سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل مرحوم نے 2015ء میں ایک انٹرویو میں پیش گوئی کرتے ہوئے یمن کو سعودی عرب سمیت پاکستان اور ترکیہ کیلئے پھندا کہا تھا کہ جس کے ذریعے امت مسلمہ کو ٹریپ کیا جائے گا۔ حوثی باغیوں کے امریکہ سے حالیہ خفیہ مذاکرات نے 11 برس بعد جنرل حمید گل مرحوم کی پیش گوئی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ یہ خفیہ ملاقات مسقط میں امریکی سفارت خانے میں ہوئی۔مذکورہ مذاکرات میں امریکیوں و صہیونیوں کو ان کے بحری جہازوں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ سعودی عرب کی تیل بردار جہازوں کو استثنیٰ نہیں ملے گا۔یہ افسوسناک اورقابلِ مذمت ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والے حوثی مسلم دشمنوں کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
میں نے بارہا یہ سوالات اٹھائے کہ ایران کی طویل ناکہ بندی کے باوجود حوثی باغیوں کے پاس اسلحہ کا وافر ذخیرہ کیوں ہے؟ سعودی عرب کے اندر اہداف کو درست ٹارگٹ بنانے کیلئے کہاں سے معلومات فراہم کی جارہی ہیں؟ خودکش ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کی معاشی شہ رگ کی حامل 1200کلومیٹر ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟ امت مسلمہ کے خلاف کسی مذموم منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف واشنگٹن نے براہ راست جنگ میں اترنے سے انکار کر دیا ہے ۔بنیادی سوال تو یہ ہے کہ وہ اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کہاں گئے؟ صدر ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار 2017ء میں ٹرمپ کے دورۂ ریاض کے دوران 350 بلین ڈالر کے معاہدے سے جولائی 2026ء کے 1.96بلین ڈالر کے معاہدے تک امریکہ کا اسلحہ ‘جدید دفاعی ٹیکنالوجی کیوں مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے مبینہ حملے کو روک نہ سکے؟ کیسے حوثی میزائلوں نے 810کلومیٹر کا سفر طے کر لیا ؟اس کے پیچھے کو نسی دجالی قوتیں کار فرما ہیں جو حیلے بہانوں سے مسلمانوں کے عقائد اور مقدس مقامات کی طرف باقاعدہ پلاننگ کے تحت پیش قدمی کر رہی ہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ حوثیوں نے تیزی سے پریم جزیرے کے ساتھ بحیرہ احمر سے جڑی ہوئی یمن کی مکمل ساحلی پٹی کو بھی قبضے میں لے لیا۔
کیا یہ سعودی عرب کو اقتصادی و عسکری دباؤ میں لانے کی سازش رچائی گئی ہے کہ وہ ابراہیم اکارڈ میں شامل ہو جائے اور امریکی لاڈلی ناجائز ریاست کو تسلیم کر لیا جائے اور اس کے بعد دیگر مسلم ممالک اس نام نہاد معاہدے میں جوق در جوق داخل ہوتے جائیں؟میں اپنے کالم کے ذریعے یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ سعودیہ سے کیااس انکار کا بدلہ لیا جارہا ہے جب اس نے ٹرمپ کے آپریشن فریڈم میں اپنی فضائی و بحری حدود دینے سے کر دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ فلسطین کی آزادی کیلئے آواز اٹھانے پر اشتعال انگیز چال چلی گئی ہے۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس کشیدگی کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ امریکہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔سعودی عرب امریکہ کیلئے سونے کی چڑیا ہے۔اس نے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے پر سعودی عرب کا ساتھ دینے کے بجائے دفاعی ڈیل کے تحت 24.3 ملین ڈالر کی ففتھ جنریشن ایف35کے 48یونٹس کی خریداری کی منظوری دیدی ہے؛ چنانچہ اب تک کے حالات کی کڑیاں ملا کر دیکھیے تو یہ کہنا بے جا نہیں کہ اب یہ پراکسی کس کی ہوئی؟موجودہ گمبھیر صورتحال میں فائدہ کون اٹھا رہا ہے ؟ امریکہ اور دجالی ریاست اسرائیل۔خسارے میں مسلمان ہیں چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی۔ سعودی ولی عہد نے امریکی صدر سے براہِ راست مداخلت کی درخواست کی لیکن ٹرمپ نے جنگ میں مداخلت سے گریز کرتے ہوئے مشرق وسطی کے دفاع کے لیے ذمہ دار سینٹرل کمانڈ کے وساطت سے سعودی عرب اسرائیل کے درمیان حوثی حملہ آوروں کے خلاف انٹیلی جنس کی فراہمی پر مذاکرات کا اہتمام کیا ‘ برطانیہ سے بھی مدد کی اپیل کی گئی مگر برطانوی حکومت نے بھی سعودی عرب کو جنگ میں مدد کے لیے مشیروں پر مشتمل ایک ٹیم بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی‘سعودی ولی عہد نے مصر کا دورہ بھی کیا‘ یاد رہے مصر 2015ء میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والے عرب کولیشن کا رکن بھی ہے۔
