"MAHG" (space) message & send to 7575

سندھ طاس معاہدہ اور بھارتی آبی دہشت گردی

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 20مئی سے چناب بیاس رابطہ ٹنل منصوبے کے تحت پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے علاقے لاہول اسپیتی میں 23.5ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت لگ بھگ نو کلو میٹر طویل سرنگ تعمیر کی جائے گی‘ جس کے ذریعے دریائے چناب کا سالانہ تقریباً دو ملین ایکڑ فٹ پانی بذریعہ سرنگ دریائے بیاس میں منتقل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل کا ہدف 31جولائی 2029ء رکھا گیا ہے ۔
1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت چناب‘ جہلم اور سندھ کے مغربی دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کا یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے واٹر کورسز کنونشن 1997ء اور ویانا کنونشن 1969ء کے آرٹیکل 60کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کو دریائے چناب پر اس سرنگ کی تعمیر کے خلاف فوری طور پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے رجوع کرنا چاہیے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی روح سے انحراف کرتے ہوئے مسلسل آبی دہشت گردی میں مصروف ہے جبکہ ہم اس معاہدے کی پاسداری کو اپنا فرضِ اولین بنائے ہوئے ہیں۔ جب سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا تو ورلڈ بینک کے اُس وقت کے صدر یوجین رابرٹ بلیک نے انڈس بیسن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے آغاز کیلئے غیر معمولی ذاتی کوششیں کی تھیں۔ انڈس بیسن ڈویلپمنٹ فنڈ معاہدے کے تحت عالمی بینک نے 80ملین ڈالر بطور قرض‘ امریکہ نے 247ملین ڈالر‘ جرمنی نے 126ملین ڈالر بطور گرانٹ‘ کینیڈا نے 22.1ملین ڈالر‘ برطانیہ نے 20.86ملین ڈالر‘ آسٹریلیا نے 6.97ملین ڈالر‘ نیوزی لینڈ نے ایک ملین ڈالر اور بھارت نے بھی 62.06 ملین ڈالر فراہم کیے تھے۔ اس منصوبے میں دو بڑے ذخائرِ آب‘ چھ بیراج‘ آٹھ رابطہ نہریں‘ نکاسیٔ آب کا نظام‘ سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے شامل تھے جو مقررہ وقت پر اور کرپشن کے بغیر مکمل ہوئے تھے۔ منگلا ڈیم ادارہ جاتی صلاحیت کی اعلیٰ مثال ہے جبکہ تربیلا ڈیم دنیا کا سب سے بڑا مٹی سے بھرا ہوا ڈیم بنا۔ تربیلا ڈیم کی تکمیل کے بعد پاکستان کی اوسط سالانہ جی ڈی پی نمو سات فیصد سے زیادہ رہی‘ جو اُس وقت ایشیا کی بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ واپڈا ہاؤس لاہور بھی اسی عظیم منصوبے کی ایک یادگار ہے۔ مسٹر بلیک کے اس اقدام کی سب سے نمایاں کامیابی اس کی غیرمعمولی کارکردگی تھی۔ منگلا ڈیم صرف چھ سال میں اور تربیلا ڈیم آٹھ سال میں مکمل کر لیا گیا۔ یہ منصوبے مقامی تعمیراتی اداروں اور انجینئرنگ ڈیزائن کنسلٹنٹس کی مدد سے پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ بعد ازاں ہائڈل پاور کا کوئی بھی بڑا منصوبہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ 969میگاواٹ کا نیلم جہلم پراجیکٹ تکنیکی خامیوں اور ناقص تعمیراتی مواد کے انکشاف کے بعد 2022ء سے بند پڑا ہے۔ دیا مر بھاشا ڈیم‘ جس کا افتتاح صدر پرویز مشرف نے 2006ء میں کیا تھا‘ 2026ء میں بھی تاخیر کا شکار ہے۔ اس کے برعکس تربیلا اور منگلا ڈیم محدود ٹیکنالوجی کے باوجود وقت پر مکمل ہوئے۔
اگر بھارت دریائے چناب کا پانی بیاس کی طرف موڑنے کی کوشش کرے گا تو اسے پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا جنہوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی تھی۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان پر بھارت کا کوئی احسان نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی عہد ہے جسے بھارت یکطرفہ معطل نہیں کر سکتا کیونکہ اس منصوبے میں عالمی برادری کی مالی شراکت شامل ہے۔ لیکن اس قانونی نکتے کو عالمی سطح پر کون اٹھائے گا؟ اگر حکومتِ پاکستان اس معاملے پر خاموش رہتی ہے تو اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ اس تاریخی اور قانونی پہلو کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔
لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت نے ملک کو پانی ذخیرہ کرنے اور سستی بجلی کے حصول سے محروم کر دیا۔ اس منصوبے کے التوا کے باعث توانائی کے بحران‘ درآمدی ایندھن پر انحصار اور سیلابی آفات جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب مختلف غیرسرکاری تنظیموں اور بیرونی اثر و رسوخ نے آبی توانائی اور زرعی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر قومی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ وطنِ عزیز کو اس وقت پانی کی قلت کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ افسوس کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود شہری اور دیہی علاقے پانی کے بحران کی زد میں ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں گاد سے بھرے آبی ذخائر‘ زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح اور بقا کیلئے ٹینکر مافیا پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہیں۔ تربیلا ڈیم‘ منگلا ڈیم‘ وارسک ڈیم‘ میرانی ڈیم‘ حب ڈیم‘ خانپور ڈیم‘ ست پارہ ڈیم‘ راول ڈیم‘ گومل زام ڈیم اور نیلم جہلم ڈیم جیسے ذخائر اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی اصل صلاحیت کا ایک بڑا حصہ کھو چکے ہیں۔ مسلسل گاد جمع ہونے کے براہِ راست اثرات بجلی کی پیداوار‘ پینے کے پانی کی فراہمی اور صنعتی سرگرمیوں پر پڑ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے متعلقہ اداروں کا ردِعمل اکثر بیانات اور وعدوں تک محدود رہا ہے۔
چین‘ ترکیہ اور امریکہ جیسے ممالک نے اپنے ڈیموں کی صفائی اور دیکھ بھال کیلئے جدید طریقۂ کار اختیار کیے ہیں۔ پاکستان میں اس کے برعکس بہت سے ڈیم اپنی تعمیر کے بعد کبھی جامع صفائی کے عمل سے نہیں گزرے۔ حتیٰ کہ اسلام آباد جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ اس پورے منظرنامے میں طاقتور ٹینکر مافیا سرگرم ہے‘ جس نے پانی کی قلت کو انتہائی منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ ملک میں پانی کی کمی کی ایک بڑی وجہ بارش کے پانی کو محفوظ نہ کرنا بھی ہے۔ دنیا بھر میں جدید رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ تصور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صرف سیمیناروں‘ کانفرنسوں اور کاغذی منصوبوں تک محدود ہے۔ اگرچہ ماہرین نے بارش کے پانی کے تحفظ کیلئے متعدد سفارشات پیش کیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں ہر سال لاکھوں گیلن بارش کا پانی ضائع ہو کر نالوں اور دریاؤں میں بہہ جاتا ہے۔ اگر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے جدید طریقے اپنائے جائیں تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اگر مختلف شہروں میں چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں تو وہ پانی ذخیرہ کرنے‘ زرعی زمینوں کو سیراب کرنے‘ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور بجلی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کیلئے فوری طور پر قومی سطح پر واٹر ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس اقدام کے تحت تمام بڑے ڈیموں کی صفائی اور گاد نکالنے‘ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام نافذ کرنے‘ ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ملک بھر میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
ایک اور تلخ حقیقت ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کو پانی سے مالا مال ملک سمجھا جاتا تھا لیکن آج فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو جلد ہی غذائی تحفظ‘ عوامی صحت‘ معیشت حتیٰ کہ قومی سلامتی کیلئے بھی یہ ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں‘ بارشوں کے نظام میں تبدیلی آ رہی ہے‘ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے ابھی تک کوئی مؤثر قومی مہم موجود نہیں۔ حکومت‘ میڈیا‘ ماہرین‘ تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو مل کر پانی کے تحفظ کیلئے قومی مہم شروع کرنی چاہیے۔ اگر ہم نے ابھی سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ کو سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پانی زندگی ہے اور زندگی کا تحفظ ناگزیر ہے۔ چنانچہ قومی سطح پر فوری‘ سخت اور مؤثر فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں