"MAHG" (space) message & send to 7575

بحرِ ہند اور بحرالکاہل میں بڑھتا ہوا سٹریٹجک مقابلہ

اکیسویں صدی میں عالمی سیاست کا مرکز بتدریج بحرِ اوقیانوس سے منتقل ہو کر بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے وسیع خطے کی طرف آ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج Indo-Pacificصرف ایک جغرافیائی اصطلاح نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان سیاسی‘ عسکری‘ معاشی اور سفارتی مسابقت کا سب سے اہم میدان بن چکا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اپنے قومی مفادات‘ تجارتی راستوں‘ توانائی کی ترسیل‘ بحری سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کے تحفظ کیلئے اس خطے میں سرگرم ہیں۔ اسی تناظر میں امریکہ‘ چین‘ بھارت‘ جاپان اور آسٹریلیا کی پالیسیاں نہ صرف اس خطے بلکہ پوری عالمی سیاست کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ہندبحرالکاہل کا خطہ افریقہ کے مشرقی ساحل سے لے کر مغربی بحرالکاہل تک پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی بڑی آبادی‘ اہم بحری گزرگاہیں اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ اسی خطے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں طاقت کے توازن کی سیاست تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہے۔ عالمی تجارت کا بیشتر حصہ انہی سمندری راستوں سے گزرتا ہے اس لیے ان پر کنٹرول حاصل کرنا بڑی طاقتوں کی اولین ترجیح بن چکا ہے ۔ امریکی تھنک ٹینک رابرٹ ڈی کپلان کے مطابق اگلی جنگیں خشکی کے بجائے سمندروں میں لڑی جائیں گی اور قرائن بھی یہی لگ رہے ہیں کہ تیسری جنگ عظیم کا جب بھی نقارہ بجا تو وہ خشکی پر کم گہرے پانیوں میں زیادہ ہوگی۔یونانی مورخ تھیوسیڈائڈیز (Thucydides) کے مطابق جب کوئی نئی طاقت ابھرتی ہے تو موجودہ غالب طاقت کیساتھ اسکا تصادم تقریباً ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج امریکہ اور چین کے تعلقات اسی نظریے کی عملی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب چین معاشی‘ عسکری اور سفارتی میدانوں میں مسلسل اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ بیجنگ کا معاشی ماڈل اور عالمی ترقیاتی منصوبے واشنگٹن کی روایتی عالمی قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں۔حقیقت پسندانہ نظریہ بھی یہی ہے کہ عالمی نظام میں کوئی ایسی بالادست حکومت موجود نہیں جو تمام ریاستوں کی سلامتی کی ضمانت دے سکے‘ لہٰذا ہر ریاست اپنی بقا کیلئے اپنی عسکری اور معاشی طاقت میں اضافہ کرتی ہے۔ یہی سوچ Indo-Pacific میں بڑھتی ہوئی دفاعی تیاریوں‘ فوجی اتحادوں اور اسلحے کی دوڑ میں واضح نظر آتی ہے۔ امریکہ اس پورے خطے کو اپنی عالمی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ تصور کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بحری راستوں پر تسلط اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔ اسی مقصد کیلئے واشنگٹن نے اپنے بحری بیڑے کا بڑا حصہ اس خطے میں تعینات کر رکھا ہے‘ متعدد فوجی اڈے قائم کیے ہیں اور مختلف دفاعی اتحادوں کو فعال بنایا ہے۔ کواڈ (QUAD)‘ آکس (AUKUS)‘ جاپان اور جنوبی کوریا کیساتھ دفاعی معاہدے‘ فلپائن کیساتھ سکیورٹی تعاون اور تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی اسی توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ ہیں۔دوسری جانب چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘ میری ٹائم سلک روڈ‘ سٹرنگ آف پرلز اور بحیرہ جنوبی چین میں نہ صرف اپنی معاشی رسائی بڑھائی بلکہ بحری قوت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ درحقیقت چین کی پُرامن ترقی کوامریکہ اور اسکے اتحادی اپنے مفادات کیلئے ایک طویل مدتی تزویراتی چیلنج سمجھتے ہیں۔ یہی اختلاف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیادی وجہ بن رہا ہے۔بھارت بھی اس نئی جغرافیائی سیاست میں خود کو ہندبحرالکاہل کا ایک کلیدی کھلاڑی تصور کرتا ہے۔ بھارت بیک وقت امریکہ کیساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے اور اس کا مقصد بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا اور بحرِ ہند میں اپنی برتری بڑھا نا ہے۔جاپان‘ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد طویل عرصے تک امن پسند دفاعی پالیسی پر کاربند رہا‘ اب اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ چونکہ جاپان کی معیشت بڑی حد تک بحری تجارت پر انحصار کرتی ہے اس لیے وہ آزاد بحری راستوں کو اپنی معاشی بقا کیلئے ناگزیر سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹوکیو نے امریکہ‘ آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ آسٹریلیا بھی خطے میں طاقت کے نئے توازن کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اگرچہ چین اس کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے لیکن سلامتی کے حوالے سے کینبرا نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ آکس معاہدہ اسی پالیسی کا مظہر ہے جس کے ذریعے آسٹریلیا اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنا رہا ہے۔یہ تمام پیش رفت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہندبحرالکاہل میں طاقت کی نئی صف بندی تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے چین کا توازن قائم کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف چین روس‘ ایران‘ پاکستان اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنا رہا ہے۔ اس نئی صورتحال نے عالمی سیاست کو یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
پاکستان کیلئے یہ بدلتا ہوا منظرنامہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے اس خطے میں اہم جغرافیائی کردارکا حامل ہے۔ گوادر بندرگاہ‘ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور بحیرہ عرب تک رسائی پاکستان کو ایسی سٹریٹجک اہمیت عطا کرتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان صرف روایتی سلامتی کے زاویے سے نہیں بلکہ جغرافیائی معیشت کے تناظر میں بھی اپنی پالیسی مرتب کرے۔ بھارتی دانشوروں کے مطابق وہ وقت دور نہیں جب چین اپنی بحری قوت میں اضافہ کرکے بحیرہ جنوبی چین سے خلیج فارس تک اپنا اثرورسوخ قائم کرے گا اور وہ پاکستان کی مدد سے اس کا زمینی و سمندری راستے سے گھیرائو کر رہا ہے۔ بحر ہند سے بحیرہ جنوبی چین تک سمندری حدود مرکزی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے جو خطۂ بحرالکاہل تک پھیل جائے گی۔ چین کیلئے گوادر کی بندر گاہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ چین صرف اس روٹ سے ہوتا ہوا نہر سویز کے راستے مغرب سے تجارت کر سکتا ہے اور یہ چین کیلئے سستا تجارتی روٹ ثابت ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں بھارت اپنے مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے بحر ہند کے پانیوں پر حکمرانی کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔چین کے مقابلے میں خود کو علاقائی طاقت سمجھنے کی وجہ سے بھارت بحر ہند میں امریکی پشت پناہی پر توسیع پسندانہ عزائم پر عمل پیرا ہے ‘ لہٰذاپاکستان کو ایک جامع بحرِ ہند پالیسی تشکیل دینی چاہیے جو قومی بحری پالیسی سے الگ ہو اور جس میں بحری تجارت‘ بندرگاہوں کی ترقی‘ بلیو اکانومی‘ علاقائی روابط‘ توانائی کی سلامتی اور سمندری سفارتکاری کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اسی کیساتھ چین‘ وسطی ایشیائی ریاستوں‘ روس‘ ایران اور ترکی کیساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کو امریکہ کیساتھ بھی متوازن تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں۔ موجودہ عالمی ماحول میں کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار پاکستان کے طویل المدتی مفادات کیلئے سودمند نہیں۔ متوازن خارجہ پالیسی ہی پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی نظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مستقبل کی عالمی سیاست صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ معاشی روابط‘ بحری تجارت‘ ٹیکنالوجی‘ توانائی اور سفارتکاری سے بھی متعین ہوگی۔ ہندبحرالکاہل میں جاری سٹریٹجک مقابلہ اسی وسیع تبدیلی کی علامت ہے۔ جو ریاستیں اس نئی حقیقت کو بروقت سمجھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل دیں گی وہ مستقبل کے عالمی نظام میں زیادہ مضبوط حیثیت حاصل کریں گی۔پاکستان کیلئے بھی یہی وقت ہے کہ جغرافیائی سیاست کیساتھ ساتھ جغرافیائی معیشت کو اپنی قومی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنائے‘ علاقائی روابط کو فروغ دے‘ بحری صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرے اور متوازن‘ حقیقت پسند اور دور اندیش خارجہ پالیسی اختیار کرے۔ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان نہ صرف ہندبحرالکاہل کی بدلتی ہوئی سیاست سے فائدہ اٹھا سکے گا بلکہ مستقبل کے کثیر قطبی عالمی نظام میں ایک مؤثر اور باوقار کردار بھی ادا کر سکے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...