"MAHG" (space) message & send to 7575

امریکہ کاڈالر آبنائے ہرمز میں غرق ؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے‘ مگر اس بار معاملہ صرف کسی ایک ملک یا جنگ تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے سمندری راستے تک جا پہنچا ہے جو پوری دنیا کی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز‘ صرف 21میل چوڑا یہ آبی راستہ آج عالمی طاقت کے توازن‘ توانائی کی سلامتی اور بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا ایران نے جس انداز میں جواب دیا ہے‘ وہ روایتی جنگ سے مختلف مگر نہایت مؤثر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ریاستی نظام میں سمندری گزرگاہوں کو ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو کبھی 'ناقابلِ تصور‘ سمجھا جاتا تھا‘ وہ اب حقیقت بن چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدید اضافے‘ خاص طور پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کی بندش کا اپنا آخری سٹریٹجک پتہ کھیلا جو اَب تک ایران کیلئے نہایت کارگر رہا ہے۔ لیکن تقریباً چار ہفتوں سے آبنائے ہرمز عملاً بند ہونے کی وجہ سے عالمی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہو چکی ہے۔
موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں آبنائے ہرمز ایک اہم سٹریٹجک کارڈ اور عالمی جیو پولیٹکس کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملہ آور ہونے کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک بار پھر پوری دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ آبی گزرگاہیں عالمی معیشت کیلئے کس قدر حساس اور ناگزیر ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلے نے ہی ایران اسرائیل جنگ میں ایران کا پلڑا بھاری رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز تقریباً 167 کلومیٹر طویل ہے جبکہ اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر مختلف ہے۔ کچھ جگہوں پر یہ تقریباً 97کلومیٹر تک پھیل جاتی ہے جبکہ تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی تقریباً 39کلومیٹر اور بعض اندازوں کے مطابق 33کلومیٹر تک رہ جاتی ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔ اسی وجہ سے یہ راستہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سیاسی اور عسکری اعتبار سے بھی نہایت حساس سمجھا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب ایران کا صوبہ ہرمزگان واقع ہے جہاں ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس موجود ہے۔ اس کے قریب قشم‘ ہرمز‘ ہنگام اور لار جیسے جزائر بھی ہیں‘ جو اس علاقے کی سٹریٹجک اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ میں واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جو خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور آگے بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ یہ عالمی تیل کی تجارت‘ علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے‘ اسی لیے اسے عالمی معیشت کی 'شہ رگ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کی معیشت‘ تجارت اور سیاست اس سے متاثر ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
اسرائیل براہِ راست اس آبنائے پر واقع نہیں لیکن ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اثرات اسرائیل اور اس کے اتحادیوں تک بھی پہنچ رہے ہیں کیونکہ امریکہ اور مغربی ممالک کی معیشت تیل پر منحصر ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کی تقریباً 20فیصد LNG کی برآمدات بھی ہوتی ہیں جسکا زیادہ تر حصہ قطر سے ایشیا کو بھیجا جاتا ہے۔ تیل اور گیس کے علاوہ ہرمز خلیج میں پیدا ہونے والے پیٹروکیمیکلز اور کھادوں کیلئے ایک اہم راہداری کے طور پر کام کرتا ہے‘ جو دنیا بھر کی زرعی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے یہ آبی گزرگاہ ایندھن اور خوراک دونوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے‘ اور اسی لیے اسے دنیا کا سب سے اہم سمندری چوک قرار دیا جاتا ہے۔
ہرمز ایک ایسا سٹریٹجک میدان ہے جہاں جغرافیہ‘ تاریخ‘ معاشیات اور سیاست آپس میں ملتے ہیں۔ تیل کی جدید تجارت سے قبل‘ زمانۂ قدیم میں بھی آبنائے ہرمز بڑے تجارتی نظام کا حصہ رہی ہے۔ 1930ء کی دہائی سے خلیج سے تیل کی برآمدات میں تیزی آئی اور روایتی کارگو جہازوں کی جگہ ٹینکروں نے لے لی۔ 20ویں صدی کے آخر تک آبنائے ہرمز تیل کی عالمی تجارت کا مرکز بن چکی تھی۔ 1979ء کے انقلاب ایران اور اس کے بعد 1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ نے ہرمز کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا مستقل مرکز بنا دیا۔ آبنائے ہرمز کی جدید عالمی اہمیت سب سے بڑھ کر خلیج کے ہائیڈروکاربن وسائل کیلئے اہم برآمدی راہداری کے طور پر اسکے کردار پر منحصر ہے۔ دنیا کے چند ہی خطوں میں تیل اور قدرتی گیس کے اتنے بڑے ذخائر اتنے محدود جغرافیائی علاقے میں مرتکز ہیں۔ خلیجی ریاستوں کے پاس ہائیڈروکاربن کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور ان وسائل کو برآمد کرنے کی انکی صلاحیت کا انحصار سمندری راستوں پر ہی ہے۔
سعودی عرب آبنائے ہرمز کے ذریعے روزانہ تقریباً 55لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتا ہے۔ عراق کے جنوبی برآمدی ٹرمینلز روزانہ کئی ملین بیرل اسی راستے سے برآمد کرتے ہیں جبکہ کویت اور متحدہ عرب امارات بھی نمایاں مقدار میں اپنا تیل اسی بحری راتے سے بیچتے ہیں۔ خام تیل کے علاوہ ڈیزل‘ پٹرول اور دیگر ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات بھی بڑی مقدار میں ہرمز سے گزرتی ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک ایسے قانونی سنگم کی نمائندگی بھی کرتی ہے جہاں سمندری قانون‘ ریاستی خودمختاری اور عالمی اقتصادی مفادات آپس میں ٹکراتے اور جڑتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2025ء میں تقریباً 112بلین کیوبک میٹر LNG آبنائے ہرمز سے گزری‘ جس میں قطر سب سے بڑا برآمد کنندہ رہا۔ آج تقریباً 84فیصد خام تیل اور کنڈینسیٹ کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے جبکہ 83فیصد LNG ایشیائی منڈیوں کیلئے اسی راستے سے جاتی ہے۔آبنائے ہرمز کی جغرافیائی حیثیت ایران کو ایک غیرمعمولی برتری فراہم کرتی ہے۔ اس گزرگاہ کے اہم حصے ایرانی سمندری حدود کے قریب واقع ہیں جس کی وجہ سے ایران نہ صرف اس آبنائے کی نگرانی بلکہ اس کے عملی کنٹرول کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ دنیا کے 20فیصد تیل کی سپلائی اب کسی امریکی بحری بیڑے یا بین الاقوامی قانون کے رحم و کرم پر نہیں رہی بلکہ ایک حساس توازن کا حصہ بن چکی ہے۔ امریکہ کا پٹروڈالر اس وقت ہرمز کے پانیوں میں دباؤ کا شکار نظر آتا ہے۔ ایران کے مطابق صرف انہی ملکوں کے جہاز گزر سکتے ہیں جو اس کے خلاف کارروائیوں میں شامل نہ ہوں۔ امریکی و صہیونی پالیسیوں کے خلاف ایران کا یہ معاشی وار ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ایران کی حکمتِ عملی سادہ مگر مؤثر ہے۔ اسے مکمل جنگ یا آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی ضرورت نہیں بلکہ محدود پیمانے کی کارروائیاں ہی عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ یہی غیر یقینی صورتحال ایران کا سب سے بڑا ہتھیار ہے کیونکہ امریکہ کیلئے اپنے بحری بیڑوں اور اتحادیوں کی موجودگی کے باوجود ایسے علاقے میں مکمل سکیورٹی فراہم کرنا‘ جہاں دشمن غیر روایتی حکمتِ عملی اختیار کرے‘ نہایت مشکل اور مہنگا عمل ہے۔
آج ایران آبنائے ہرمز کی بندش سے تاریخ کا نیا باب لکھ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آنے والے وقت میں اس اہم گزرگاہ کا کنٹرول کس کے پاس ہو گا اور کون عالمی توانائی کے بہاؤ کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر ایران اپنی موجودہ حکمتِ عملی کے ذریعے عالمی نظام کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ مستقبل کی جنگوں کی نوعیت کو بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی سیاست‘ معیشت اور طاقت کے کھیل کا مرکز بن چکی ہے جہاں ہونے والے فیصلے آنے والے برسوں میں دنیا کی سمت کا تعین کریں گے۔ درحقیقت اب دنیا میں طاقت کے نظریات بدل چکے ہیں۔ ایک عالمی طاقت بننے کیلئے مضبوط عسکری قوت کے ساتھ بحری برتری حاصل کرنا وقت کا بنیادی تقاضا ہے ‘ یہی پیغام ایران نے دنیا کو دیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں