"MAHG" (space) message & send to 7575

پاک چین 75سالہ دوستی کا روشن سفر

آہنی برادرز پاکستان اور چین کی ہمالیہ سے بلند‘ شہد سے میٹھی اور سمندروں سے گہری دوستی کے سفر کو 75برس مکمل ہو چکے ہیں۔ طویل خانہ جنگی کے بعد یکم اکتوبر 1949ء کو عوامی جمہوریہ چین نے آزادی حاصل کی۔ اس کے بعد چین مختلف مراحل سے گزرتا اور ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آج معاشی اعتبار سے دنیا کی بڑی طاقت بن چکا ہے۔ ماؤزے تنگ کو جدید چین کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ چین کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ان کا کردار انتہائی اہم رہا۔ اُس دور میں چینی عوام افیون کے نشے کی لت میں مبتلا تھے لیکن ماؤ زے تنگ نے اپنی قوم کو اس عادت سے نجات دلائی اور اسے دنیا کی محنتی اقوام میں شامل کر دیا۔ چین کے عظیم رہنما ماؤزے تنگ نے دارالحکومت بیجنگ کے مرکز میں واقع تھیان من کے مرکزی دروازے کے چبوترے پر کھڑے ہو کر عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے چین کی نئی حیثیت کو تسلیم کیا۔ اس کے دو برس بعد 21 مئی 1951ء کو پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔
چین کے لیے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے میں پاکستان کی کوششیں سب سے نمایاں تھیں۔ آج چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے حق کا حامل ہے۔ مغرب کی مخاصمت کے باعث چین دو عشروں تک اقوام متحدہ میں اپنے جائز حق سے محروم رہا۔ اس ضمن میں 25اکتوبر 1971ء کا دن چین کی سفارتی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے چین کی مراعات بحال کیں۔ اقوام متحدہ میں چین کی یہ غیرمعمولی کامیابی اسے چھوٹے اور کمزور ممالک کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر آواز کے طور پر سامنے لائی۔ تاہم چین کو عالمی تنہائی سے نکالنے اور بین الاقوامی معاملات میں متحرک کردار دلانے میں پاکستان کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ دوسری جانب 1965ء کی جنگ سے لے کر آپریشن بنیانٌ مرصوص تک چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ نبھایا۔ اس نے ہمیشہ غیرمشروط دوستی کا ثبوت دیا اور کبھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ پاکستان کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے میں بھی چین کا کردار کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ اہم رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر بھی چین مسلسل پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مؤقف کی دوٹوک حمایت کرتا آ رہا ہے اور پاکستان کی جغرافیائی وحدت اور سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون تصور کرتا ہے۔
1962ء میں بھارت اور چین کے درمیان جنگ ہوئی جس میں چین کا پلّہ بھاری رہا۔ 28اکتوبر 1962ء کو امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے صدر ایوب خان کے نام ایک اہم پیغام بھیجا کہ بھارت پر چین کا حملہ دراصل پورے جنوبی ایشیا پر حملے کے مترادف سمجھا جائے۔ پاکستان نے اس موقع پر نہایت محتاط جواب دیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل طلب ہے‘ بھارت کے لیے امریکہ کی بھاری فوجی امداد پاکستان کے لیے باعثِ تشویش رہے گی۔ امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان نے چین کی مخالفت سے اجتناب کیا۔ یہ فیصلہ امریکہ کو پسند نہ آیا اور اس نے پاکستان پر مختلف نوعیت کا دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ مارچ 1964ء میں چین اور پاکستان کے درمیان شاہراہ ریشم کی تعمیر کا معاہدہ ہوا اور جون 1964ء میں امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی امداد روک دی‘ مگر پاکستان نے اس کی پروا نہ کی اور پاک چین دوستی کے سفر کو جاری رکھا۔ آج بھی پاک چین دوستی کا سبق یہی ہے کہ تعلقات برابری کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔ پاکستان کو امریکہ‘ مغرب یا کسی دوسرے ملک کا دست نگر بن کر نہیں رہنا چاہیے۔
بھارت‘ جو اپنی برتری کے زعم میں مبتلا تھا‘ کو ستمبر 1965ء کی جنگ کے بعد پاک چین دوستی کی حقیقی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اس موقع پر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کی معاشی امداد بند کر دی جبکہ پاکستان کو اسلحے کی فراہمی بھی روک دی گئی۔ اس کے برعکس چین نے نہ صرف پاکستان کی مالی امداد میں اضافہ کیا بلکہ فوجی تعاون بھی بڑھا دیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے جہاز کوہ قراقرم کے اوپر سے صرف مسافروں کو ہی نہیں لے جاتے تھے بلکہ ان کے ذریعے فوجی سازوسامان بھی پاکستان پہنچنے لگا۔ جب بھارت نے پاکستان پر دباؤ بڑھایا تو چین نے اسے سخت پیغام دیا کہ باز رہے‘ ورنہ 1962ء کی جنگ کی طرزکی کارروائی پھر کی جا سکتی ہے۔ چین کے اس دوٹوک مؤقف کے بعد بھارت نے فوراً اپنے رویے میں لچک پیدا کر لی۔
پاک چین دوستی آگے چل کر نئے امکانات کا موجب بنی۔ ویتنام جنگ میں اپنی شکست اور چین اور روس کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکہ نے جب چین سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تو اس مقصد کے لیے اس نے چین کے قریبی دوست پاکستان سے مدد طلب کی اور یوں امریکہ اور چین کے درمیان پاکستان ایک پل بن گیا۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس موقع پر امریکہ نے کھلی بے وفائی کا مظاہرہ کیا تاہم چین نے اس وقت تک بنگلہ دیش کو اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل نہیں کرنے دی جب تک تمام جنگی قیدیوں کو رہا نہیں کر دیا گیا۔ چین کے سابق صدر ہو جِن تاؤ نے اپنے دورۂ اسلام آباد کے موقع پر کہا تھا: ''پاک چین دوستی نہ صرف سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے بلکہ یہ شہد سے زیادہ شیریں ہے‘‘۔ 22 تا 23 مئی 2013ء کو اپنے دورۂ پاکستان کے دوران چینی وزیراعظم نے اس مثالی دوستی کو ''سونے سے زیادہ قیمتی اثاثہ‘‘ قرار دیا۔ چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے بعد پاک چین سفارتی‘ معاشی‘ دفاعی اور تزویراتی تعاون کو نئی جہت ملی اور دونوں ممالک نے دنیا کی پہلی ''آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘‘ قائم کی۔ اسی دوران عظیم الشان انقلابی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کی بنیاد رکھی گئی۔ کورونا جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ کے لیے پاکستان کو ویکسین کی فراہمی بلاشبہ چین کی پاکستان سے بے مثال دوستی کا عملی اظہار تھا۔ چین کی جدوجہد اور ترقی ہمارے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بہت پہلے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ جب پاکستان وجود میں آئے گا اور دوسری جانب چین کی کمیونسٹ پارٹی بھی اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گی تو دونوں ملکوں میں سٹریٹجک تعلقات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ اسی مقصد کے تحت قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک وفد بھی چیئرمین ماؤ زے تنگ کے پاس بھیجا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ان 75 برسوں میں اس رشتے میں کبھی کوئی دراڑ نہیں آئی اور یہ تعلق ہمیشہ کی طرح مضبوط اور پائیدار رہا۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان اور چین کا یہ عظیم رشتہ کبھی بھی عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کے تابع نہیں رہا۔
چین کی ترقی کا سب سے اہم راز یہ ہے کہ وہاں آنے والے تمام رہنماؤں نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔ ساتھ ہی یہ کوشش بھی جاری رکھی گئی کہ چین کی ترقی پسندانہ پالیسیاں جمود کا شکار نہ ہوں تاکہ نئے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ چین آج اس مقام پر کھڑا ہے۔ چین نے عالمی اور علاقائی تناظر میں سفارتی میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ''وَن بیلٹ وَن روڈ‘‘ مشترکہ مفاد کی ایک شاندار مثال ہے جس سے خطے میں امن‘ استحکام اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ پاک چین سٹریٹجک اتحاد نہ صرف خطے کا جغرافیائی توازن تبدیل کر رہا ہے بلکہ بھارتی بالادستی کے خواب کو بھی چکنا چور کر چکا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں