کسی شاعر نے آسمانی بجلی سے کہا تھا:
اک نہ ڈگیں پنگھوڑیاں اُتے
تے اک نہ ڈگیں کلے مسافر اُتے
یعنی ایک تو بچوں کے پالنے پر نہ گرنا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور خود کو بچانے کے قابل نہیں ہوتے‘ دوسرا اکیلے مسافر پر نہ گرنا کہ وہ وطن سے دور ہوتا ہے اور وطن والوں کو اسکی واپسی کی آس ہوتی ہے۔ ممکن ہے آسمانی بجلی نے شاعر کی بات مان لی ہو لیکن پمز والوں نے شاعر کی نصیحت کو نظر انداز کیا اور پنگھوڑوں پر بجلی گرا دی۔ ایک ساتھ کئی معصوم روحیں عالم برزخ کی طرف پرواز کر گئیں۔
پمز ہسپتال اسلام آباد میں جو قیامت برپا ہونا تھی ہو چکی‘ اس کے باوجود یقین نہیں آ رہا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ کیا ہسپتال میں پیدا ہونے والے نومولودوں کی دنیا میں سانسیں ہی اتنی لکھی تھیں یا ہم نے‘ کرپشن کی بنیادوں پر قائم اس نظام نے ان سے زندگیاں چھین لیں‘ انہیں بڑا ہونے‘ فروغ پانے اور اپنے اپنے آدرش پالنے کا موقع ہی فراہم نہ کیا۔ عدم آباد کی منزلوں کے مسافر بن چکے 14 بچوں کا قاتل کون ہے؟ یہ تو ایک سے زیادہ انکوائری کمیٹیاں تلاش کر ہی لیں گی‘ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کمیٹیاں جو نتائج مرتب کریں گی حقیقتاً وہی سچ ہو گا؟ قابل اجمیری صاحب کے دو اشعار یاد آ رہے ہیں:
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
آپ ہو سکتا ہے میری اس بات سے اتفاق کریں کہ پمز ہسپتال کا سانحہ بھی یکدم رونما نہیں ہوا۔ اس کی تیاری اسی وقت سے شروع ہو گئی تھی جب ہسپتال جیسے حساس ادارے میں فائر سیفٹی کا اہتمام کرنے کے ذمہ داران نے اپنا یہ فرض پورا نہیں کیا تھا۔ جب ہنگامی انخلا یقینی بنانے کے ذمہ داروں نے دروازوں پر تالے لگا دیے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کی ضرورت پر کوئی توجہ نہ دی۔ جب ہسپتال کو گزشتہ تین برسوں میں ملنے والے 22ارب روپے کے فنڈز میں سے فائر سیفٹی کے نظام پر چند کروڑ روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے۔ جب ایک ماہ قبل اسی ہسپتال میں آتشزدگی کا ایک واقعہ رونما ہونے کے باوجود مزید واقعات کے سد باب کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا گیا۔ اتنی زیادہ غفلت کے بعد کسی سانحے کو رونما ہونے سے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
آتشزدگی کے واقعات ویسے ہی بڑے خوفناک ہوتے ہیں کہ ذرا سی انگلی یا ہاتھ جل جائے تو ہفتوں اس کے اثرات محسوس ہوتے رہتے ہیں چہ جائیکہ پورا جسم ہی آگ کی لپیٹ میں آ جائے۔ ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات زیادہ حساس نوعیت کے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں مریض علاج کیلئے داخل ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر آگ لگنے کی صورت میں خود کو بچا پانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ پھر کہیں آگ لگ جائے تو ہر کسی کو خود کو بچانے کی فکر لاحق ہوتی ہے‘ ایسی صورت میں مریضوں کو بچانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے‘ چنانچہ اس مسئلے کا ٹھوس حل ایسے انتظامات ہیں جو آتشزدگی کے خدشات کو ستر‘ اسی فیصد سے دس بیس فیصد پر لے آئیں۔
یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی اس وقت متحرک ہوتا ہے جب کوئی بڑا سانحہ یا حادثہ ہو جاتا ہے جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں پہلے سے طے شدہ پروٹوکول‘ اصول و ضوابط اور حفاظتی انتظامات کا نفاذ اس شدو مد کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ وہاں ایسے سانحات نہیں ہوتے۔ وہاں غفلت شعاری کا رواج نہیں‘ ہر چیز پر چیک رکھنے کا چلن ہے۔ وہاں انتظامیہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی ہسپتال کی لفٹیں کتنی کارگر ہیں‘ اس کی میعاد کتنی ہے‘ ہسپتال کی مشینیں کب ایکسپائر ہوں گی‘ یہ کب تک تبدیل ہونی چاہئیں‘ اور کب کب میڈیکل سے وابستہ آلات کی مینٹینس کرنا ضروری ہو گا۔ وہاں ہنگامی اخراج کیلئے مختص دروازوں کو مقفل نہیں کیا جاتا بلکہ مستقلاً چالو حالت میں رکھا جاتا ہے کہ نا جانے کب ان کو کھولنے اور استعمال کرنے کی ضرورت پیش آ جائے۔
یہ بات غیرضروری اور سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے کہ پمز میں نومولودوں کی اموات جھلسنے سے نہیں بلکہ دھواں اور کالک سانس کے ذریعے جسم میں جانے سے ہوئیں‘ اصل بات اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ وہ روحیں گھائل ہوئی ہیں جو خود کو بچانے کا یارا بھی نہیں رکھتی تھیں۔ زندگیاں تو ضائع ہو گئیں دھوئیں سے گئیں یا جھلسنے سے‘ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ بات بھی غیرضروری سی لگتی ہے کہ ہسپتالوں میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی تاکہ آتشزدگی کے واقعات کو روکا جا سکے۔ یہ بات درست ہے کہ دیگر پبلک مقامات کی طرح ہسپتالوں میں بھی سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے لیکن اصل توجہ ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے برقی آلات کیلئے کی گئی وائرنگ اور اس وائرنگ میں استعمال ہونے والے برقی تاروں پر مبذول کی جانی چاہیے۔
کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ بجلی کے غیرمعیاری اور پرانے تاروں کی وجہ سے ملک میں اکثر خطرناک آتشزدگی اور شارٹ سرکٹ کے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں‘ جن سے قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوتا ہے؟ مقررہ معیار سے کم تر تار زیادہ لوڈ برداشت نہیں کر سکتے۔ زیادہ لوڈ پڑے تو یہ تار پہلے گرم ہوتے ہیں اور پھر ان پر چڑھے پلاسٹک یا ربڑ میں آگ لگ جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پمز ہسپتال میں بھی اسی طرح آگ لگی ہو۔ ضروری ہے کہ گھروں اور دفاتر میں ہمیشہ معیاری اور منظور شدہ موٹائی کے تاروں کا استعمال یقینی بنایا جائے اور پرانے یا بوسیدہ تاروں کو فوراً تبدیل کیا جائے۔ ہسپتالوں کے سلسلے میں ان ضوابط کا اطلاق زیادہ شدت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ دیکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ بجلی کے ایسے غیرمعیاری اور ناقص تار تیار کہاں ہوتے ہیں اور پھر فروخت کیلئے مارکیٹ میں کیسے پہنچ جاتے ہیں۔ معیاری اشیائے صرف عوام تک پہنچانے کے ذمہ دار ادارے اور افراد کہاں سوئے پڑے ہیں؟
کالم تکمیل کے آخری مراحل میں تھا کہ سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی۔ رپورٹ میں پمز ہسپتال میں علاج اور ناکافی سہولیات کا ذکر موجود ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ رپورٹ میں وزیراعظم کو ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں پمز ہسپتال کے اندر علاج معالجے اور فائر سیفٹی کی ناکافی سہولیات کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ وہاں کوئی بھی حفاظتی بندوبست عالمی معیار کے مطابق نہیں تھا۔جس ہسپتال کو حکومت ہر سال اربوں روپے فراہم کرتی ہو اس کی یہ حالت ہے تو یہ اندازہ لگانے کیلئے ذہن پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں ہو گی کہ باقی سرکاری ہسپتالوں کی حالت کیا ہو گی۔ میری نظر میں دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ سانحہ پمز کے ذمہ داران کو کڑی سزا ملنی چاہیے اور یہ سزا ان کی پمز سے معطلی اور کسی اور ہسپتال میں تعیناتی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کے میڈیکل لائسنس منسوخ کیے جانے چاہئیں اور تاحیات کسی میڈیکل عہدے کیلئے نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔ دوسرا تمام سرکاری ہسپتالوں کی اوورہالنگ ہونی چاہیے۔ خفیہ طریقے سے پتا چلایا جانا چاہیے کہ باقی سرکاری ہسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے اور اصلاحِ احوال کیسے ممکن ہے۔ یہ کام پمز جیسا ایک اور سانحہ رونما ہونے سے پہلے ہو جائے تو بہتر ہو گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments