"MAHG" (space) message & send to 7575

بلوچستان: تصویر کا دوسرا رخ

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہ ملک کے کل رقبے کا 43.6 فیصد ہے۔ اس صوبے کی سرحد مغرب میں افغانستان اور ایران سے ملتی ہے۔ ملک کی تقریباً 5.94فیصد آبادی اس صوبے میں مقیم ہے۔ یہاں 750کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے جو دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک‘ آبنائے ہرمز کے ساتھ لگتی ہے۔ یہ صوبہ تیل‘ گیس‘ تانبے سمیت متعدد قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ سوئی‘ خاران‘ بولان‘ قلات‘ ژوب‘ کوہلو اور زرغون میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان کی 56فیصد گیس کی ضروریات یہیں سے پوری ہوتی ہیں مگر کس قدر تعجب کی بات ہے کہ صوبے کے 36میں سے صرف 20اضلاع کو گیس کی سہولت میسر ہے‘ یہاں تک کہ سوئی سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر موجود آبادی بھی اس نعمت سے محروم ہے۔ سندھ کے بعد کوئلے کی پیداوار میں بلوچستان دوسرے نمبر پر ہے۔ دیگر قدرتی معدنیات‘ مثلاً کرومائیٹ‘ جپسم اور ماربل بھی یہاں بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں‘ اس کے باوجود صوبے کے 85فیصد دیہات غربت‘ پسماندگی اور بدحالی کے انتہائی نچلے درجے پر ہیں۔ افسوس کہ قیمتی معدنیات کا حامل یہ صوبہ گزشتہ 79سال سے عدم توجہی کا شکار ہے۔ اگر ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر ہو سکتی ہے؛ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہیں کہ ملک کی خوشحالی بلوچستان کی خوشحالی سے جڑی ہے۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بلوچستان شروع ہی سے خراب معاشی حالات کا شکار رہا ہے۔ اگر ایک جانب بھارت اندرونی شورش سے فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کو بھڑکانے کیلئے بے دریغ پیسہ استعمال کر رہا ہے تو دوسری جانب مقامی قیادت صوبے کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانے اور اس کے وسائل کو بروئے کار لانے میں ناکام رہی ہے‘ بلاشبہ جاگیردارانہ اور سرداری نظام نے صوبے کا سیاسی نظام تباہ کر دیا ہے۔
بلوچستان کے سرداری نظام کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی حکومت نے بلوچستان کے وسیع اور دشوار گزار علاقوں پر براہِ راست سول انتظامیہ قائم کرنے کے بجائے بالواسطہ حکمرانی کی حکمتِ عملی اختیار کی۔ منتخب قبائلی سرداروں کو نواب اور سردار کی سرکاری حیثیت‘ جاگیریں‘ مالی مراعات اور انتظامی اختیارات دیے گئے جبکہ ان سے وفاداری اور امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری لی گئی۔ اس پالیسی نے سرداروں کی روایتی حیثیت کو مضبوط سیاسی اور انتظامی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ یوں برطانوی راج نے اپنے سرحدی مفادات کو کم خرچ میں محفوظ رکھا مگر اس کے ساتھ ایک ایسا طاقتور طبقہ بھی وجود میں آیا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ نظام ختم نہ ہو سکا۔ وقت کیساتھ کئی قبائلی سرداروں نے اپنی روایتی قیادت کو سیاسی طاقت میں بدل لیا اور وہ گورنر‘ وزیراعلیٰ‘ وفاقی وزیر اور پارلیمنٹ کی رکنیت جیسے اہم عہدوں تک پہنچے۔ اس دوران بلوچستان کی سیاست بڑی حد تک انہی قبائلی شخصیات کے گرد گھومتی رہی۔ یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ آیا اس نظام نے قبائلی روایات کو محفوظ رکھا یا بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی۔ البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نوآبادیاتی دور کی یہ میراث آج بھی بلوچستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ طاقت‘ زمین اور وسائل چند خاندانوں تک محدود رہے جس کے باعث مضبوط متوسط طبقہ ابھر نہ سکا اور عام شہری معیاری تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور مؤثر سیاسی نمائندگی سے محروم رہے۔ بلوچستان کی سیاسی تشکیل بھی تاریخی اعتبار سے منفرد رہی۔ 1947ء میں موجودہ بلوچستان ایک متحدہ صوبہ نہیں تھا بلکہ برٹش بلوچستان اور ریاستِ قلات دو الگ سیاسی اکائیاں تھیں۔ برٹش بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا جبکہ ریاستِ قلات نے بعد میں الحاق کیا۔
موجودہ صوبہ بلوچستان 1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد وجود میں آیا۔ یہی تاریخی ارتقا آج بھی صوبے کی سیاست‘ شناخت اور وفاق سے تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں بلوچستان کی ابتدائی صورتحال نہایت کمزور تھی۔ قیامِ پاکستان کے وقت پورے خطے میں تعلیمی اداروں کی تعداد انتہائی کم اور شرح خواندگی چند فیصد تھی۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی۔ جامعات‘ میڈیکل کالجز‘ کیڈٹ کالجز‘ سکولوں اور فنی تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا۔ وفاقی حکومت‘ صوبائی اداروں‘ پاک آرمی اور فرنٹیئر کور کی جانب سے بھی سکالرشپس اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بلوچستان کے امن و امان کی بحالی اور تعمیر و ترقی میں افواجِ پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔
ایک زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے دور افتادہ علاقوں تک ترقی کے ثمرات نہیں پہنچ سکے۔ بلوچستان کی سیاست میں سرداروں کا کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ بگٹی‘ مری‘ مینگل‘ بزنجو‘ جمالی‘ رند اور رئیسانی جیسے قبائل کی قیادت نے مختلف ادوار میں صوبائی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ بعض سردار وفاقی نظام کا حصہ بنے جبکہ بعض نے ریاستی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے مزاحمتی سیاست اختیار کی۔ کئی قبائلی رہنماؤں نے اپنے علاقوں میں جدید تعلیم‘ سماجی اصلاحات اور مقامی اداروں کے فروغ پر وہ توجہ نہیں دی جو ترقی کیلئے ضروری تھی۔ دوسری جانب ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے وسائل سے بھرپور استفادہ تو کیا گیا مگر مقامی آبادی کو اس کا منصفانہ حصہ نہیں ملا اور صوبے کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ نواب اکبر بگٹی‘ خیر بخش مری اور اختر مینگل جیسے رہنماؤں کے سیاسی سفر اس پیچیدہ تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ شخصیات صوبے کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہیں تو دوسری جانب وفاق اور صوبے کے تعلقات میں کشیدگی کی علامت بھی بن گئیں۔ بعض سردار جبری گمشدگی اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو بھی ناانصافی کے پلڑے میں ڈالتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں شورش اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے‘ سرمایہ کاری محدود رہی اور عام بلوچ شہری سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے۔ کئی قبائلی رہنما بیرونِ ملک منتقل ہو گئے مگر تنازعات کی انسانی قیمت عام بلوچ عوام نے ادا کی‘ جنہیں غربت‘ بے روزگاری‘ تعلیم اور صحت کی کم سہولتوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب یہ سوال بھی اہم ہے کہ جن شخصیات نے برسوں اقتدار‘ وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ اپنے ہاتھ میں رکھا انہوں نے اپنے علاقوں میں کتنی ترقی کی بنیاد رکھی؟ اگر صوبے کی پسماندگی کا تمام تر بوجھ صرف وفاق پر ڈال دیا جائے تو مقامی سیاسی قیادت اور قبائلی اشرافیہ کی ذمہ داری کا سوال بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح اگر تمام مسائل کا سبب صرف سرداری نظام کو قرار دیا جائے تو وفاقی پالیسیوں‘ وسائل کی تقسیم‘ امن و امان اور تاریخی محرومیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان کی اصل ضرورت الزام تراشی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے۔ یہ صوبہ نہ صرف ملک کی معاشی ترقی بلکہ علاقائی تجارت اور بحیرہ عرب تک رسائی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلئے بلوچستان کے مسائل کا حل صرف سکیورٹی اقدامات یا صرف ترقیاتی منصوبوں میں نہیں بلکہ ایک ایسے جامع سیاسی‘ معاشی اور سماجی فریم ورک میں پوشیدہ ہے جس میں عوامی شمولیت‘ شفاف حکمرانی‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم‘ معیاری تعلیم‘ روزگار‘ مقامی حکومتوں کے استحکام اور قانون کی بالادستی کو یکساں اہمیت دی جائے۔ بلوچستان کی داستان صرف محرومی یا وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد‘ شراکت داری اور اچھی حکمرانی کی بھی ہے۔ اگر ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھ کر وفاق‘ صوبائی قیادت‘ قبائلی رہنما اور عوام مشترکہ مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں تو بلوچستان نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کا سب سے مضبوط ستون بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اور تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...