ایران کے خلاف جاری جنگ اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ابتدائی جوش اور تیز رفتار عسکری حکمتِ عملی کی جگہ تعطل‘ تھکن اور سٹریٹجک الجھن نے لے لی ہے اور فوری کامیابی کے دعوے دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ صورتحال دن بہ دن پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ نیٹو اتحاد میں بھی اختلافات اب واضح ہو رہے ہیں‘ جہاں اس جنگ کے تسلسل اور حکمتِ عملی پر رائے منقسم ہوتی جا رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ‘ عوامی بے چینی اور جنگی اخراجات پر بڑھتی تنقید کا سامنا ہے۔ پینٹاگون کے اندر اختلافات اور اعلیٰ عسکری قیادت میں تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ فیصلہ سازی میں یکسوئی باقی نہیں رہی جبکہ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی جنگی تھکن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن کے لیے یہ جنگ اب بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ جب کسی جنگ میں کمانڈ سٹرکچر میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جائیں تو یہ محض عسکری نہیں سیاسی بحران کی بھی علامت ہوتا ہے۔ ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ جدید ٹیکنالوجی‘ فضائی برتری اور Shock and Awe حکمتِ عملی (ایک جدید فوجی نظریہ جس کا مقصد دشمن کو اچانک‘ شدید اور بھرپور طاقت سے مفلوج کر دیا جائے) کے ذریعے ایران کو جلد زیر کر لیا جائے گا‘ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھی بلکہ ایک منظم اور مؤثر جوابی حکمتِ عملی کے ذریعے خود کو ایک مضبوط فریق کے طور پر منوایا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں نے نہ صرف اس کے جوابی وار کی صلاحیت کو ثابت کیا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی بدل دیا ہے۔ جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات‘ ایٹمی پروگرام پر بڑھتا ہوا تنازع‘ جنگ بندی میں توسیع کی باتیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں روز بروز آنے والا یوٹرن‘ یہ سب مل کر ایک ایسی پیچیدہ تصویر بنا رہے ہیں جسے سمجھنا آسان نہیں۔
تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو امریکہ ایران کشیدگی کوئی نئی بات نہیں‘ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ملکوں میں مستقل مخالفت پائی جاتی ہے۔ 2015ء میں ہونے والی ایران نیوکلیئر ڈیل امید کی کرن بن کر سامنے آئی مگر 2018ء میں ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی نے ایک بار پھر حالات کو ملیا میٹ کر دیا۔ آج جب مذاکرات کا دوسرا دور زیر بحث ہے تو اصل مسئلہ ایران ایٹمی پروگرام اور اس پر عائد پابندیاں ہیں‘ یہیں سے تنازع شدت اختیار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز اس جنگ کا سب سے حساس پہلو بن چکی ہے‘ جو عالمی معیشت اور توانائی کے وسائل کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ ایران کی قیادت کی طرف سے اس کی امریکی ناکہ بندی کے خلاف سخت مؤقف اور عملی اقدامات کے اشارے عالمی منڈیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر اس راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ ٹرمپ کے بیانات بھی اس صورتحال کو مزید الجھا رہے ہیں۔ یہ تضاد امریکی پالیسی کو غیرواضح اور بین الاقوامی سطح پر بے یقینی کو بڑھا رہا ہے۔ اس اہم گزرگاہ پر کشیدگی نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے‘ مگر حیران کن طور پر امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اس محاذ پر کھل کر سامنے آنے سے گریزاں ہیں۔ یہ ہچکچاہٹ اس کا ثبوت ہے کہ جنگی تھکن صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ سفارتی اور اتحادی سطح پر بھی سرایت کر چکی ہے۔ دوسری جانب ماسکو اور بیجنگ کا خاموش مگر انتہائی اہم کردار مغرب کے لیے دردِ سر بن چکا ہے۔ توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے جڑا ہونے کی وجہ سے چین خطے میں استحکام چاہتا ہے‘ پاکستان کے ساتھ مل کر اس نے جو پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا‘ اس کو عالمی سطح پر بہت سراہا گیا۔ اقوام متحدہ میں روس کا بعض قراردادوں کو ویٹو کرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر پوتن ایران کو تنہا چھوڑنے کے حق میں نہیں۔ اس نئی صف بندی سے دنیا ایک بار پھر دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو نئی پہچان دی۔ اگرچہ حتمی معاہدہ تاحال نہیں ہوا لیکن جنگ بندی کے نکات پر پیشرفت ضرور ہوئی جو کسی بڑے تصادم کو روکنے کیلئے اہم قدم ہے۔
دوسری جانب اسرائیل بھی اس جنگ کے دباؤ سے محفوظ نہیں رہا۔ مسلسل خطرات‘ فوجی دباؤ اور عوامی بے چینی نے داخلی سطح پر سوالات کو جنم دیا ہے۔ اسرائیلی افواج اور ریزرو فورسز پر بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ شہری آبادی پر مسلسل مزائل حملوں کے باعث نیتن یاہو پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک جو برسوں سے امریکی سکیورٹی پر انحصار کرتے آئے ہیں‘ اب خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ جدید دفاعی نظام ہونے کے باوجودانہیں ایرانی ردعمل کی شدت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے معاشی اور نفسیاتی اثرات واضح ہیں۔پاکستان نے اس دوران متوازن کردار ادا کیا ہے۔ سفارتی کوششوں سے اسلام آباد نے خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف کشیدگی بڑھانے سے روکا اور ممکنہ تباہ کن نتائج کی نشاندہی کی۔ ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کی عسکری برتری نہیں بلکہ اس کی حکمتِ عملی ہے۔ اس نے روایتی جنگ کے بجائے غیر روایتی اور غیر مرکزی طریقہ اختیار کیا ہے جس میں بکھرے ہوئے نیٹ ورکس‘ اتحادی گروہوں اور محدود وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے بڑے دشمن کو الجھایا جاتا ہے۔ یہی حکمتِ عملی اسے ایک طویل جنگ میں برتری دیتی ہے۔ شدید بمباری کے باوجود ایران نے جوابی حملوں کی صلاحیت برقرار رکھی اور بتدریج زیادہ جدید ہتھیاروں کا استعمال کرنے لگا‘ جن میں درست نشانہ لگانے والے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل بھی شامل تھے‘ ساتھ ہی اس کا ڈرون نظام بھی مؤثر ہے۔ ان ہتھیاروں نے ایران کو زیادہ درستگی اور سٹریٹجک اثر حاصل کرنے میں مدد دی۔ داخلی سطح پر ایرانی حکومت کو عوامی حمایت حاصل نظر آتی ہے اور قوم پرستی کے جذبات نے مزاحمت کو تقویت دی۔
اہم سوال یہ ہے کہ آخر امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو زیر کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ اس کا جواب سادہ مگر تلخ ہے۔ ایران ایک بڑا‘ آبادی کے لحاظ سے مضبوط اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ ملک ہے۔ اس کے خلاف مکمل جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے‘ خصوصاً اگر آبنائے ہرمز لمبے عرصے کے لیے بند ہو جائے۔ مزید برآں ایران کی جوابی صلاحیت‘ مختلف محاذوں پر بیک وقت دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اور علاقائی اتحادیوں کا کردار اسے ایک مضبوط دفاعی پوزیشن دیتا ہے۔ تاہم اس تاریک منظرنامے میں امید کی کرن بھی موجود ہے اور وہ ہے امن کی ضرورت کا احساس۔ امریکہ‘ یورپ‘ خلیجی ممالک اور حتیٰ کہ اسرائیل بھی اس حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں کہ طویل جنگ بغیر واضح نتائج کے مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ایران بھی بظاہر مکمل تصادم کے بجائے ایک باعزت مذاکراتی راستہ چاہتا ہے‘ جہاں وہ اپنی شرائط کے ساتھ بات چیت کر سکے۔ ایسے میں پاکستان‘ چین اور روس جیسے ممالک اہم ثالثی کردار ادا کر سکتے ہیں‘ جبکہ اقوامِ متحدہ ایک مؤثر سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔ اعتماد سازی کے چھوٹے اقدامات جیسے محدود جنگ بندی اور سمندری راستوں کی جزوی بحالی امن معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنی انا سے بالاتر ہو کر حقیقت پسندانہ فیصلے کریں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ جنگ ہو گی کہ نہیں بلکہ اب دیکھنا یہ ہے کہ طاقت کا یہ کھیل کونسی نئی کہانی رقم کرے گا۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ جنگ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں مؤثر آواز سفارتکاری کی ہوتی ہے۔