکٹ بائی چانس ہوتی ہے‘ اس لیے میچ کے دوران کوئی بھی ٹیم مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔ جیتے گی وہی ٹیم ہے جو مسائل کے دوران بھی اپنے ہوش قائم رکھتی ہے۔ چوتھا یہ کہ باؤلرز کو بھی کچھ نہ کچھ بیٹنگ ضرور آنی چاہیے تاکہ نامساعد حالات پیدا ہوں تو ٹیل اینڈر ریت کی دیوار ثابت نہ ہوں بلکہ مخالف ٹیم کے سامنے ڈٹ جائیں اور اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر سکیں۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ اس ساری صورت حال کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی پُر امید ہیں اور انہوں نے ٹیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے بھی حالات ہیں یہی ٹیم پرفارم کرے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ لڑکوں پر اعتماد ہے‘ خود اعتمادی ہو تو بڑے سے بڑا امتحان بھی پاس ہو جاتا ہے‘ جیسے بھی حالات ہیں یہی ٹیم پرفارم کرے گی‘ تاہم وہ مستقبل میں نوجوان اور جونیئر کھلاڑیوں کو آگے لانے کے خواہش مند ہیں‘جو مستقبل میں ٹیم کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔ اس سلسلے میں چیئر مین نے مستقبل میں انڈر 19اور جونیئر کرکٹرز کو زیادہ سے زیادہ مواقع کے ساتھ مکمل اعتماد دینے کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیم کو آگے بڑھانے اور بھرپور پرفارمنس کے لیے تیار کرنے کے لیے ایسے ہی حوصلے‘ عزم اور یقین محکم کی ضرورت ہے۔ میں تو محسن نقوی کے اپنے ملک کے کھلاڑیوں پر اعتماد کی اس شدت کو دیکھ کر حیران ہوں۔ یہ اعتماد ٹیم کو ضرور کامران کر دے گا اور جلد پاکستان کی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل ہو جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...