بانی پی ٹی آئی عمران خان ہسپتال لے جائے گئے لیکن اُس ہسپتال نہیں جہاں لے جانے کا حکم عدالت نے دیا تھا بلکہ ایک دوسرے ہسپتال۔ اس پر تحریک انصاف مُصر ہے کہ حکومت توہینِ عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔ تحریک انصاف نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی ہسپتال لے جائے گئے اور پھر واپس جیل پہنچا دیے گئے۔ اس پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ عدالت نے ان کے صرف چیک اَپ کا حکم دیا تھا یا انہیں ہسپتال میں رکھنے کیلئے کہا تھا؟ معاملہ جتنے منہ اتنی باتیں والا ہو تو پھر سازشی تھیوریاں بھی جنم لیتی ہیں اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارا ملک سازشی تھیوریوں کے حوالے سے خاصا خود کفیل ہے۔ کہیں کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی رو نما ہو جائے تو سازشی تھیوریاں تیار کرنے والی فیکٹریوں کے دہانے کھل جاتے ہیں اور پھر امکانات‘ اندیشوں اور خدشات پر مبنی تھیوریوں کی لائن لگ جاتی ہے۔عدالت کی جانب سے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد بھی بہت سی افواہیں یا سازشی تھیوریاں پیش کی جا رہی ہیں۔ آئیے ان تھیوریوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
پہلی تھیوری: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو علاج کے حوالے سے ریلیف دینے کا مقصد حکمران جماعتوں پر آئین میں اٹھائیسوں ترمیم کیلئے دباؤ بڑھانا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور نئے انتظامی ڈھانچے کی تجاویز شامل ہیں یعنی ملک کو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے سمیت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا جامع فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کیلئے کسی کو بھی دباؤ ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟
دوسری تھیوری وفاقی حکومت کی سوچ پر مبنی ہے اور حکومت نے اس سوچ کے تحت ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرائی جو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض لگا کر واپس کر دی گئی۔ حکومت نے نظر ثانی درخواست پھر جمع کرا دی ۔ وفاقی حکومت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جیل قوانین میں درج طریق کار کو مد نظر نہیں رکھا جس کے باعث منصفانہ ٹرائل اور مقررہ قانونی طریق کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری مرحلے پر درخواست گزار (سابق وزیراعظم) کو سنے بغیر ایسا حتمی نوعیت کا ریلیف دیا گیا ہے جس کے باعث مساوی سلوک کے آئینی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر نے جیل قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی قیدی کا علاج سرکاری ہسپتال میں کیا جانا لازم ہے‘ اِلا یہ کہ میڈیکل بورڈ یہ قرار دے کہ مطلوبہ طبی سہولت سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہیں ہے۔ یہ حکومت کی تھیوری ہے۔ اس پر عدالت کیا جواب دیتی ہے‘ اس کیلئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔
تیسری سازشی تھیوری یہ ہے کہ عمران خان بہت زیادہ بیمار ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہو جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہ آئے کہ اس نے انہیں جیل سے باہر نہیں آنے دیا۔ چوتھی سازشی تھیوری یہ گردش میں ہے کہ ہسپتال منتقلی کا مقصد دراصل علاج کی آڑ میں عمران خان کو سخت سکیورٹی حصار سے نکالنا یا کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہے۔ پانچویں سازشی تھیوری یہ ہے کہ ان کی ہسپتال منتقلی کے پیچھے کوئی خفیہ ڈیل یا بیک ڈور رابطے کارفرما ہیں تاکہ عمران خان کو سیاست سے وقتی طور پر دور کر کے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیے جانے کے بعد اس تھیوری کو زیادہ شدومد کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ چھٹی سازشی تھیوری یہ ہے کہ عمران خان کی مبینہ خراب صحت کو جواز بنا کر ان کے حامیوں اور عوام میں ہمدردی کی لہر پیدا کی جا رہی ہے تاکہ تحریک انصاف کیلئے سڑکوں پر نکلنے یا احتجاج کی کوئی نئی تحریک چلانا آسان ہو جائے۔ اس طرح پی ٹی آئی کا ایک بار پھر ناطقہ بند کیا جائے یا پھر اسے سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔
ساتویں سازشی تھیوری یہ گردش کر رہی ہے کہ بالآخر یہ احساس کر لیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے‘ اس لیے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سنا کر اس زیادتی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ آٹھویں سازشی تھیوری یہ تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ دراصل عمران خان کو مکمل ریلیف فراہم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے اور اب وہ ہسپتال سے صحت یاب ہو کر گھر جائیں گے یا کہیں اور منتقل ہو جائیں گے یا کر دیے جائیں گے۔ نویں سازشی تھیوری یہ ہے کہ جون میں جولائی اور اگست کو حکومت کی تبدیلی کے لیے اہم قرار دینے کی خبریں سچ ثابت ہونا شروع ہو گئی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دے کر اقتدار کی تبدیلی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اگست کا مہینہ اس حوالے سے اہم بن گیا ہے۔ دسویں سازشی تھیوری یہ ہے کہ عمران خان کو صحت یاب ہونے کے بعد بالرضا یا بالجبر بیرونِ ملک شفٹ کر دیا جائے گا۔
سب دیکھ رہے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر سازشی تھیوریاں غلط ثابت ہوئی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کسی محفوظ مقام پر تو منتقل نہیں ہوئے‘ واپس جیل پہنچا دیے گئے ہیں۔ آگے کیا ہوتا ہے‘ یہ بعد میں پتا چلے گا۔ البتہ ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے سیاسی اور عوامی حلقوں اور اقتدار کے ایوانوں میں گہری ہلچل پیدا کر دی ہے۔ چار سُو کھلبلی سی مچی نظر آتی ہے اور آس پاس بکھرے ہوئے سوالات ہی سوالات‘ جن کے جوابات کسی کے پاس نہیں ہیں سوائے اُن کے جو اربابِ بست و کشاد ہیں۔ حتیٰ کہ حکومتی ایوانوں میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ کیا ملک میں واقعی کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ آئیے ان سوالات کے جواب وقت پر چھوڑ دیتے ہیں۔
میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارا ملک غالباً جمہوری سیاست سے متشدد سیاست کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ جمہوری سیاست میں دلیل اور اصولوں کی بنیاد پر بات کی جاتی ہے جبکہ متشدد سیاست میں جمہوری اصولوں اور مکالمے کے بجائے طاقت‘ دباؤ اور احتجاجی تحریکوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں مخالفین کو ملک دشمن یا غدار سمجھنے کا بیانیہ عام ہو چکا ہے جس سے کارکنوں میں جذباتی اور جسمانی تشدد کی فضا پروان چڑھتی ہے۔ متشدد سیاست کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا ہے‘ معاشی ترقی رک جاتی ہے اور جمہوری اقدار کمزور ہوتی ہیں‘ عوام کا نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا تشخص متاثر ہوتا ہے۔یہ بھی مان لینا چاہیے کہ سیاست کو متشدد کرنے میں گھڑی جانے والی سازشی تھیوریوں کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ سازشی تھیوری بات کو بتنگڑ بنا دیتی ہے۔ معاملات حساس نوعیت کے ہوں تو سازشی تھیوریاں جلتی پر تیل کا کام دیتی ہیں جبکہ حالات متقاضی ہیں کہ نفرت اور اختلافات کی جلتی آگ کو بجھایا جائے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سازشی تھیوریوں کے بارے باعلم ضرور رہا جائے لیکن ان پر توجہ کم ہی دی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments