مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ غزہ کی جنگ سے شروع ہونے والی کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کے اثرات صرف اسرائیل‘ ایران یا عرب دنیا تک محدود نہیں بلکہ امریکہ‘ یورپ‘ روس‘ چین اور دیگر بڑی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں‘ عسکری حکمتِ عملی اور معاشی مفادات پر بھی نمایاں طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے قائم مغربی اتحاد جسے سرد جنگ کے بعد عالمی سلامتی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا‘ اب پہلے جیسا مضبوط دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ اور یورپ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پالیسی اختلافات مسلسل گہرے ہو رہے ہیں۔ متعدد یورپی ممالک اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور غزہ میں انسانی بحران پر کھلے عام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ واشنگٹن بدستور اسرائیل کی سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔ یہی اختلافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں ٹوٹ پھوٹ اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے۔سرد جنگ کے دوران نیٹو نے سوویت یونین کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے امریکہ کے عسکری ونگ کے طور پر کام کیا۔ 1991ء میں سوویت یونین کے زوال کے بعد اس اتحاد نے بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں اور بحرانوں کے انتظام کے ذریعے اپنے کردار کو نئی شکل دی۔ تاہم آج مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کی مغربی سلامتی کی حکمتِ عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ نیٹو کے کئی رکن ممالک بھی خطے میں کسی نئی فوجی مہم کا حصہ بننے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وسیع علاقائی جنگ توانائی کی رسد‘ عالمی تجارت اور یورپی معیشت کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور یورپ عالمی سیاست میں ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے تھے مگر موجودہ منظرنامے نے اس تاثر کو خاصا کمزور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتکاری اور جنگ کے درمیان توازن قائم رکھنا مغربی حکومتوں کیلئے ایک مشکل آزمائش بنتا جا رہا ہے۔ کئی ممالک نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی معطل کی جائے جبکہ بعض ممالک نے اپنے فضائی اور بحری راستوں سے فوجی سامان کی ترسیل کو محدود کر دیا ہے۔ یہ اختلافات جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے اب پہلے سے کہیں زیادہ گہرے ہو چکے ہیں۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شرکت یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں تعاون سے متعدد یورپی حکومتوں اور نیٹو کے رکن ممالک کی ہچکچاہٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان تزویراتی فاصلے میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ کانگریس‘ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قیادت حتیٰ کہ امریکی انتظامیہ کے مختلف حلقوں میں بھی ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کو طاقت کے ذریعے دیگر ممالک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تزویراتی تعلقات کی نوعیت اور اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امریکی مالی و عسکری امداد کے بارے میں بھی نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ ناقدین کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی غیر مشروط حمایت نے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور مڈل ایسٹ میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اس کی حیثیت کو کمزور کیا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان سے مالی سال 2027ء کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) کا معمولی اکثریت سے منظور ہونا بھی امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کو بین الاقوامی مذمت سے بچانے کیلئے امریکہ کی جانب سے بار بار ویٹو کا استعمال بھی اس کیلئے تنقید میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ اسرائیل کے اندرونی سیاسی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔نیتن یاہو اور اس کی اتحادی حکومت جہاں فوجی کارروائیوں کی حامی ہے وہیں اپوزیشن جماعتیں‘ سول سوسائٹی اور یرغمالیوں کے اہلِ خانہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایران اس وقت داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ قیادت‘ سلامتی کے معاملات اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے مختلف تجزیے سامنے آ رہے ہیں تاہم ان میں سے متعدد دعوے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ اسکے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں‘ سفارتی دباؤ اور عسکری خطرات کے باوجود اسکی علاقائی حکمتِ عملی کے آگے امریکہ جھکنے پر مجبور ہوا۔ افسوس ‘ خلیجی ممالک میں یکجہتی کا فقدان پایا جا رہا ہے۔ 2020ء کے ' ابراہیمی معاہدوں‘ نے خطے کی سیاسی صف بندی کو تبدیل کر دیا جس کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کیساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہوئے واشنگٹن کیساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید وسعت دی۔ متحدہ عرب امارات نے بیک وقت اسرائیل اور بھارت کیساتھ اپنے تزویراتی تعلقات مضبوط کیے اور ایک نسبتاً آزاد خارجہ پالیسی اختیار کی ہے۔ یمن‘ سوڈان‘ صومالیہ اور لیبیا جیسے علاقائی تنازعات میں امارات کا کردار مختلف رہا جس سے عرب دنیا کے اندر نئے اختلافات نے جنم لیا۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی خطہ اب ایک ہی سیاسی مؤقف کے بجائے اپنے اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتا دکھائی دیتا ہے۔البتہ معاشی طور پر یہ جنگ پوری دنیا کیلئے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ آبنائے ہرمز‘ جہاں سے دنیا کی 20سے 25 فیصد خام تیل کی سپلائی گزرتی ہے اب ایک مستقل میدانِ جنگ میں بدل چکی ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان بحری راستوں میں طویل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ‘ مہنگائی اور عالمی معاشی سست روی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ عالمی و علاقائی رقابتیں جنوبی ایشیا تک پھیل چکی ہیں؟ اس میں دو آرا نہیں کہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی بیرونی سرپرستی‘ گوادر بندرگاہ اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کی سازشیں اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی بڑی طاقتوں کی نئی ''گریٹ گیم‘‘ کا حصہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں اسلام آباد کیلئے متوازن‘ محتاط اور فعال سفارتکاری ناگزیر ہے؛ چنانچہ داخلی استحکام‘ اقتصادی اصلاحات‘ توانائی کے متبادل ذرائع اور قومی سلامتی کے اداروں کی استعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کو اس وقت توانائی‘ سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام جیسے اہم چیلنجز بھی درپیش ہیں اس لیے کسی بھی وسیع جنگ کے اثرات براہِ راست قومی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم خلیجی خطے کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم نے امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت جیسی بیرونی طاقتوں کو اپنے تزویراتی مفادات کے حصول کیلئے نسبتاً زیادہ مواقع فراہم کیے ہیں۔
موجودہ بحران کا ایک اور اہم پہلو اطلاعاتی جنگ ہے۔ آج روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ معلومات اور بیانیے کی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ بلاشبہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی اتحاد نئے سرے سے تشکیل پا رہے ہیں اور سفارتکاری کے روایتی اصول بھی نئے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں تحمل‘ سیاسی بصیرت اور مذاکرات کو ترجیح دیتی ہیں تو اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے۔ تاریخ کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے تحمل‘ تدبر اور مکالمے کو ترجیح دی جائے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور طویل اور تباہ کن علاقائی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے یا عالمی قیادت بروقت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتکاری کو طاقت پر ترجیح دے گی؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments