امریکہ ایران جنگ کے تناظر میں خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں واقع باب المندب کی بندشوں کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی منقطع ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے استعمال اور سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری سے متعلق اہم اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کی تفصیل آپ نے پڑھ اور سمجھ لی ہو گی۔ حکومت نے یہ اقدام عوام کو مستقبل قریب میں ممکنہ طور پر پیش آنے والی مشکلات سے بچانے کے لیے کیا ہے۔
جب بھی کسی ملک یا قوم کو اجتماعی چیلنج درپیش ہوتے ہیں تو ان کا مقابلہ اسی طرح متحدہ‘ متفقہ اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ قومی یا اجتماعی سطح پر وسائل محدود ہوتے ہیں‘ اس لیے ان کا بے دریغ استعمال بحران پیدا کرتا ہے۔ جب حالات مخدوش ہوں تو ایسا بحران شدید تر ہو سکتا ہے۔ جب ایک پورا معاشرہ بچت اور سادگی کو اپنا شعار بناتا ہے تو ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور کم وسائل سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔ قومیں درپیش چیلنجز کا مقابلہ حالات کے درست ادراک‘ علم و تحقیق‘ باہمی اتحاد اور فکری بیداری کے ذریعے کرتی ہیں۔ اندرونی اختلافات کو بھلا کر اجتماعی مفادات اور اقدار کو فروغ دینا بحرانوں سے نکلنے میں مدد دیتا ہے۔ جذباتی رویوں کے بجائے حقائق کی تفہیم اور عصری تقاضوں کے مطابق لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ مسائل کا حل طاقت کے بجائے علمی مباحث‘ مکالمے اور فکری بصیرت سے تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس عمل کی ابتدا اشرافیہ سے ہوتی ہے اور حکمرانوں کو دیکھ کر عوام اپنا رنگ ڈھنگ تبدیل کرتے ہیں۔ اصل کفایت شعاری یہ ہے کہ وزرا اور مشیروں کے شاہانہ پروٹوکول‘ فضول خرچیوں اور سرکاری محکموں کی عیاشیوں پر تالا لگایا جائے مگر مجال ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے مقتدر طبقات کے ماتھے پر وسائل کے ضیاع پر کبھی کوئی شکن اُبھری ہو۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کفایت شعاری مہم شروع کی گئی ہے‘ اس سے پہلے جب کورونا کی وبا پھیلی تھی تو بھی اجتماعی سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں‘ حتیٰ کہ سافٹ اور پھر ہارڈ لاک ڈاؤن بھی لگایا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ پاکستان میں اس وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا گیا اور وبا کے نتیجے میں اموات کی رفتار محدود ہو گئی۔ اس سے پہلے جب ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے تو بھی پوری قوم نے مل کر دہشت گردوں کا سامنا کیا تھا۔ اس لیے کفایت شعاری مہم کی وجہ سے کچھ کٹھنائیاں تو پیش آئیں گی لیکن اس کے نتیجے میں بہت سی آسانیاں بھی ہاتھ آئیں گی۔ اگر کفایت شعاری مہم پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہو سکا تو تیل کے جو ذخائر موجود ہیں وہ چند دنوں یا چند ہفتوں میں صرف ہو جائیں گے اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے راستے نہ کھلے‘ یعنی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طوالت اختیار کر گئی تو پھر معاملہ لاک ڈاؤن تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اب یہ سوچنا آپ کا کام ہے کہ کفایت شعاری مہم کا ساتھ دینا ہے یا پھر مکمل لاک ڈاؤن کا انتظار کرنا ہے؟
کفایت شعاری مہم کے حوالے سے چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے ایک اہم معاملے کی طرف حکومت کی توجہ دلانا چاہوں گا۔ عرض ہے کہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے پٹرول ایک سو روپے فی لٹر سستا کرنے کا فائدہ تمام صارفین تک پہنچایا جائے کیونکہ سننے میں آیا کہ 2011ء سے پہلے رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کو پٹرول سبسڈی نہیں دی جا رہی تھی اور ان شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی جن کے پاس 2011ء یا اس سے پرانے ماڈل کی گاڑیاں ہیں۔ ایک روزنامہ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کی پٹرول سبسڈی سکیم میں 2011ء سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکلز اہل نہ ہونے پر سوشل میڈیاصارفین نے فیس بک‘ ایکس (سابق ٹویٹر) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اب خبر ملی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف سکیم میں عوام کو مزید سہولت فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت دی ہے اور انہوں نے سکیم میں 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو فوری شامل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب یکم جنوری 2006ء کے بعد رجسٹرڈ تمام موٹر سائیکلیں اور رکشے فیول ریلیف سکیم میں رجسٹریشن کے لیے اہل ہوں گے جس کے بعد ریلیف سکیم سے 20سال پرانی موٹر سائیکل اور رکشے چلانے والے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ اس لیے عوام کے Behalf پر جناب وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ پٹرول کے تمام چھوٹے صارفین کو غیر مشروط سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ ان کی زندگیوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے جو مالی مسائل پیدا ہو رہے ہیں‘ ان میں قدرے کمی واقع ہو۔ میرے خیال میں اس سکیم کی گنجائش میں مزید کشادگی پیدا کی جانی چاہیے اور رجسٹریشن کی حد یکم جنوری 2001ء مقرر کی جانی چاہیے۔
اب آتے ہیں تجاویز کی طرف۔ سب سے پہلے تو مفت پبلک ٹرانسپورٹ سکیم کا تین ماہ کے لیے دوبارہ اجرا کیا جانا چاہیے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ خاصی بڑی تعداد میں موٹر سائیکل اور گاڑیاں سڑکوں پر نہیں آئیں گی کیونکہ مہنگائی کے اس زمانے میں لوگ مفت پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں گے۔50فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کے ساتھ پُول شیئرنگ یا بڑی شخصیات کے لیے ایک سے زائد گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے اور دفاتر میں بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے ہفتے میں کم از کم دو دن ورک فرام ہوم والی پالیسی دوبارہ نافذ کی جانی چاہیے۔ مفت بجلی‘ گیس اور مفت پٹرول جیسی مراعات کو فوری طور پر ختم کر کے ان کو تنخواہ کے پیکیج کا حصہ بنایا جائے تاکہ فضول خرچی کا خاتمہ ہو۔
حکومت کی کفایت شعاری پالیسی محض چند سرکاری گاڑیوں‘ دعوتوں یا مراعات میں کمی کا نام نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے محدود وسائل کو کس طرح عوامی مفاد کیلئے استعمال کرتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہے‘ محصولات مطلوبہ سطح تک نہ پہنچیں اور عام آدمی مہنگائی سے دوچار ہو‘ وہاں حکومتی اخراجات میں نظم و ضبط ناگزیر ہے۔ جیسا کہ تمہیدی سطور میں عرض کیا کفایت شعاری کی پالیسی اسی وقت معتبر ہو گی جب اس کا اطلاق حکمران طبقے سے شروع ہو اور اس کے نتائج شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ قوم کو محض اعلانات نہیں‘ اعداد و شمار اور عملی نتائج درکار ہیں۔ ریاست کی طاقت اس کے حجم میں نہیں‘ وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال میں ہے۔
خوش امیدی ہے کہ امتحان کے اس دور میں حکمران اور عوام‘ سبھی ہوش مندی کا مظاہرہ کریں گے اور حالات کو مکمل لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانے دیں گے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات غماز ہیں کہ یہ تناؤ ابھی جلدی ختم ہونے والا نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments