سوویت یونین کے خاتمے کے بعد عالمی طاقتوں کے توازن میں جو تبدیلیاں آئیں انہوں نے دنیا کے سیاسی‘ معاشی اور عسکری ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر قائم ہونے والا عالمی نظام بتدریج کمزور پڑنے لگا اور امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ اس دور میں دنیا کو ایک ایسے نظام کے تحت جینا پڑا جہاں طاقت کا جھکاؤ یکطرفہ تھا‘ اور یہ صورتحال دو دہائیوں سے زائد عرصے تک برقرار رہی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ دنیا میں نئی طاقتیں ابھرنے لگیں اور یک قطبی نظام بتدریج کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہونے لگا۔ روس نے ایک بار پھر خود کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر منوایا جبکہ چین نے معاشی اور تکنیکی میدان میں غیرمعمولی ترقی کر کے عالمی منظرنامے پر اپنی جگہ بنا لی جس کے نتیجے میں ایک نئے عالمی باب کا آغاز ہوا۔چین نے مشترکہ خوشحالی اور عالمی تہذیبی ہم آہنگی کے نظریے کو فروغ دیا جس نے ان ممالک کو اپنی طرف متوجہ کیا جو پہلے عالمی نظام میں نظر انداز کیے جاتے تھے۔ تجارتی راہداریوں‘ سستی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چین نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ اسی تناظر میں برکس ایک مضبوط اتحاد کے طور پر سامنے آیا اور سعودی عرب جیسے ممالک نے بھی نئے متبادل تلاش کرنا شروع کیے۔ جبکہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور پیشہ ور مسلح افواج اسے عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ پاکستان کی چین کے ساتھ مضبوط شراکت داری بھی اس کیلئے ایک اہم اثاثہ ہے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورۂ چین نے اس سفارتی رفتار کو مزید تقویت دی ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کرتے ہوئے عالمی امن کی کوششوں میں نمایاں حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد عالمی ثالث کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے حالات کو سمجھنے اور ان میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور عالمی رہنماؤں کے درمیان روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ایسے اہم پُل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو متحارب قوتوں کے درمیان فاصلے کم کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا سفارتی موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہونے والا چار اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس‘ جس میں پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر شامل تھے‘ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس اجلاس میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی کوشش کی گئی بلکہ مسلم دنیا کے اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے اور مذکورہ اجلاس جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے تناظر میں کثیر الجہتی مکالمے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ پاکستان نے جہاں ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں وہیں اسے واشنگٹن اور تہران دونوں کا اعتماد بھی حاصل ہے۔ پاکستان ترکیہ‘ مصر اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی یونین‘ بشمول صدر انتونیو کوسٹا‘ نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے جس سے پاکستان کی عالمی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔ عالمی مبصرین کے نزدیک یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان علاقائی سطح پر قیادت کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی جغرافیائی اہمیت‘ مضبوط عسکری قوت اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کی بدولت ایک اہم پل کے طور پر ابھرا ہے۔ اگر پاکستان دانشمندی‘ توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف علاقائی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ ماضی میں جس پاکستان کو زیادہ تر ایک ''سکیورٹی کنزیومر‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا تھا‘ وہ اب ایک ''سکیورٹی پرووائڈر‘‘ کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں‘ پسِ پردہ مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خطے میں استحکام کیلئے سنجیدہ ہے۔ تاہم اس کردار کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔ پاکستان کو نہ صرف اپنی سفارتی مہارت کا مظاہرہ کرنا ہوگا بلکہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ ایک غلط قدم نہ صرف اس کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ خطے میں اس کے کردار کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ یورپی یونین سمیت کئی بین الاقوامی ادارے اور رہنما پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ حمایت پاکستان کیلئے ایک مثبت اشارہ ہے اور اس کی عالمی حیثیت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کرے تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر ثالث بن سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران محض سفارتی بیانات سے حل نہیں ہو گا۔ اس کے لیے مستقل مزاجی‘ اعتماد سازی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مضبوط کرے۔ چین‘ روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعاون بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں تنازعات تیزی سے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں وہاں ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو مفاہمت‘ مکالمے اور امن کیلئے سنجیدہ کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھا چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس سفر کو کس حد تک کامیابی سے طے کرتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نئی سمت دے اور خود کو عالمی امن کا ایک مؤثر علمبردار ثابت کرے۔ اگر وہ اس نازک توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ بھی ایک نئی بلندی تک پہنچ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر نے جنوری 1980ء میں سٹیٹ آف دی یونین میں خطاب کے دوران واضح طور پر امریکی مفادات پر ضرب پڑنے کی صورت میں فوجی طاقت سمیت ہر قسم کی کارروائی استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ یہ بیان ''کارٹر ڈاکٹرائن‘‘ کے نام سے معروف ہوا لیکن افغانستان اور عراق پر قبضوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں وائٹ ہاؤس کی ترجیحات نیو ورلڈ آرڈر کے تحت بدلتی چلی گئیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسرائیل خطے سے اپنے دشمن مٹانا چاہتا ہے اور اس میں پاکستان بھی سرفہرست ہے۔ معرکۂ حق میں عظیم کامیابی کے بعد پاکستانی عسکری قیادت و حکومت علاقے کے امن و سلامتی کیلئے مسلسل کوشاں ہیں اور پاکستان ایران کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔ ضروری ہے کہ تمام فریق زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسا سیاسی راستہ تلاش کریں جو خطے کو مزید تباہی سے بچا سکے۔ اب عالمی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جنگ کو مزید طول دیا جائے یا امن کی طرف قدم بڑھایا جائے۔