یمن کی سعودی عرب کے ساتھ کئی دہائیوں سے کشیدگی جاری ہے۔آخر یمن کا مسئلہ کیا ہے ؟حوثی چاہتے کیا ہیں ؟ اس طرح کے بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔یمن جنگ دراصل ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کی توسیع ہے جب تک اس تنازعہ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا یہ جنگ نہیں رکے گی کیونکہ اس کا مقصد پورے مشرقِ وسطیٰ کو اس آگ میں دھکیلنا ہے۔ امریکہ سمیت یورپ کی سرد مہری نے خلیجی خطے کو مایوس کیا ہے۔خلیج کے دفاع کیلئے پرانی روایتی سکیورٹی چھتری پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔سعودی عرب پر حملے کوئی جھڑپ نہیں یہ سعودی اقتصادی تنصیبات و امن کی تباہی کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کی سرزمین پر دبائو بڑھانے کی مذموم پراکسی جنگ ہے۔ پاکستان میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مکہ معاہدہ پر عمل کیوں نہیں ہورہا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کر دیا ہے کہ دفاعی وعدوں پر عملدرآمد کا طریقہ عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔مکہ مکرمہ ہماری ریڈ لائن ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔خانہ کعبہ اللہ کے گھر کے تحفظ و حرمت کیلئے میں ہی نہیں میری جماعت تحریک جوانان پاکستان و کشمیر کا ہر کارکن تیار ملے گا ۔
پاکستان کیلئے موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے گہرے برادرانہ‘ دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں جبکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ حالیہ تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب کی خود مختاری‘سلامتی‘ علاقائی سالمیت کی حمایت کا واضح اعلان کیا ہے۔ پاکستان کو کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جو اسے ایک طویل اور پیچیدہ علاقائی جنگ کا براہِ راست فریق بنا دے۔ وطن عزیز پہلے ہی دہشت گردی‘ معاشی دبائو اور داخلی سلامتی کے متعدد چیلنجز سے دو چار ہے۔اگر یمن تنازع مزید بڑھا تو باب المندب ‘بحیرہ احمر اور خلیج کے راستوں پر دبائو میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مسلمان جان لیں کہ اسرائیل مشرقِ وسطی میں دجالی سٹیج مکمل طور پر سجا چکا ہے۔ پہلے تیونس‘مصر‘لیبیا ‘ شام اور اب ایران اسرائیل جنگ جو پوری آب وتاب کے ساتھ یمن سعودی عرب جنگ کی صورت میں پھیلا دی گئی ہے۔ تاہم مسلمانوں کو مقدس مقامات کی حفاظت کے حوالے سے سٹرٹیجک پلان بنا نا ہو گا کیونکہ مکہ مکرمہ پر حالیہ حملہ مسلم امہ کیلئے وارننگ ہے۔ اور یہی اسلام دشمنوں کا طریقۂ واردات بھی ہے۔اب انتظار صرف پاکستان کے جوہری پروگرام کو دبوچنے کا ہے جو اسرائیلی قبضے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مکہ مکرمہ پر میزائل داغے جانا ایک بڑی وارننگ ہے۔ چند برس قبل امریکی فوج کے سابق سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی کی جانب سے ایک انکشاف سامنے آچکا ہے جس نے یقینا مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا کہ امریکی ملٹری اکیڈمیوں میں امریکی فوج کے مستقبل کے افسران کو اسلام مخالف لٹریچر میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ان تمام باتوں میں سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ امریکی اپنے فوجی افسران کو سبق دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو تباہ کرنے کیلئے ان کے مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو حملے کا نشانہ بنایا جا ئے۔ مسلمانوں کا مورال گرانے کیلئے ایسے گھنائونے اقدامات اٹھائے جانے کی منظم منصوبہ بندی بہت پہلے کی جا چکی ہے۔امریکی ملٹری اکیڈمیوں میں اسلام دشمن نصاب کی تعلیم گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ یہ صہیونی صلیبی اتحاد درحقیقت اسلام کے خلاف ایک بڑی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔جس میں شمالی افریقہ سے لے کر مشرق ِوسطی تک پھیلی ہوئی ریاستوں پر عسکری اورمعاشی تسلط قائم کرنا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments